Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2498

خلافت و امارت کے مسائل

فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان

13 hadiths in this chapter

12102

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12102

Zaeef

۔ (۱۲۱۰۲)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتْلُوْ عَلَیَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَوْ أَنَّ النَّاسَ کُلَّہُمْ أَخَذُوا بِہَا لَکَفَتْہُمْ۔)) قَالَ: فَجَعَلَ یَتْلُو بِہَا وَیُرَدِّدُہَا عَلَیَّ حَتّٰی نَعَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ کَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِینَۃِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِلَی السَّعَۃِ وَالدَّعَۃِ أَنْطَلِقُ حَتَّی أَکُونَ حَمَامَۃً مِنْ حَمَامِ مَکَّۃَ، قَالَ: ((کَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَکَّۃَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِلَی السَّعَۃِ وَالدَّعَۃِ إِلَی الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ، قَالَ: ((وَکَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِذَنْ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَیْفِی عَلٰی عَاتِقِی، قَالَ: ((أَوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((تَسْمَعُ وَتُطِیعُ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} … جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے ابو ذر! اگر سب لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ آیت ان سب کے لیے کافی ہو گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس آیت کو پڑھتے اور میرے سامنے بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! اگر تمہیں مدینہ سے نکال دیا گیا، تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں کسی ایسے علاقے میں چلا جاؤں گا، جہاں وسعت اور فراخی ہوگی، میں مکہ جا کر اس کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو پھر کیا کرو گے؟ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں وسعت وفراخی والی جگہ شام کی طرف چلا جاؤں گا کہ وہ مقدس سرزمین ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو تب کیاکروگے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! تب میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: کیا کوئی کام اس سے بھی بہتر ہے؟ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حاکم کی بات سننا اور اس کو مان لینا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔

12103

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12103

Zaeef

۔ (۱۲۱۰۳)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! کَیْفَ أَنْتَ عِنْد وُلَاۃٍ؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَیْفَ اَنْتَ وَاٰئِمَّۃٌ مِنْ بَعْدِیْ؟) یَسْتَأْثِرُونَ عَلَیْکَ بِہٰذَا الْفَیْئِ۔)) قَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، أَضَعُ سَیْفِی عَلٰی عَاتِقِی فَأَضْرِبُ بِہِ حَتّٰی أَلْحَقَکَ، قَالَ: ((أَفَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی خَیْرٍ لَکَ مِنَ ذٰلِکَ، تَصْبِرُ حَتّٰی تَلْقَانِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! جب ایسے حکمران آجائیں جو مال کے بارے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ اور پھر اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دوں گا، یہاں تک کہ آپ سے آ ملوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتلادوں؟ وہ یہ ہے کہ تم ان حالات پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھے آملو۔

12104

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12104

Sahih

۔ (۱۲۱۰۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، وَإِنْ رَأَیْتَ أَنَّ لَکَ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((مَالَمْ یَاْمُرُوْکَ بِاِثْمٍ بَوَاحٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہویا آسانی،خوشی ہو یا غمی اور خواہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، تم پر لازم ہے کہ تم حکمران کی بات سنو اور اس کو تسلیم کرو اور حکومت کے بارے میں حکومت والوں سے جھگڑا نہ کرواور تم ان کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہیں صریح گناہ کا حکم نہ دیں۔

12105

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12105

Sahih

۔ (۱۲۱۰۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا ناخوشی اور بیشک تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، پھر بھی تم نے حکمران کی بات سننی ہے اور اس کو ماننا ہے۔ ‘

12106

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12106

Sahih

۔ (۱۲۱۰۶)۔ عَنْ أُمِّ الْحُصَیْنِ الْأَحْمَسِیَّۃِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ وَہُوَ یَقُولُ: ((وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ یَقُودُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوْا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: و سَمِعْتُ أَبِییَقُولُ: إِنِّی لَأَرٰی لَہُ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ، فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام حصین احمسیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفات میں خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کسی غلام کو حکمران بنا دیاجائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا مجبوری، ہر حال میں حکمران کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔

12107

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12107

Sahih

۔ (۱۲۱۰۷)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ، عَلَیْہِ بُرْدٌ لَہُ قَدْ الْتَفَعَ بِہِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِہِ، قَالَتْ: فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی عَضَلَۃِ عَضُدِہِ تَرْتَجُّ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اتَّقُوا اللّٰہَ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوْا لَہُ وَأَطِیعُوْا مَا أَقَامَ فِیکُمْ کِتَابَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں : میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک چادر تھی ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغل کے نیچے سے نکال کر لپیٹا ہوا تھا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازو کا پٹھہ حرکت کر رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ ، اور اگرچہ تم پر کوئی ناک کٹا حبشی غلام امیر بنا دیا جائے ، تم نے اس کی بات سننی ہے اور اس کی اطاعت کرنی ہے ، جب تک وہ تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کو قائم کرے ۔

12108

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12108

Sahih

۔ (۱۲۱۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَطْمَئِنُّ إِلَیْہِمُ الْقُلُوبُ، وَتَلِینُ لَہُمُ الْجُلُودُ، ثُمَّ یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَشْمَئِزُّ مِنْہُمُ الْقُلُوبُ، وَتَقْشَعِرُّ مِنْہُمُ الْجُلُودُ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنُقَاتِلُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوں گے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

12109

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12109

Sahih

۔ (۱۲۱۰۹)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّہُ سَتَکُونُ أُمَرَائُ تَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ، فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟ قَالَ: ((لَا، مَا صَلَّوْا لَکُمُ الْخَمْسَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی) ،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، ( وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔

12110

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12110

Sahih

۔ (۱۲۱۱۰)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا، وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ حَبَشِیٌّ، کَأَنَّ رَأْسَہُ زَبِیبَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہارے اوپر کوئی ایسا حبشی حکمران بنا دیا جائے، جس کا سر منقّی جیسا ہو۔

12111

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12111

Sahih

۔ (۱۲۱۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُہْلِکُ أُمَّتِی ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوہُمْ۔)) و قَالَ أَبِی فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: اضْرِبْ عَلٰی ہٰذَا الْحَدِیثِ فَإِنَّہُ خِلَافُ الْأَحَادِیثِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَعْنِی قَوْلَہُ: ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا وَاصْبِرُوا۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے( تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔

12112

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12112

Sahih

۔ (۱۲۱۱۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۶۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔

12113

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12113

Sahih

۔ (۱۲۱۱۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ: قُرِئَ عَلٰی سُفْیَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعْتُ سُفْیَانَیَقُولُ: ((مَنْ أَطَاعَ أَمِیرِی فَقَدْ أَطَاعَنِی، وَمَنْ أَطَاعَنِی فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۳۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی۔ اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔

12114

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12114

Sahih

۔ (۱۲۱۱۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ عَبَدَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ، وَآتَی الزَّکَاۃَ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییُدْخِلُہُ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ، وَلَہَا ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابٍ، وَمَنْ عَبَدَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، وَأَقَامَ الصَّلَاۃَ، وَآتَی الزَّکَاۃَ، وَسَمِعَ وَعَصَی، فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی مِنْ أَمْرِہِ بِالْخِیَارِ، إِنْ شَائَ رَحِمَہُ وَإِنْ شَائَ عَذَّبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ اسے اسی دروازے سے جنت میں داخل کرے گااو ر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت نہ کرے، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب سے دوچار کرے۔