Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2466

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11976

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11976

Sahih

۔ (۱۱۹۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ دَخَلُوْا عَلٰی أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ وَہِیَ تَحْتَہُ یَوْمَئِذٍ فَرَآہُمْ فَکَرِہَ ذٰلِکَ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَیْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَرَّأَہَا مِنْ ذٰلِکَ۔))) ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ: ((لَا یَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ یَوْمِی ہٰذَا عَلٰی مُغِیبَۃٍ إِلَّا وَمَعَہُ رَجُلٌ أَوْ اثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئے، وہ ان دنوں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زوجیت میں تھیں، وہ لوگ بیٹھے ہی تھے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے، انہوں نے ان لوگوں کو اپنی اہلیہ کے ہاں دیکھا تو انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس واقعہ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا اور کہا کہ میں نے کوئی قابل اعتراض بات تو نہیں دیکھی بلکہ میں نے تو اچھی بات ہی دیکھی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسماء کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اکیلا کسی ایسی خاتون کے ہاں نہ جائے، جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الایہ کہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اس کے ساتھ ہوں۔

11977

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11977

Sahih

۔ (۱۱۹۷۷)۔ عَن أَبِی مُوسٰی قَالَ: لَقِیَ عُمَرُ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُمَا فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّکُمْ سُبِقْتُمْ بِالْہِجْرَۃِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْکُمْ، قَالَتْ: کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُ جَاہِلَکُمْ وَیَحْمِلُ رَاجِلَکُمْ وَفَرَرْنَا بِدِینِنَا، فَقَالَتْ: لَا أَنْتَہِی حَتّٰی أَدْخُلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَتْ: فَذَکَرَتْ مَا قَالَ لَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بَلْ لَکُمُ الْہِجْرَۃُ مَرَّتَیْنِ ہِجْرَتُکُمْ ھِجْرَتُکُمْ إِلَی الْحَبْشَۃِ وَھِجْرَتُکُمْ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملاقات ہو گئی تو انھوں نے کہا: تم بڑے اچھے لوگ ہو، بس یہ بات ہے کہ لوگ تم سے پہلے ہجرت کر آئے ہیں اور ہم تم سے افضل ہیں۔ سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تمہیں جس چیز کا علم نہ ہوتا، اللہ کے رسول تمہیں تعلیم دیتے اور تم میں سے جس کے پاس سواری نہ ہوتی، اللہ کے رسول اسے سواری عنایت کر دیتے اور ہم اپنے دین کو بچاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ بہرحال میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر آپ سے ضرور اس بات کا ذکر کروں گی، چنانچہ انہوں نے جا کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ساری بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملے گا، ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ کی طرف۔