Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2503

خلافت و امارت کے مسائل

فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں

9 hadiths in this chapter

12144

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12144

Sahih

۔ (۱۲۱۴۴)۔ عَنْ اَبِی صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بَنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ مَاتَ بِغَیْرِ اِمَامٍ، مَاتَ مِیْتَۃَ جَاھِلِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ٔٔٔٔٔٔٔٔ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حکمران کے بغیر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔

12145

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12145

Sahih

۔ (۱۲۱۴۵)۔ وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ مَاتَ وَلَیْسَتْ عَلَیْہِ طَاعَۃٌ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً، فَإِنْ خَلَعَہَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِہَا فِی عُنُقِہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بَعْدَ عَقْدِہِ اِیَّاھَا فِیْ عُنُقِہِ) لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَلَیْسَتْ لَہُ حُجَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے اپنے اوپر کسی امام کی اطاعت کو لازم نہیں کیا تھا، یعنی کسی کو اپنا امام تسلیم نہیں کیا تھا، و ہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اپنی گردن سے کسی امام کی اطاعت کا ہار اتارپھینکا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ کے ہاں پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔

12146

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12146

Sahih

۔ (۱۲۱۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ تَسُوسُہُمُ الْأَنْبِیَائُ، کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَ نَبِیٌّ، وَإِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی، إِنَّہُ سَیَکُونُ خُلَفَائُ فَتَکْثُرُ۔)) قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((فُوا بِبَیْعَۃِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوہُمْ حَقَّہُمْ الَّذِی جَعَلَ اللّٰہُ لَہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ))۔ (مسند احمد: ۷۹۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی فو ت ہوجاتا تو دوسر ا آجاتا، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء بکثرت ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پہلے خلیفہ سے کی گئی بیعت کوپورا کرنا، پھر جو اس کے بعد ہو، اس کی بیعت کو پورا کرنا اوراللہ نے ان کے لیے جو حقوق مقرر کیے ہیں، وہ ادا کرنا، رہا مسئلہ تمہارے حقوق کا تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔

12147

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12147

Sahih

۔ (۱۲۱۴۷)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ، فَمَاتَ فَمِیتَتُہُ جَاہِلِیَّۃٌ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍیَغْضَبُ لِعَصَبَتِہِ وَیُقَاتِلُ لِعَصَبَتِہِ وَیَنْصُرُ عَصَبَتَہُ فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاہِلِیَّۃٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلٰی أُمَّتِییَضْرِبُ بَرَّہَا وَفَاجِرَہَا لَا یَتَحَاشٰی لِمُؤْمِنِہَا وَلَا یَفِی لِذِی عَہْدِہَا فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حاکم کی اطاعت سے نکل گیا اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حالت میں اس کو موت آ گئی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، جو اندھا دھند جھنڈے کے نیچے لڑا، جس میں وہ عصبیت کی بنا پر غصے ہوتا ہے اور تعصب کی بنا پر مدد کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں قتل ہو جاتا ہے تو اس کا قتل بھی جاہلیت والا ہو گا او رجو آدمی میری امت پر بغاوت کرتے ہوئے نکلا اور نیکوں اور بروں کو مارتا گیا،نہ اس نے اہل ایمان کا لحاظ کیا اور نہ عہد والے کا عہد پورا کیا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

12148

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12148

Sahih

۔ (۱۲۱۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَأٰی مِنْ أَمِیرِہِ شَیْئًایَکْرَہُہُ فَلْیَصْبِرْ، فَإِنَّہُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِیتَتُہُ جَاہِلِیَّۃٌ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَیَمُوْتُ اِلَّا مَاتَ مِیْتَۃَ جَاھِلِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جواسے اچھی نہ لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

12149

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12149

Sahih

۔ (۱۲۱۴۹)۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَۃَ، وَکَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ یَقولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خِیَارُ أَئِمَّتِکُمْ مَنْ تُحِبُّونَہُمْ وَیُحِبُّونَکُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَیْہِمْ وَیُصَلُّونَ عَلَیْکُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمُ الَّذِینَ تُبْغِضُونَہُمْ وَیُبْغِضُونَکُمْ، وَتَلْعَنُونَہُمْ وَیَلْعَنُونَکُمْ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا نُنَابِذُہُمْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا لَکُمُ الصَّلَاۃَ، أَلَا وَمَنْ وُلِّیَ عَلَیْہِ أَمِیرٌ وَالٍ فَرَآہُ یَأْتِی شَیْئًا مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَلْیُنْکِرْ مَا یَأْتِی مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، وَلَا یَنْزِعَنَّیَدًا مِنْ طَاعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے حق میں رحمت کی دعائیں کرو اور وہ تمہارے حق میں رحمت کی دعائیں کریں اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنتیں کرو اور وہ تم پر لعنتیں کریں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسی صورت حال میں ہم ان سے الگ تھلگ نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نما زکی پابندی کریں، تم ان سے الگ نہیں ہوسکتے، خبردار! تم میں سے کسی پر کوئی آدمی امیر اورحکمران ہو اور وہ اپنے امیر کو اللہ کی معصیت کا کام کرتے ہوئے دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کا انکار کرے اور اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔

12150

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12150

Sahih

۔ (۱۲۱۵۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ مَاتَ عَلٰی غَیْرِ طَاعَۃِ اللّٰہِ مَاتَ وَلَا حُجَّۃَ لَہُ، وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ یَدَہُ مِنْ بَیْعَۃٍ، کَانَتْ مِیتَتُہُ مِیتَۃَ ضَلَالَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز پر مرا تو وہ اس حال میں مرے گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو گی اور جو اس حال میں مرا کہ اس نے بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہو گی۔

12151

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12151

Sahih

۔ (۱۲۱۵۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعٍ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، ضَعُوا لَہُ وِسَادَۃً، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُکَ لِأُحَدِّثَکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ نَزَعَ یَدًا مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ فَإِنَّہُ یَأْتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَا حُجَّۃَ لَہُ، وَمَنْ مَاتَ وَہُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَۃِ فَإِنَّہُ یَمُوتُ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً۔)) (مسند احمد: ۵۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم اپنے والدسے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں عبداللہ بن مطیع کے ہاں گیا، انہو ں نے کہا: ابو عبدالرحمن کو خوش آمدید، ان کے لیے تکیہ لگاؤ، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سنانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ تھلگ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

12152

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12152

Sahih

۔ (۱۲۱۵۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ، فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا وَفِیْہِ: ((وَمَنْ بَایَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاہُ صَفْقَۃَیَدِہِ وَثَمَرَۃَ قَلْبِہِ فَلْیُطِعْہُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَائَ آخَرُ یُنَازِعُہُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ۔)) قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ: أَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، قَالَ: فَقُلْتُ: ہٗذَاابْنُعَمِّکَمُعَاوِیَۃُیَعْنِییَأْمُرُنَا بِأَکْلِ أَمْوَالِنَا بَیْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} قَالَ: فَجَمَعَ یَدَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَلٰی جَبْہَتِہِ ثُمَّ نَکَسَ ہُنَیَّۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: أَطِعْہُ فِی طَاعَۃِ اللّٰہِ، وَاعْصِہِ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔(مسند احمد: ۶۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد الرحمن بن عبد ِربّ ِکعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سفر میں تھے، پھر انہو ں نے طویل حدیث بیان کی، اس کا ایک اقتباس یہ تھا: جس نے کسی حکمران کی بیعت کی اور اس سے معاہدہ کیا اور اس کو دل کا پھل دے دیا، تو وہ حسب ِ استطاعت اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس پہلے حاکم سے اختلا ف کرے تو بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبد الرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے درمیان میں داخل کیا اور کہا: میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ حدیث اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس حدیث کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا۔ عبدالرحمن نے کہا: یہ آپ کا چچازاد بھائی سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ}… اے ایمان والو! تم اپنے اموال آپس میں باطل طریقوں سے مت کھاؤ۔ یہ سن کر انہو ں نے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی پیشانی کے اوپر رکھا اور پھر کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور کہا: اللہ کی اطاعت کا کام ہوتو ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہوتو ان کی بات نہ مانو۔