Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2508

خلافت و امارت کے مسائل

فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان

1 hadith in this chapter

12170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12170

Sahih

۔ (۱۲۱۷۰)۔ عَنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَرْسَلَ إِلَیْہِ مَقْتَلَ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ، فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِی، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَہْلِ الْیَمَامَۃِ مِنْ قُرَّائِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، وَأَنَا أَخْشٰی أَنْ یَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّائِ فِی الْمَوَاطِنِ، فَیَذْہَبَ قُرْآنٌ کَثِیرٌ لَا یُوعٰی، وَإِنِّی أَرٰی أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَکَیْفَ أَفْعَلُ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ! خَیْرٌ، فَلَمْ یَزَلْیُرَاجِعُنِی فِی ذٰلِکَ حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ صَدْرِی، وَرَأَیْتُ فِیہِ الَّذِی رَأٰی عُمَرُ، قَالَ زَیْدٌ وَعُمَرُ عِنْدَہُ جَالِسٌ لَا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِنَّکَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّہِمُکَ، وَقَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْمَعْہُ، قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللّٰہِ! لَوْ کَلَّفُونِی نَقْلَ جَبَلٍ مِنْ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا أَمَرَنِی بِہِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: کَیْفَ تَفْعَلُونَ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ (مسند احمد: ۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یمامہ کی لڑائی کے متعلق میری طرف پیغام بھیجا، جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے، اس وقت سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پا س آئے ہیں اور انہو ں نے بتلایا کہ یمامہ میں شدید لڑائی ہوئی اور بہت سے مسلمان قراءِ کرام شہید ہوگئے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ اگر جنگوں میں اسی طرح قراء شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا، جسے محفوظ نہیں کیا گیا ہوگا۔ میر اخیا ل ہے کہ آپ قرآن کریم کو یکجا جمع کرنے کا حکم صادر فرمائیں، میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: جو کام اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا، وہ میں کیونکر کروں؟ انہو ں نے کہا: اللہ کی قسم!یہ کام بہتر ہے، وہ میرے ساتھ اس بارے میں اصرار کرتے رہے تاآنکہ اللہ نے اس کا م کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میر ی رائے بھی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کے موافق ہوگئی۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے، مگر انہوں نے کوئی بات نہ کی، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: زید! تم ایک سمجھدار نوجوان ہو، ہم کسی مسئلے میں تم پر کوئی الزام نہیں لگاتے، تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے وحی لکھا کرتے تھے، اب تم ہی اسے ایک جگہ جمع کرو۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ میرے لیے اس قدر گراں نہ ہوتا، جتنا میرے لیے قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا حکم گراں گزرا ہے۔ میں نے بھی ان سے کہا تھا کہ تم لوگ وہ کام کیوں کرتے ہو، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا؟