Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2545

خلافت و امارت کے مسائل

باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا

5 hadiths in this chapter

12286

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12286

Zaeef

۔ (۱۲۲۸۶)۔ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ إِذَا شَہِدَ مَشْہَدًا، أَوْ أَشْرَفَ عَلَی أَکَمَۃٍ، أَوْ ہَبَطَ وَادِیًا، قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِییَشْکُرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ حَتّٰی نَسْأَلَہُ عَنْ قَوْلِہِ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَیْہِ، فَقُلْنَا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! رَأَیْنَاکَ إِذَا شَہِدْتَ مَشْہَدًا، أَوْ ہَبَطْتَ وَادِیًا، أَوْ أَشْرَفْتَ عَلٰی أَکَمَۃٍ، قُلْتَ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، فَہَلْ عَہِدَ رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْکَ شَیْئًا فِی ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنَّا وَأَلْحَحْنَا عَلَیْہِ، فَلَمَّا رَأٰی ذٰلِکَ قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا عَہِدَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہْدًا إِلَّا شَیْئًا عَہِدَہُ إِلَی النَّاسِ، وَلٰکِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا عَلٰی عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَتَلُوہُ، فَکَانَ غَیْرِی فِیہِ أَسْوَأَ حَالًا وَفِعْلًا مِنِّی، ثُمَّ إِنِّی رَأَیْتُ أَنِّی أَحَقُّہُمْ بِہٰذَا الْأَمْرِ، فَوَثَبْتُ عَلَیْہِ فَاللّٰہُ أَعْلَمُ، أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عباد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں سفر کر رہے تھے، وہ جب کسی جگہ پہنچتے یا کسی ٹیلے پر چڑھتے یا کسی وادی میں اترتے تو یوں کہتے:سُبْحَانَ اللّٰہِ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ۔ (اللہ ہر نقص سے پاک ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے)۔میں نے بنی یشکر کے ایک فرد سے کہا: آؤ امیر المومنین کی خدمت میں چلتے ہیں، تاکہ ان سے اس قول کی بابت دریافت کریں، پس ہم ان کی خدمت میں گئے اور کہا: امیر المومنین! ہم نے دیکھا ہے کہ جب آپ کسی جگہ پہنچے یا کسی وادی میں اترے یا کسی ٹیلے پر چڑھے تو آپ نے یہ کلمات کہے: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ۔ (اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے)۔ کیا اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو کوئی خاص ہدایت فرمائی ہے، پس انہوں نے ہم سے اعراض کیا ، لیکن جب ہم نے اصرار کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کچھ عام لوگوں سے فرمایا ہے، مجھے بھی وہی حکم دیا ہے، لیکن لوگ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہوگئے اور انہیں شہید کر ڈالا، میرے سوا دوسرے لوگوں کا حال اور فعل بہت برا تھا، سو میں نے دیکھا کہ دوسروں کی بہ نسبت میں اس خلافت کا زیادہ حق دار ہوں تو میں اس کی طرف لپک آیا، اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم نے صحیح کیا یا غلط کیا۔

12287

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12287

Zaeef

۔ (۱۲۲۸۷)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِعَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((اَنْتَ وَلِیِّیْ فِیْ کُلٍِ مُؤْمِنٍ بَعْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۰۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم میرے بعد ہر مومن کے ساتھی اور دوست ہو۔

12288

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12288

Zaeef

۔ (۱۲۲۸۸)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ، فَأَحْدَثَ شَیْئًا فِی سَفَرِہِ فَتَعَاہَدَ، قَالَ عَفَّانُ: فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَذْکُرُوا أَمْرَہُ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ عِمْرَانُ: وَکُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَیْہِ، قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ عَلِیًّا فَعَلَ کَذَا وَکَذَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِی: فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلِیًّا فَعَلَ کَذَا وَکَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ: فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلِیًّا فَعَلَ کَذَا وَکَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلِیًّا فَعَلَ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَاَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرَّابِعِ، وَقَدْ تَغَیَّرَ وَجْہُہُ فَقَالَ: ((دَعُوْا عَلِیًّا، دَعُوْا عَلِیًّا، اِنَّ عَلِیًّا مِنِّیْ وَاَنَا مِنْہُ، وَھُوَ وَلِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان پر امیر مقرر فرمایا،دوران سفر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کوئی ایسا کام ہوا کہ چار صحابہ نے مل کر پکا عزم کیا کہ وہ ان کی اس بات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ذکر کریں گے، سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہمارا معمول تھا کہ جب ہم سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے، آپ کو سلام کہتے۔ پس وہ کہتے ہیں: وہ چاروں آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں آئے، ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کیا، پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی کہا کہ اے اللہ کے رسول! علی نے یوں یوں کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بھی منہ موڑ لیا، پھر تیسرا آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ا س سے بھی اپنا رخ پھیر لیا، اتنے میں چوتھا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چوتھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہوچکا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی کو چھوڑ دو، علی کو چھوڑدو، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میرے بعد وہ ہر مومن کا دوست اور ساتھی ہے۔

12289

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12289

Zaeef

۔ (۱۲۲۸۹)۔ وَعَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ: ((فَاِنَّہُ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْہُ، وَھُوَ وَلِیُّکُمْ بَعْدِیْ، وَاِنَّہٗمِنِّیْ وَأَنَا مِنْہُ وَھُوَ وَلِیُّکُمْ بَعْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: پس بیشک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، میرے بعد وہ تم کا دوست اور ساتھی ہے، وہ مجھ سے ہے اور میں ا س سے ہوں اور وہ میرے بعد تم سب کا دوست ہے۔

12290

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12290

Zaeef

۔ (۱۲۲۹۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: کَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبْوَابٌ شَارِعَۃٌ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَقَالَ یَوْمًا: ((سُدُّوا ہٰذِہِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِیٍّ۔)) قَالَ: فَتَکَلَّمَ فِی ذٰلِکَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّی أَمَرْتُ بِسَدِّ ہٰذِہِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِیٍّ، وَقَالَ فِیہِ قَائِلُکُمْ، وَإِنِّی وَاللّٰہِ! مَا سَدَدْتُ شَیْئًا، وَلَا فَتَحْتُہُ وَلٰکِنِّی أُمِرْتُ بِشَیْئٍ فَاتَّبَعْتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کچھ صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن فرمایا: علی کے دروازے کے سوا باقی سب دروازے بند کردو۔ لوگوں نے اس بارے میں باتیں کیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناکی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! میں نے حکم دیا ہے کہ یہ تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سواے علی کے دروازے کے، تم میں سے بعض باتیں بنانے والوں نے کچھ باتیں بنائی ہیں، اللہ کی قسم! میں نے خود کسی چیز کو نہ بند کیا ہے اور نہ کھولا ہے، مجھے تو بس جو حکم ملا ہے، میں نے اسی کی ابتاع کی ہے۔