Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2486

خلافت و امارت کے مسائل

(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا

16 hadiths in this chapter

12018

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12018

Sahih

۔ (۱۲۰۱۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی وَجَعِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَقَالَ النَّاسُ: یَا أَبَا حَسَنٍ! کَیْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللّٰہِ بَارِئًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَخَذَ بِیَدِہِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: أَلَا تَرٰی أَنْتَ وَاللّٰہِ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیُتَوَفّٰی فِی وَجَعِہِ ہٰذَا إِنِّی أَعْرِفُ وُجُوہَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْہَبْ بِنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْہُ فِیمَنْ ہٰذَا الْأَمْرُ، فَإِنْ کَانَ فِینَا عَلِمْنَا ذٰلِکَ وَإِنْ کَانَ فِی غَیْرِنَا کَلَّمْنَاہُ فَأَوْصٰی بِنَا، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَاللّٰہِ! لَئِنْ سَأَلْنَاہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنَعَنَاہَا لَا یُعْطِینَاہَا النَّاسُ أَبَدًا، فَوَاللّٰہِ! لَا أَسْأَلُہُ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۳۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مرض الموت کے دنوں میں ایک روز سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پاس سے باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابو الحسن! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس حال میں ہیں؟ انہو ں نے کہا: الحمد اللہ بہتر ہیں۔ ان کی بات سن کر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن عبدالمطلب نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: آپ دیکھتے نہیں؟ اللہ کی قسم! رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اس بیماری میں فوت ہوجائیں گے، میں عبدالمطب کے خاندان کے افراد کو چہروں سے پہچانتا ہوں کہ موت سے قبل ان کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ آؤ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں جا کر ا س امر (خلافت) کے بارے میں پوچھ لیں۔ اگر یہ ہمارا حق ہو ا تو ہمیں پتہ چل جائے گا اور اگر یہ کسی دوسرے کے متعلق بات ہوئی تو ہم اس بارے میں پوچھ گچھ کر لیتے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے حق میں وصیت کردیں گے۔ یہ سن کر علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا اور آپ نے ہمیں اس سے محروم کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں یہ حق نہیں دیں گے، لہٰذا اللہ کی قسم ! میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں کچھ نہ پوچھوں گا۔

12019

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12019

Zaeef

۔ (۱۲۰۱۹)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ رَجُلٍ،عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ یَوْمَ الْجَمَلِ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا عَہْدًا، نَأْخُذُ بِہِ فِی الْإِمَارَۃِ، وَلٰکِنَّہُ شَیْئٌ رَأَیْنَاہُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی أَبِی بَکْرٍ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی عُمَرَ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتّٰی ضَرَبَ الدِّینُ بِجِرَانِہِ۔ (مسند احمد: ۹۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جنگ جمل کے روز فرمایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امارت (خلافت) کے بارے میں ہم سے کچھ نہیں فرمایا، بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے یعنی امت نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلفیہ منتخب کر لیا گیا، ان پر اللہ کی رحمت ہوـ، انہو ں نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا، ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کو اس قد رعمدگی سے ادا کیا کہ روئے زمین پر اسلام کا بول بالا ہوگیا۔

12020

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12020

Zaeef

۔ (۱۲۰۲۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَنْ یُؤَمَّرُ بَعْدَکَ؟ قَالَ: ((إِنْ تُؤَمِّرُوْا أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تَجِدُوہُ أَمِینًا، زَاہِدًا فِی الدُّنْیَا، رَاغِبًا فِی الْآخِرَۃِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ تَجِدُوہُ قَوِیًّا أَمِینًا، لَا یَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلَا أُرَاکُمْ فَاعِلِینَ، تَجِدُوہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا، یَأْخُذُ بِکُمُ الطَّرِیقَ الْمُسْتَقِیمَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کس کو امیربنایا جائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے ایسا پاؤ گے کہ اس کو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی رغبت ہوگی، اگرتم عمر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے قوی اور اما نتدار پاؤ گے، جو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرے گا اور اگر تم علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر بناؤ گے تو تم اس کو رہنما اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے جائے گا، لیکن میرا خیال ہے کہ تم اسے خلیفہ نہیں بناؤ گے۔

12021

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12021

Sahih

۔ (۱۲۰۲۱)۔ عَنْ قَیْسٍ الْخَارِفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُولُ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ: سَبَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَۃٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ، فَکَانَ مَا شَائَ اللّٰہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَعْفُو اللّٰہُ عَمَّنْ یَّشَائُ)۔ (مسند احمد: ۱۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

قیس خارفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امت کو نمازیں پڑھائیں، تیسرے نمبر پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے،ان کے بعد تو ہمیں فتنوں اور آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ جس کو چاہے گا، معاف کر دے گا۔

12022

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12022

Sahih

۔ (۱۲۰۲۲)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِمِثْلِہٖ وَفِیْہِ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ فَمَا شَائَ اللّٰہُ جَلَّ جَلَالُہُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِی قَوْلُہُ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَۃٌ، أَرَادَ أَنْ یَتَوَاضَعَ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے والد نے کہا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ کہنا کہ ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا۔ یہ انہوں نے ازراہ تواضع فرمایا تھا۔

12023

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12023

Sahih

۔ (۱۲۰۲۳)۔ عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ قَالَ: حَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ وَہْبٍ الْجَزَرِیُّ، قَالَ: قَالَ لِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا مَا أُحَدِّثُہُ کُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ عَلَی بَابِ الْبَیْتِ وَنَحْنُ فِیہِ، فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِنَّ لَہُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا، وَلَکُمْ عَلَیْہِمْ حَقًّا مِثْلَ ذٰلِکَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوْا فَرَحِمُوْا، وَإِنْ عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِنْ حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

بکیر بن وہب جزری کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں،یہ حدیث میں نے کسی اور کو بیان نہیں کی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی اس گھر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، تمہارے ذمے ان کے حقوق ہیں اور اسی طرح ان کے ذمے تمہارے حقوق ہیں،اگر ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان میں سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔

12024

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12024

Sahih

۔ (۱۲۰۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ، عَنْ بُکَیْرٍ الْجَزَرِیِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کُنَّا فِی بَیْتِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی وَقَفَ فَأَخَذَ بِعِضَادَۃِ الْبَابِ فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ…الخ))۔ (مسند احمد: ۱۲۹۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک دفعہ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آکر دروازے کی چوکھٹ کے بازوکو پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، …۔

12025

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12025

Sahih

۔ (۱۲۰۲۵)۔ حَدَّثَنَا سَیَّارُ بْنُ سَلَامَۃَ، سَمِعَ أَبَا بَرْزَۃَ، یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِذَا اسْتُرْحِمُوْا رَحِمُوْا وَإِذَا عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِذَا حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے تھے: کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلفاء اور حکمران قریش میں سے ہوں گے۔ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔

12026

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12026

Sahih

۔ (۱۲۰۲۶)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، یُحَدِّثُ أَنَّہُ بَلَغَ مُعَاوِیَۃَ، وَہُوَ عِنْدَہُ فِی وَفْدٍ مِنْ قُرَیْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَیَکُونُ مَلِکٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِیَۃُ، فَقَامَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالًا مِنْکُمْ یُحَدِّثُونَ أَحَادِیثَ لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أُولَئِکَ جُہَّالُکُمْ، فَإِیَّاکُمْ وَالْأَمَانِیَّ الَّتِی تُضِلُّ أَہْلَہَا، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ فِی قُرَیْشٍ، لَا یُنَازِعُہُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَکَبَّہُ اللّٰہُ عَلٰی وَجْہِہِ مَا أَقَامُوا الدِّین۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

امام زہری کہتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم ایک قریشی وفدمیں شریک سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، انھوں نے بیان کیا کہ معاویہ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ عنقریب قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا، تو معاویہ غصے میں آ گئے، کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بعض لوگ ایسی باتیں بیان کرتے ہیں، جو نہ تو اللہ کی کتاب میں پائی جاتی ہیں اور نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہوتی ہیں۔ یہ لوگ پر لے درجے کے جاہل ہیں۔ اس قسم کی خواہشات سے بچوجو خواہش پرستوں کو گمراہ کر دیتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا: یہ (امارت والا) معاملہ قریشیوں میں رہے گا، جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے، ان سے دشمنی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ منہ کے بل گرادے گا۔

12027

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12027

Sahih

۔ (۱۲۰۲۷)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قَرِیبٍ مِنْ ثَمَانِینَ رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ، لَیْسَ فِیہِمْ إِلَّا قُرَشِیٌّ، لَا وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ صَفْحَۃَ وُجُوہِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوہِہِمْ یَوْمَئِذٍ، فَذَکَرُوْا النِّسَائَ فَتَحَـدَّثُوا فِیہِنَّ، فَتَحَدَّثَ مَعَہُمْ حَتَّی أَحْبَبْتُ أَنْ یَسْکُتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَتَشَہَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! فَإِنَّکُمْ أَہْلُ ہٰذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللّٰہَ، فَإِذَا عَصَیْتُمُوہُ بَعَثَ إِلَیْکُمْ مَنْ یَلْحَاکُمْ کَمَا یُلْحٰی ہٰذَا الْقَضِیبُ۔)) لِقَضِیبٍ فِی یَدِہِ ثُمَّ لَحَا قَضِیبَہُ فَإِذَا ہُوَ أَبْیَضُ یَصْلِدُ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم تقریبًا قریش کے اسی (۸۰) آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے تھے، تمام کے تمام قریشی تھے۔ اللہ کی قسم! اُس دن یہ لوگ بہت خوبصورت نظر آ رہے تھے، انھوں نے عورتوں کا ذکر کیا، ان کے بارے میں باتیں کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ساتھ گفتگو کرتے رہے (اور اتنا زیادہ کلام کیا کہ) میں نے چاہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ نے خطبۂ شہادت پڑھا اور فرمایا: حمد و صلوۃ کے بعد (میں یہ کہوں گا کہ) قریشیو! تم لوگ اس (امارت) کے مستحق ہو، جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرو گے، اگر تم نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجے گا جو تمھاری چمڑی ادھیڑ دیں گے، جس طرح اس شاخ (جو آپ کے ہاتھ میں تھی) کا چھلکا اتار لیا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی شاخ کا چھلکا اتارا، (جس کی وجہ سے) وہ اچانک سفید اور سخت نظر آنے لگی۔

12028

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12028

Sahih

۔ (۱۲۰۲۸)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ فِیکُمْ وَإِنَّکُمْ وُلَاتُہُ، وَلَنْ یَزَالَ فِیکُمْ حَتّٰی تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْکُمْ شَرَّ خَلْقِہِ، فَیَلْتَحِیکُمْ کَمَا یُلْتَحَی الْقَضِیبُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: یہ خلافت تمہارے پاس رہے گی اور تم ہی اس کے مالک ہو، یہ اس وقت تک تمہارے پاس رہے گی جب تک تم غیر شرعی کام نہیں کرو گے، جب تم نے غیر شرعی کام کیے تو اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو تمہارے خلاف کھڑا کر دے گا اور وہ تمہاری یوں چمڑی ادھیڑیں گے، جیسے چھڑی کو چھیل دیا جاتا ہے۔

12029

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12029

Zaeef

۔ (۱۲۰۲۹)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخِلَافَۃُ فِی قُرَیْشٍ، وَالْحُکْمُ فِی الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَۃُ فِی الْحَبَشَۃِ، وَالْہِجْرَۃُ فِی الْمُسْلِمِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عتبہ بن عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلافت قریش میں، عہدۂ قضا انصاریوں میں، دعوت و تبلیغ حبشیوں میں اور ہجرت مسلمانوں میں اور بعد والے مہاجروں میں ہو گی۔

12030

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12030

Sahih

۔ (۱۲۰۳۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْشٍ، مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اِثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۱۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دو آدمی بھی باقی رہیں گے، یہ خلافت قریش میں ہی رہے گی۔

12031

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12031

Sahih

۔ (۱۲۰۳۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ہٰذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُہُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِہِمْ، وَکَافِرُہُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان، مسلم قریشیوں کے تابع ہیں اور کافر، کافر قریشیوں کے۔

12032

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12032

Sahih

۔ (۱۲۰۳۲)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: َقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ہٰذَا الْأَمْرِ، خِیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِہُوا، وَاللّٰہِ! لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَیْشٌ لَأَخْبَرْتُہَا مَا لِخِیَارِہَا عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں،ـ جو لوگ قبل از اسلام اچھے تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اچھے ہیں، بشر طیکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کرلیں۔ اللہ کی قسم! اگر قریشی لوگوں کے مغرور ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتلا دیتا کہ ان میں سے اچھے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے۔

12033

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12033

Sahih

۔ (۱۲۰۳۳)۔ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ ھٰذَا الْأَمْرُ فِیْ حِمْیَرَ فَنَزَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْھُمْ فَجَعَلَہُ فِیْ قُرَیْشٍ وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ۔)) وَکَذَا کَانَ فِیْ کِتَابِ أَبِیْ مُقَطَّعٍ وَحَیْثُ حَدَّثَنَا بِہٖ تَکَلَّمَ عَلَی الْإِسْتَوَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ذو مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریب یہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخری الفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔