Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2542

خلافت و امارت کے مسائل

فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا

2 hadiths in this chapter

12275

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12275

Sahih

۔ (۱۲۲۷۵)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّہِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبِیدَۃَ، حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُجَبَّرٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَشْرَفَ عَلَی الَّذِینَ حَصَرُوہُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَلَمْ یَرُدُّوا عَلَیْہِ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَفِی الْقَوْمِ طَلْحَۃُ؟ قَالَ طَلْحَۃُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، أُسَلِّمُ عَلٰی قَوْمٍ أَنْتَ فِیہِمْ فَلَا تَرُدُّونَ، قَالَ: قَدْ رَدَدْتُ، قَالَ: مَا ہٰکَذَا الرَّدُّ أُسْمِعُکَ وَلَا تُسْمِعُنِییَا طَلْحَۃُ! أَنْشُدُکَ اللّٰہَ أَسَمِعْتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یُحِلُّ دَمَ الْمُسْلِمِ إِلَّا وَاحِدَۃٌ مِنْ ثَلَاثٍ، أَنْ یَکْفُرَ بَعْدَ إِیمَانِہِ، أَوْ یَزْنِیَ بَعْدَ إِحْصَانِہِ، أَوْ یَقْتُلَ نَفْسًا فَیُقْتَلَ بِہَا۔)) قَالَ: اللَّہُمَّ نَعَمْ، فَکَبَّرَ عُثْمَانُ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا أَنْکَرْتُ اللّٰہَ مُنْذُ عَرَفْتُہُ، وَلَا زَنَیْتُ فِی جَاہِلِیَّۃٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَقَدْ تَرَکْتُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ تَکَرُّہًا وَفِی الْإِسْلَامِ تَعَفُّفًا، وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا یَحِلُّ بِہَا قَتْلِی۔ (مسند احمد: ۱۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

مجبر کہتے ہیں: جن لوگوں نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مکان کا محاصرہ کیا ہوا تھا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مکان کے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر انہیں سلام کہا، لیکن ان لوگوں نے سلام کا جواب نہیں دیا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا کہ تم لوگوں میں سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود ہیں؟ سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، میں لوگوں کو سلام کہہ رہا ہوں، جبکہ تم ان میں موجود ہو اور تم سلام کا جواب نہیں دے رہے؟ یہ کس قدر افسوسناک بات ہے، سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں نے جواب دیا ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: طلحہ! جواب اس طرح نہیں دیا جاتا، تم میری آواز سن رہے ہو اور میں تمہاری آواز نہیں سن رہا، اچھا طلحہ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ اِن تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں کسی مسلمان کاخون بہانا جائز نہیں: ایمان کے بعد کفر کرنا یعنی مرتدّ ہو جاتا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنا، یا کسی کو قتل کرنا، قتل کے بدلے قاتل کو قتل کر دیا جائے گا۔ سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ گواہ ہے کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ اکبر، میں نے جب سے اللہ کو پہچانا ہے، میں نے اس کا انکار نہیں کیا، اور نہ میں نے جاہلیت کے دور میں زنا کیا اور نہ اسلام قبول کرنے کے بعد، میں تو قبل از اسلام بھی اس کو انتہائی ناپسند سمجھتا تھا اور بعد ازاسلام گناہ سے بچتے ہوئے میں نے اس کا ارتکاب نہیں کیا اور میں نے کسی ایسی جان کو قتل نہیں کیا، جس کے بدلے میں مجھے قتل کیا جائے۔

12276

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12276

Zaeef

۔ (۱۲۲۷۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: شَہِدْتُ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَوْمَ حُوصِرَ فِی مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ، وَلَوْ أُلْقِیَ حَجَرٌ لَمْ یَقَعْ إِلَّا عَلٰی رَأْسِ رَجُلٍ، فَرَأَیْتُ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَۃِ الَّتِی تَلِی مَقَامَ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام، فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ! أَفِیکُمْ طَلْحَۃُ؟ فَسَکَتُوا، ثُمَّ قَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ! أَفِیکُمْ طَلْحَۃُ؟ فَسَکَتُوا، ثُمَّ قَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَفِیکُمْ طَلْحَۃُ؟ فَقَامَ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَلَا أَرَاکَ ہَاہُنَا، مَا کُنْتُ أَرٰی أَنَّکَ تَکُونُ فِی جَمَاعَۃٍ تَسْمَعُ نِدَائِی آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ، ثُمَّ لَا تُجِیبُنِی، أَنْشُدُکَ اللّٰہَ یَا طَلْحَۃُ! تَذْکُرُ یَوْمَ کُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا، لَیْسَ مَعَہُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ غَیْرِی وَغَیْرُکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا طَلْحَۃُ! اِنَّہٗلَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا وَمَعَہٗمِنْاَصْحَابِہٖرَفِیْقٌ مِنْ اُمَّتِہٖمَعَہٗفِی الْجَنَّۃِ، وَاِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ہَذٰا یَعْنِیْنِیْ رَفِیْقِیْ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ طَلْحَۃُ: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ، (مسند احمد: ۵۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

اسلم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جن دنوں میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ محصور تھے، میں اس جگہ تھا، جہاں جنازے پڑھے جاتے ہیں، اور لوگوں کا ازدحام اس قدر تھا کہ اگر پتھر پھینکا جاتا تو وہ کسی نہ کسی کے سر پر لگتا،میں نے دیکھا کہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے مکان کے اس سوراخ سے باہر کو جھانکا جو مقام جبریل علیہ السلام سے متصل ہے، انہوں نے کہا: لوگو! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، انھوں نے پھر کہا: لوگو! کیا تمہارے اندر طلحہ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تیسری بار کہا: لوگو! کیا تمہارے اندر طلحہ موجود ہیں؟ بالآخر سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ان لوگوں میں نہیں دیکھ رہا؟ میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم کسی جماعت کے اندر ہو اورمیں تمہیں تین بار پکاروں اور تم جواب تک نہ دو؟ طلحہ! اب میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں یا د ہے کہ ایک روز میں اور تم فلاں مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھے، میرے اور تمہارے سوا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ کوئی دوسرا ساتھی نہ تھا، سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاںـ،سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم سے کہا تھا: طلحہ! ہر نبی کا اس کی امت میں سے ایک صحابی جنت میں اس نبی کا ساتھی ہوگا اور یہ عثمان بن عفان جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ گواہ ہے، مجھے یاد ہے، اس کے بعد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس اتر گئے۔