Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2581

خلافت و امارت کے مسائل

باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان

3 hadiths in this chapter

12428

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12428

Sahih

۔ (۱۲۴۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ، أَنَّہُ جَائَ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ لَیَالِیَ الْحَرَّۃِ، فَاسْتَشَارَہُ فِی الْجَلَائِ مِنَ الْمَدِینَۃِ، وَ شَکَا إِلَیْہِ أَسْعَارَہَا وَکَثْرَۃَ عِیَالِہِ، وَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ لَا صَبْرَ لَہُ عَلٰی جَہْدِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: وَیْحَکَ! لَا آمُرُکَ بِذٰلِکَ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَصْبِرُ أَحَدٌ عَلٰی جَہْدِ الْمَدِینَۃِ وَلَأْوَائِہَا فَیَمُوتُ إِلَّا کُنْتُ لَہُ شَفِیعًا أَوْ شَہِیدًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِذَا کَانَ مُسْلِمًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے کہ وہ واقعہ حرہ کے دوران سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور مدینہ منورہ سے باہر کسی دوسری جگہ جانے کی بابت ان سے مشورہ طلب کیا اور بطور شکوہ کہا کہ اس کے اہل و عیال بہت ہیں اور یہاں کافی مہنگائی ہے، اس لیے وہ یہاں کی مشقت کو برداشت نہیں کرسکتا، انہوں نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے،میں تمہیں اس بات کا مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو مسلمان مدینہ منورہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو برداشت کرے اور اسی حال میں وفات پا جائے تو میں قیامت کے روز اس کے حق میں سفارشی ہوں گا، یا یوں فرمایا کہ اس کے حق میں گواہ ہوں گا۔

12429

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12429

Sahih

۔ (۱۲۴۲۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ أَمِیرًا مِنْ أُمَرَائِ الْفِتْنَۃِ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، وَکَانَ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِیلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّیْتَ عَنْہُ، فَخَرَجَ یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ فَنُکِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ ابْنَاہُ أَوْ أَحَدُہُمَا: یَا أَبَتِ وَکَیْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ أَخَافَ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَیْنَ جَنْبَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔

12430

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12430

Sahih

۔ (۱۲۴۳۰)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشْرَفَ عَلَی أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: ((ہَلْ تَرَوْنَ مَا أَرٰی إِنِّی لَأَرٰی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے کی طرف نظر ڈالی اور فرمایا: جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، کیا تمہیں بھی دکھائی دے رہا ہے؟ میں فتنوں اور مصیبتوں کے مقامات دیکھ رہا ہوں۔