Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2511

خلافت و امارت کے مسائل

سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان

1 hadith in this chapter

12177

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12177

Sahih

۔ (۱۲۱۷۷)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی الْمُعَلَّی، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ یَوْمًا فَقَالَ: ((إِنَّ رَجُلًا خَیَّرَہُ رَبُّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ أَنْ یَعِیشَ فِی الدُّنْیَا مَا شَائَ أَنْ یَعِیشَ فِیہَا، وَیَأْکُلَ فِی الدُّنْیَا مَا شَائَ أَنْ یَأْکُلَ فِیہَا، وَبَیْنَ لِقَائِ رَبِّہِ فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہِ، فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہٖ۔)) قَالَ: فَبَکٰی أَبُو بَکْرٍ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ ہٰذَا الشَّیْخِ، أَنْ ذَکَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا، خَیَّرَہُ رَبُّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ لِقَائِ رَبِّہِ وَبَیْنَ الدُّنْیَا، فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہِ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ أَعْلَمَہُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: بَلْ نَفْدِیکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَیْنَا فِی صُحْبَتِہِ وَذَاتِ یَدِہِ مِنِ ابْنِ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلٰکِنْ وُدٌّ وَإِخَائُ إِیمَانٍ، وَلٰکِنْ وُدٌّ وَإِخَائُ إِیمَانٍ مَرَّتَیْنِ، وَإِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو معلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن خطاب کیا اور فرمایا: ایک بندے کو اس کے رب نے اختیار دیا ہے کہ و ہ چاہے تو دنیا میں زندہ رہے اور جو چاہے کھائے پئے، اور اگر وہ چاہے تو اپنے ربّ سے جاملے، اس بندے نے اپنے رب کی ملاقات کو پسند کرلیا ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگ گئے، صحابہ نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی صالح بندے کا ذکر کیا ہے کہ اس کے رب نے اسے اپنی ملاقات یا دنیا میں رہنے میں سے ایک بات کو منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس نے اپنے رب کی ملاقات کو منتخب کیا۔ (اور ابو بکر نے رونا شروع کر دیا)۔ دراصل سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے اموال اور اولاد سمیت آپ پر فدا ہوں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کوئی اپنی صحبت اور مال کے لحاظ سے ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا محسن نہیں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا، البتہ محبت اور ایمانی بھائی چارہ قائم ہے،البتہ ہمارے درمیان محبت اور اخوّت ِ ایمانی کا تعلق قائم ہے، تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔