Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2492

خلافت و امارت کے مسائل

فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں

5 hadiths in this chapter

12056

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12056

Sahih

۔ (۱۲۰۵۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ نَبِیٍّ وَلَا وَالٍ إِلَّا وَلَہُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالْمَعْرُوفِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَتَنْہَاہٗعَنِالْمُنْکَرِ)،وَبِطَانَۃٌ لَا تَأْلُوہُ خَبَالًا، وَمَنْ وُقِیَ شَرَّہُمَا فَقَدْ وُقِیَ، وَہُوَ مَعَ الَّتِی تَغْلِبُ عَلَیْہِ مِنْہُمَا))۔ (مسند احمد: ۷۲۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی اور حاکم کے دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کی ہلاکت و تباہی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ جو حاکم اس کے شرّ سے بچ گیا، وہ تو محفوظ ہو گیا اور وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو ان میں سے غالب آجاتا ہے۔

12057

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12057

Sahih

۔ (۱۲۰۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ وَلَّاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ شَیْئًا، فَأَرَادَ بِہِ خَیْرًا، جَعَلَ لَہُ وَزِیرَ صِدْقٍ، فَإِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہُ، وَإِنْ ذَکَرَ أَعَانَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردے اور پھر اس کے بارے میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مخلص وزیر عطا کر دیتا ہے، وہ اگر بھولنے لگتا ہے تو وہ وزیر اسے یاددہانی کرادیتا ہے اور اگر اسے بات یادرہتی ہے تو وہ وزیر اس کی اعانت کر دیتا ہے۔

12058

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12058

Sahih

۔ (۱۲۰۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا بُعِثَ مِنْ نَبِیٍّ، وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِیفَۃٍ، إِلَّا کَانَتْ لَہُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالْخَیْرِ وَتَحُضُّہُ عَلَیْہِ، وَبِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّہُ عَلَیْہِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا اور کسی خلیفہ کو خلافت عطا نہیں کی گئی، مگر اس کے دو خاص مشیر ہوتے ہیں، ایک مشیر اسے اچھائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے اور دوسرا مشیر اسے برائی کا حکم دیتا اور اس پر آمادہ کرتا رہتا ہے، بہرحال معصوم وہی ہو گا، جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے گا۔

12059

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12059

Sahih

۔ (۱۲۰۵۹)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، وَأَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ ہُبَیْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زُرَیْرٍ أَنَّہُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ حَسَنٌ: یَوْمَ الْأَضْحٰی، فَقَرَّبَ إِلَیْنَا خَزِیرَۃً، فَقُلْتُ: أَصْلَحَکَ اللّٰہُ، لَوْ قَرَّبْتَ إِلَیْنَا مِنْ ہٰذَا الْبَطِّ یَعْنِی الْوَزَّ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَکْثَرَ الْخَیْرَ، فَقَالَ: یَا ابْنَ زُرَیْرٍ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَحِلُّ لِلْخَلِیفَۃِ مِنْ مَالِ اللّٰہِ إِلَّا قَصْعَتَانِ، قَصْعَۃٌیَأْکُلُہَا ہُوَ وَأَہْلُہُ، وَقَصْعَۃٌیَضَعُہَا بَیْنَیَدَیْ النَّاسِ))۔ (مسند احمد: ۵۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن زریر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عیدالا ضحی کے روز سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گیا،انہوں نے خزیرہ ہمیں پیش کیا، میں نے عرض کیا: اللہ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے، اگر آپ اس بطخ کے گوشت میں سے کچھ ہمارے سامنے پیش کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، اللہ نے آپ کو آسودہ اور خوش حال بنایا ہے، انہوں نے کہا: اے ابن زریر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خلیفہ کے لیے اللہ کے مال یعنی بیت المال میں صرف دو پیالے لینا حلال ہے، ایک پیالہ اپنے اور اس کے اہل و عیال کے کھانے کے لیے اور دوسرا لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔

12060

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12060

Sahih

۔ (۱۲۰۶۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَۃِ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَہْوٰی بِیَدِہِ إِلٰی وَبَرَۃٍ مِنْ جَنْبِ بَعِیرٍ، فَقَالَ: ((مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہٰذِہِ الْوَبَرَۃِ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِینَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صدقہ کے اونٹ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب سے گزرے،آپ نے ایک اونٹ کے پہلو سے اون کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس اون کا جتنا حقدار ایک عام مسلمان ہے، میں میرا حق اس سے زیادہ حقدار نہیں ہوں۔