Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2518

خلافت و امارت کے مسائل

فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا

5 hadiths in this chapter

12205

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12205

Sahih

۔ (۱۲۲۰۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَدْ کَانَ فِی الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ یَکُنْ مِنْ أُمَّتِی فَعُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گزشتہ امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے، جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا، اگر میری امت میں کوئی ایسا آدمی ہے تو وہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہو گا۔

12206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12206

Sahih

۔ (۱۲۲۰۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ قَدْ کَانَ فِیمَا مَضٰی قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ یُحَدَّثُونَ، وَإِنَّہُ إِنْ کَانَ فِی أُمَّتِی ہٰذِہِ مِنْہُمْ أَحَدٌ، فَإِنَّہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے پہلی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے کہ جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا، اگر میری امت میں کوئی ایسا آدمی ہواتو وہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں گے۔

12207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12207

Sahih

۔ (۱۲۲۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَی قَلْبِ عُمَرَ وَلِسَانِہِ۔)) قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ، فَقَالُوْا فِیہِ، وَقَالَ فِیہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَوْ قَالَ عُمَرُ، إِلَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُُ۔ (مسند احمد: ۵۶۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دل و زبان پر حق جاری کر دیا ہے۔ جب لوگوں کو کوئی معاملہ پیش آتا اور مختلف افراد اپنی اپنی رائے دیتے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی رائے دیتے تو قرآن مجید سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کی موافقت میں نازل ہوتا تھا۔

12208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12208

Sahih

۔ (۱۲۲۰۸)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ فِی ثَلَاثٍ، أَوْ وَافَقَنِی رَبِّی فِی ثَلَاثٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَوِ اتَّخَذْتَ الْمَقَامَ مُصَلًّی؟ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} وَقُلْتُ: لَوْ حَجَبْتَ عَنْ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ، فَإِنَّہُ یَدْخُلُ عَلَیْکَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَأُنْزِلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ، قَالَ: وَبَلَغَنِی عَنْ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئٌ فَاسْتَقْرَیْتُہُنَّ أَقُولُ لَہُنَّ: لَتَکُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ لَیُبْدِلَنَّہُ اللّٰہُ بِکُنَّ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ حَتّٰی أَتَیْتُ عَلٰی إِحْدٰی أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ، فَقَالَتْ: یَا عُمَرُ! أَمَا فِی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَعِظُ نِسَائَ ہُ حَتّٰی تَعِظَہُنَّ، فَکَفَفْتُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَی رَبُّہُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُبْدِلَہُ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ} الْآیَۃَـ (مسند احمد: ۱۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے تین باتوں میں اپنے رب کے فیصلہ کی موافقت کی ہے یا میرے ربّ نے تین باتوں میں میری موافقت کی ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لیں تو؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی}… تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کی خدمت میں نیک اور فاجر ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، اس لیے اگر آپ امہات المومنین کو پردہ کر ائیں تو بہتر ہو گا۔ اس کے بعد پردہ سے متعلقہ آیات نازل ہوگئیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے امہات المومنین کے بارے میں کوئی خبر ملی، سو میں نے ایک ایک سے جاکر کہا کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کے مطالبات کرنا چھوڑ دو، وگرنہ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ تم سے بہتر مسلم خواتین کو لے آئے گا، ایک ام المومنین کی خدمت میں جب میں نے گزارش کی تو اس نے تو یہ کہہ دیا کہ عمر! اللہ کے رسول اپنی ازواج کو جو کچھ نصیحت فرماتے ہیں، کیا وہ کافی نہیں ہیں کہ تم بھی اس بارے میں انہیں وعظ کرنے لگے ہو؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: {عَسٰی رَبُّہٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًا} … اس کارب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔

12209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12209

Sahih

۔ (۱۲۲۰۹)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ بِأَرْبَعٍ، بِذِکْرِ الْأَسْرٰییَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِہِمْ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ} وَبِذِکْرِہِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَائَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَحْتَجِبْنَ، فَقَالَتْ لَہُ زَیْنَبُ: وَإِنَّکَ عَلَیْنَایَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَالْوَحْیُیَنْزِلُ فِی بُیُوتِنَا، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوہُنَّ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ} وَبِدَعْوَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَہُ: ((اللَّہُمَّ أَیِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔)) وَبِرَأْیِہِ فِی أَبِی بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَایَعَہُ۔ ((مسند احمد: ۴۳۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چار امور میں لوگوں پر فضیلت لے گئے، انہو ں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : (لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ) .. اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا تو تم نے جو کچھ ان قیدیوں سے بطور فدیہ لیا ، اس کے سبب تم پر بہت سخت عذاب آتا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کے بارے میں کہا کہ انہیں پردہ کرنا چاہیے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے ابن خطاب ! تم تو ہم پر مسلط ہو گئے ہو ، حالانکہ وحی تو ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت میں پردے سے متعلقہ یہ آیت نازل فرما دی : (وَإِذَا سَأَلْتُمُوھُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوھُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِ) .. اور اے ایمان والو ! تم جب ان امہات المومنین سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ میں مانگا کرو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دوسرے لوگوں پر اس لحاظ سے بھی فضیلت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعا کی تھی : اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کی رائے دی تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ان کی بیعت کی تھی ۔