Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11962
۔ (۱۱۹۶۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قُلْتُ: فِی الطَّرِیقِ شِعْرًا، یَا لَیْلَۃً مِنْ طُولِہَا وَعَنَائِہَا عَلٰی أَنَّہَا مِنْ دَارَۃِ الْکُفْرِ نَجَّتِ، قَالَ: وَأَبَقَ مِنِّی غُلَامٌ لِی فِی الطَّرِیقِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَبَایَعْتُہُ فَبَیْنَا أَنَا عِنْدَہُ، إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ہٰذَا غُلَامُکَ۔)) قُلْتُ: ہُوَ لِوَجْہِ اللّٰہِ فَأَعْتَقْتُہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۳۲)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آرہا تھا تو میں نے راستے میں یہ شعر کہا: یَالَیْلَۃً مِنْ طُولھا وَعَنَالِٔھا عَلٰی انّہا مِنْ دَارْۃِ الکُفْرِ نَجَّتٖ (تعجب ہےاسراتپرجواسقدرطویل اور پر مشقت ہے ہاں یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس نے مجھے دارالکفر سے نکال لیا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: راستے میں میرا ایک غلام مجھ سے فرار ہو گیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر مسلمان ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کر لی، میں آپ کی خدمت میں ہی بیٹھا تھا کہ وہ غلام بھی آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابو ہریرہ! یہ ہے تمہارا غلام۔ میں نے عرض کیا:وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے، پھر انھوں نے اس کو آزاد کر دیا۔