Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2575

خلافت و امارت کے مسائل

یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان

1 hadith in this chapter

12418

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12418

Sahih

۔ (۱۲۴۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، حَدَّثَنِیْ صَخْرُ بْنُ جُوَیْرِیَۃَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَمَّا خَلَعَ النَّاسُ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ، جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَنِیہِ وَأَہْلَہُ، ثُمَّ تَشَہَّدَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّا قَدْ بَایَعْنَا ہٰذَا الرَّجُلَ عَلٰی بَیْعِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ، وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ الْغَادِرَ یُنْصَبُ لَہُ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِیُقَالُ: ہٰذِہٖغَدْرَۃُ فُلَانٍ۔)) وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ اِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی أَنْ یُبَایِعَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلٰی بَیْعِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ، ثُمَّ یَنْکُثَ بَیْعَتَہُ، فَلَا یَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِّنْکُمْیَزِیدَ، وَلَا یُشْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ فِی ہَذَا الْأَمْرِ، فَیَکُونَ صَیْلَمٌ بَیْنِی وَ بَیْنَہُ۔ (مسند احمد: ۵۰۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے مروی ہے کہ جب بعض لوگ یزید کی بیعت سے دستبردار ہو گئے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحب زادوں اور اہل خانہ کو بلا کر توحید و رسالت کی گواہی دی اور پھر کہا: ہم نے اللہ اوراس کے رسول کی خاطر اس یزید کی بیعت کی ہے اور میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن چکا ہوں کہ : بے وفا دھوکہ باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا او رکہاجائے گا کہ یہ فلاں کے دھوکہ کی علامت ہے۔ سب سے بڑا دھوکہ اور بے وفائی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہی نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کی خاطر کسی آدمی کی بیعت کرے اور پھر اس کو توڑڈالے، تم میں سے کوئی بھی یزید کا ساتھ نہ چھوڑے اور خلافت و امارت کے سلسلہ میں کسی بھی دوسری طرف نہ جھانکے، ورنہ اور اس کے میرے درمیان تلوار ہو گی (یعنی میں اس کے ساتھ سخت معاملہ کروں گا)۔