Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2461

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ

7 hadiths in this chapter

11954

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11954

Sahih

۔ (۱۱۹۵۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ یَقْرَأُ فَقَالَ: ((لَقَدْ أُعْطِیَ ہٰذَا مِنْ مَزَامِیرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلَام۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن قیس یعنی ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اورفرمایا: اسے تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔

11955

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11955

Sahih

۔ (۱۱۹۵۵)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ صَوْتَ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَقْرَأُ فَقَالَ: ((لَقَدْ أُوْتِیَ أَبُوْ مُوْسٰی مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ابو موسیٰ کو تو آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔

11956

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11956

Sahih

۔ (۱۱۹۵۶)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: خَرَجَ بُرَیْدَۃُ عِشَائً فَلَقِیَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَأَدْخَلَہُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ رَجُلٍ یَقْرَأُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((تُرَاہُ مُرَائِیًا۔)) فَأَسْکَتَ بُرَیْدَۃُ، فَإِذَا رَجُلٌ یَدْعُو فَقَالَ: اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی أَشْہَدُ أَنَّکَ أَنْتَ اللّٰہُ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَقَدْ سَأَلَ اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْأَعْظَمِ الَّذِی إِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی، وَإِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ۔)) قَالَ: فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْقَابِلَۃِ خَرَجَ بُرَیْدَۃُ عِشَائً فَلَقِیَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَأَدْخَلَہُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ الرَّجُلِ یَقْرَأُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَتَقُولُہُ مُرَائٍ؟)) فَقَالَ بُرَیْدَۃُ: أَتَقُولُہُ مُرَائٍ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!؟، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِیبٌ، لَا بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِیبٌ۔)) فَإِذَا الْأَشْعَرِیُّ یَقْرَأُ بِصَوْتٍ لَہُ فِی جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ الْأَشْعَرِیَّ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ أُعْطِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیرِ دَاوُدَ۔)) فَقُلْتُ: أَلَا أُخْبِرُہُ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((بَلٰی فَأَخْبِرْہُ۔)) فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: أَنْتَ لِی صَدِیقٌ أَخْبَرْتَنِی عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحَدِیْثٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ عشا کے وقت باہر گئے اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات ہوگئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور مسجد میں لے گئے، وہاں تلاوت کرتے ہوئے ایک آدمی کی آوازسنی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ دکھلاوا کر رہا ہے؟ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خاموش رہے، پھر اس آدمی نے یوں دعا کی: اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ بِأنّی اَشْہَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفُوَاًاَحَدٌ۔ (یا اللہ! میں یہ واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی وہ اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تو ایسا بے نیاز ہے، جس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں۔) یہ دعا سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ سے اس کے اس سب سے با عظمت نام لے کر دعا کی ہے کہ جب بھی اللہ سے اس کا یہ نام لے کر کچھ مانگا جائے تو وہ عنایت کرتا ہے اور جو بھی دعا کی جائے، وہ قبول کرتا ہے۔ بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: دوسری رات ہوئی تو میں عشاء کے وقت باہر نکلا، اس دن بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور مسجد میں لے گئے تو اسی آدمی کی تلاوت کی آواز آرہی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو سمجھتا ہے کہ یہ دکھلاوا کر رہا ہے؟ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ دکھلاوا کرنے والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دکھلاوا کرنے والا نہیں ہے، بلکہ مخلص مومن ہے، یہ دکھلاوا کرنے والا نہیں، بلکہ مخلص مومن ہے۔ میں (بریدہ) نے دیکھا تو وہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جو مسجد کے ایک کونے میں بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو داؤد علیہ السلام کیسی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان کو اس بات سے با خبر کردوں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اور ان کو بتلا دو۔ جب میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: تم میرے مخلص دوست ہو، کیونکہ تم نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک خاص بات سے باخبر کیا ہے۔

11957

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11957

Zaeef

۔ (۱۱۹۵۷)۔ عَن أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِرَجُلٍ: ہَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ یَوْمَنَا ہٰذَا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَوَاللّٰہِ لَکَأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاہِدٌ ہٰذَا الْیَوْمَ فَخَطَبَ فَقَالَ: ((وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُوْلُ ھَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ یَوْمَنَا ھٰذَا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَمَا زَالَ یَقُوْلُھَا حَتّٰی تَمَنَّیْتُ اَنَّ الْاَرْضَ سَاخَتْ بِیْ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک آدمی سے کہا:آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر یں، اللہ کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دن اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے ساتھ موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کیا اور کہا: بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو دوسروں سے کہتے ہیں کہ آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات اس قدر تکرار سے ارشاد فرمائی کہ میں نے تمنا کی کاش کہ زمین مجھے اپنے اندر دھنسا لے۔

11958

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11958

Zaeef

۔ (۱۱۹۵۸)۔ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ فِی وَصِیَّتِہِ أَنْ لَا یُقَرَّ لِی عَامِلٌ أَکْثَرَ مِنْ سَنَۃٍ، وَأَقِرُّوا الْأَشْعَرِیَّ یَعْنِی أَبَا مُوسٰی أَرْبَعَ سِنِینَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

شعبی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ میرا مقرر کردہ کوئی عامل ایک سال سے زیادہ عرصہ تک اپنی ذمہ داری پر بحال نہ رکھا جائے، البتہ تم سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو چار سال تک ان کی ذمہ داری پر برقرار رکھو۔

11959

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11959

Sahih

۔ (۱۱۹۵۹)۔ عَن أَبِی وَائِلٍ، عَن أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ عُبَیْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَکْثَرِ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَقُتِلَ عُبَیْدٌ یَوْمَ أَوْطَاسٍ، وَقَتَلَ أَبُو مُوسَی قَاتِلَ عُبَیْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُووَائِلٍ: وَإِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بَیْنَ قَاتِلِ عُبَیْدٍ وَبَیْنَ أَبِی مُوسَی فِی النَّارِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یااللہ! اپنے بندے عبید ابو عامر کو قیامت کے دن اکثر لوگوں سے بلند مرتبہ پر فائز فرمانا۔ سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ اوطاس میں شہید ہوئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل کو قتل کرکے جہنم رسید کیا تھا۔ راویٔ حدیث عاصم کہتے ہیں: میرے شیخ ابو وائل نے بیان کیا: مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل اور سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔

11960

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11960

Sahih

۔ (۱۱۹۶۰)۔ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی الْفُضَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ حَدِیثَ أَبِی حَرِیزٍ أَنَّ أَبَا بُرْدَۃَ حَدَّثَہُ، قَالَ: أَوْصٰی أَبُو مُوسٰی حِینَ حَضَرَہُ الْمَوْتُ فَقَالَ: إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِی فَأَسْرِعُوا الْمَشْیَ، وَلَا یَتَّبِعُنِی مُجَمَّرٌ، وَلَا تَجْعَلُوا فِی لَحْدِی شَیْئًا یَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ التُّرَابِ، وَلَا تَجْعَلُوا عَلٰی قَبْرِی بِنَائً، وَأُشْہِدُکُمْ أَنَّنِی بَرِیْئٌ مِنْ کُلِّ حَالِقَۃٍ أَوْ سَالِقَۃٍ أَوْ خَارِقَۃٍ، قَالُوْا: أَوَسَمِعْتَ فِیہِ شَیْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو بردہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے وصیت کرتے ہوئے کہا: جب تم میرا جنازہ لے کر چلو تو ذرا تیز تیز چلنا اور کوئی آدمی آگ کے کوئلوں پر خوشبو ڈال کر جنازے کے ساتھ نہ چلے اور میری قبر میں کوئی ایسی چیز بھی نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو، نیز تم میری قبر پر کوئی عمارت کھڑی نہ کرنا اور میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں کسی کی وفات پر سر کے بال مونڈنے والی، چیخنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی ہر عورت سے بری اور لا تعلق ہوں۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔