Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2531

خلافت و امارت کے مسائل

فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا

4 hadiths in this chapter

12237

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12237

Sahih

۔ (۱۲۲۳۷)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ہِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ، قَالَ: کَانَ یَقُولُ فِی خِلَافَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا یَمُوتُ عُثْمَانُ حَتّٰییُسْتَخْلَفَ، قُلْنَا: مِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ کَأَنَّہُ ثَلَاثَۃٌ مِنْ أَصْحَابِی وُزِنُوْا فَوُزِنَ أَبُو بَکْرٍ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صَاحِبُنَا، وَہُوَ صَالِحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

اسو د بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتے تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جب تک خلافت نہیں ملے گی، انہیں اس وقت تک موت نہیں آئے گی۔ ہم نے کہا: تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے گزشتہ رات نیند میں دیکھا ہے کہ گویا میرے تین صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیاگیا، پس ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا، وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاوزن کیا گیا، وہ بھی بھاری رہے، بعد ازاں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا تو وہ ذرا کم وزن تھے، بہرحال وہ بھی صالح آدمی ہیں۔

12238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12238

Sahih

۔ (۱۲۲۳۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! لَوْ کَانَ عِنْدَنَا مَنْ یُحَدِّثُنَا۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا أَبْعَثُ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ؟ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ کَانَ عِنْدَنَا مَنْ یُحَدِّثُنَا۔)) فَقُلْتُ: أَلَا أَبْعَثُ إِلٰی عُمَرَ؟ فَسَکَتَ، قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا وَصِیفًا بَیْنَیَدَیْہِ فَسَارَّہُ فَذَہَبَ، قَالَتْ: فَإِذَا عُثْمَانُ یَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَہُ، فَدَخَلَ فَنَاجَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَوِیلًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُکَ قَمِیصًا، فَإِنْ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُونَ عَلٰی أَنْ تَخْلَعَہُ فَلَا تَخْلَعْہُ لَہُمْ وَلَا کَرَامَۃَ۔)) یَقُولُہَا لَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کاش ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: کیا میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ لیکن آپ اس بار بھی خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خادم کو بلوایا اور راز دارنہ انداز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی، وہ چلا گیا،تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دی اور وہ اندر تشریف لے آئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کافی دیر تک ان کے ساتھ سرگوشی کرتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عثمان! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اس قمیص کو اتارنے کا مطالبہ کریں تو ان کے کہنے پر تم اسے نہ اتارنا، کیونکہ اس کے اتارنے میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

12239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12239

Sahih

۔ (۱۲۲۳۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ أَقْبَلت إِحْدَانَا عَلَی الْأُخْرٰی، فَکَانَ مِنْ آخِرِ کَلَامٍ کَلَّمَہُ أَنْ ضَرَبَ مَنْکِبَہُ، وَقَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ عَسٰی أَنْ یُلْبِسَکَ قَمِیْصًا، فَإِنْ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلٰی خَلْعِہٖفَلَاتَخْلَعْہٗحَتّٰی تَلْقَانِیْ،یَا عُثْمَانُ! إِنَّ اللّٰہَ عَسٰی أَنْ یُلْبِسَکَ قَمِیْصًا فَإِنْ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلٰی خَلْعِہٖفَلَاتَخْلَعْہُحَتّٰی تَلْقَانِیْ ثَلَاثًا۔)) فَقُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ! فَأَیْنَ کَانَ ہَذٰا عَنْکِ؟ قَالَتْ: نَسِیْتُہُ وَاللّٰہِ! فَمَا ذَکَرْتُہُ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُہُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ فَلَمْ یَرْضَ بِالَّذِیْ أَخْبَرْتُہُ حَتّٰی کَتَبَ إِلٰی أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنْ اکْتُبِیْ إِلَیَّ بِہِ، فَکَتَبَتْ إِلَیْہِ بِہٖکِتَابًا۔ (مسنداحمد: ۲۵۰۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے، جب ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حالت میں دیکھا تو ہم ایک طرف جا کر جمع ہوگئیں، تاکہ آپ آزادی سے گفتگو کرسکیں، بات چیت ہوتی رہی، آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ ما ر کر فرمایا: عثمان! امید ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین تم سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو مجھے ملنے تک اس قمیض کو نہ اتارنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی۔ سیدنا نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یہ حدیث اب تک کہاں رہی؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں بھول گئی تھی، اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں رہی تھی، سیدنا نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتلائی، لیکن انہیں میری خبر پر تسلی نہ ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لکھ بھیجا کہ وہ یہ حدیث لکھوا کر ارسال کردیں، پس سیدہ نے ایک تحریر ان کو بھجوادی، جس میں یہ حدیث لکھی ہوئی تھی۔

12240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12240

Zaeef

۔ (۱۲۲۴۰)۔ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا اسْتَمَعْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّۃً، فَإِنَّ عُثْمَانَ جَائَہُ فِی نَحْرِ الظَّہِیرَۃِ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُ جَائَہُ فِی أَمْرِ النِّسَائِ، فَحَمَلَتْنِی الْغَیْرَۃُ عَلٰی أَنْ أَصْغَیْتُ إِلَیْہِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْبِسُکَ قَمِیصًا، تُرِیدُکَ أُمَّتِی عَلٰی خَلْعِہِ فَلَا تَخْلَعْہُ۔)) فَلَمَّا رَأَیْتُ عُثْمَانَ یَبْذُلُ لَہُمْ مَا سَأَلُوہُ إِلَّا خَلْعَہُ، عَلِمْتُ أَنَّہُ مِنْ عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِی عَہِدَ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بے خبری میں صرف ایک بار آپ کی بات سننے کی کوشش کی اور سنی، تفصیل یہ ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوپہر کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے سمجھا کہ شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں کے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے، پس میری غیرت نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں نے اپنے کان اُدھر لگا دئیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیص پہنائے گا، میری امت کے لوگ تم سے مطالبہ کریں گے کہ تم اس قمیض کو اتار دو، مگر تم نے وہ قمیص نہیں اتارنی۔ جب میں نے دیکھا کہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کی ہربات کو پورا کرتے آرہے ہیں، البتہ اس خلافت سے دست بردار نہیں ہورہے تو میں جان گئی کہ یہ وہی بات اور عہد ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے کیا تھا۔