Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2579

خلافت و امارت کے مسائل

فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان

3 hadiths in this chapter

12424

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12424

Zaeef

۔ (۱۲۴۲۴)۔ عن شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ جَائَ نَعْیُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ، لَعَنَتْ أَہْلَ الْعِرَاقِ، فَقَالَتْ: قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ، غَرُّوہُ وَذَلُّوہُ، قَتَلَہُمُ اللّٰہُ، فَإِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَائَ تْہُ فَاطِمَۃُ غَدِیَّۃً بِبُرْمَۃٍ، قَدْ صَنَعَتْ لَہُ فِیہَا عَصِیدَۃً، تَحْمِلُہُ فِی طَبَقٍ لَہَا حَتّٰی وَضَعَتْہَا بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ لَہَا: أَیْنَ ابْنُ عَمِّکِ؟ قَالَتْ: ہُوَ فِی الْبَیْتِ، قَالَ: ((فَاذْہَبِی فَادْعِیہِ وَائْتِنِی بِابْنَیْہِ۔)) قَالَتْ: فَجَائَتْ تَقُودُ ابْنَیْہَا کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بِیَدٍ، وَعَلِیٌّیَمْشِی فِی إِثْرِہِمَا حَتّٰی دَخَلُوا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَہُمَا فِی حِجْرِہِ، وَجَلَسَ عَلِیٌّ عَنْ یَمِینِہِ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَۃُ عَنْ یَسَارِہِ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: فَاجْتَبَذَ مِنْ تَحْتِی کِسَائً خَیْبَرِیًّا، کَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَی الْمَنَامَۃِ فِی الْمَدِینَۃِ، فَلَفَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ جَمِیعًا، فَأَخَذَ بِشِمَالِہِ طَرَفَیِ الْکِسَائِ وَأَلْوٰی بِیَدِہِ الْیُمْنٰی إِلٰی رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَہْلِی أَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا، اللَّہُمَّ أَہْلُ بَیْتِی أَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا، اللَّہُمَّ أَہْلُ بَیْتِی أَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَسْتُ مِنْ أَہْلِکَ؟ قَالَ: ((بَلٰی، فَادْخُلِی فِی الْکِسَائِ۔)) قَالَتْ: فَدَخَلْتُ فِی الْکِسَائِ بَعْدَمَا قَضٰی دُعَائَہُ لِابْنِ عَمِّہِ عَلِیٍّ وَابْنَیْہِ وَابْنَتِہِ فَاطِمَۃَ ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو میں نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنا کہ انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی اور کہا: انہوں نے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے، اللہ ان لوگوں کو قتل کرے، اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے، انہوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور بے وفائی کی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا صبح سویرے ایک دیگچی لے کر آئیں، جس میں انہوں نے کھانا تیار کیا تھا اور اسے ایک تھا ل میں رکھا ہوا تھا،انہوں نے اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاراچچازاد کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ گھر پر ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو اور دونوں بچوں کو بھی بلاؤ، وہ جا کر اپنے دونوں بچوں کو لے آئیں، دونوں کو ایک ایک ہاتھ میں پکڑ کر لا رہی تھیں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پیچھے پیچھے تھے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچوں کو اپنی گود میں بٹھالیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کی دائیں جانب اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے نیچے سے خیبری چادر کھینچ لی، وہ مدینہ میں ہمارے بچھونے کی چادر تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چادر ان سب کے اوپر ڈال دی اور اپنے بائیں ہاتھ سے چادر کی دونوں اطراف کو پکڑ کر دایاں ہاتھ اللہ کی طرف اٹھا کر فرمایا: یا اللہ یہ لوگ میرے اہل خانہ ہیں، ان سے پلیدی کو دور کر اور انہیں خوب پاک کردے۔ یہ دعا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ کی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے اہل میں سے نہیں ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، تم بھی چادر کے اندر آجاؤ۔ جب میں چادر کے اندر داخل ہوئی تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے چچا زاد سیدنا علی، اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور ان کے بیٹوں کے حق میں دعا کر کے فارغ ہوچکے تھے۔

12425

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12425

Sahih

۔ (۱۲۴۲۵)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِییَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی نُعَیْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنْ شَیْئٍ، قَالَ شُعْبَۃُ: وَأَحْسِبُہُ سَأَلَہُ عَنِ الْمُحْرِمِ یَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَہْلُ الْعِرَاقِ یَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہُمَا رَیْحَانَتَیَّ مِنَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۵۵۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ کسی (عراقی آدمی) نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی احرام کی حالت میں مکھی مارڈالے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ انھوں نے کہا: اہل عراق مکھی مارنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نواسے کو قتل کر ڈالا ہے، جس کے متعلق رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں یعنی حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

12426

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12426

Zaeef

۔ (۱۲۴۲۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا دَاوٗدُبْنُ عُمَرَ،ثَنَانَافِعُ بْنُ عُمَرَبْنِ جَمِیْلٍ الْجُمَحِیِّ، قَالَ: رَاَیْتُ عَطَائَ بْنَ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ وَ عِکْرَمَۃَ بْنَ خَالِدٍ یَرْمُوْنَ الْجَمْرَۃَ قَبْلَ الْفَجْرِ یَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: یَا اَبَا سُلَیْمَانَ! أَیَّ سَنَۃٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: سَنَۃَ تِسْعٍ وَسِتِّینَ وَمِائَۃٍ سَنَۃَ وَقْعَۃِ الْحُسَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

نافع بن عمر جمحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے عطاء بن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا، انھوں نے نحر والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو قبل از فجر رمی یعنی جمرے کو کنکریاں ماریں،میرے والد نے ان سے کہا: اے ابو سلیمان! آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی؟ انھوں نے کہا: حسین کی شہادت والے سال ۱۶۹ ہجری میں۔