Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2458

فضائل و مناقب کی کتاب

امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

7 hadiths in this chapter

11942

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11942

Sahih

۔ (۱۱۹۴۲)۔ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ وَغَیْرِہِمَا قَالُوْا: لَمَّا بَلَغَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَرَغَ حُدِّثَ أَنَّ بِالشَّامِ وَبَائً شَدِیدًا، قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّ شِدَّۃَ الْوَبَائِ فِی الشَّامِ، فَقُلْتُ: إِنْ أَدْرَکَنِی أَجَلِی وَأَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ حَیٌّ اسْتَخْلَفْتُہُ، فَإِنْ سَأَلَنِی اللّٰہُ لِمَ اسْتَخْلَفْتَہُ عَلٰی أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ أَمِینًا وَأَمِینِی أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ۔)) فَأَنْکَرَ الْقَوْمُ ذٰلِکَ وَقَالُوْا: مَا بَالُ عُلْیَا قُرَیْشٍ یَعْنُونَ بَنِی فِہْرٍ، ثُمَّ قَالَ: فَإِنْ أَدْرَکَنِی أَجَلِی وَقَدْ تُوُفِّیَ أَبُوعُبَیْدَۃَ اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَإِنْ سَأَلَنِی رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ لِمَ اسْتَخْلَفْتَہُ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ یُحْشَرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْنَ یَدَیِ الْعُلَمَائِ نَبْذَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

شریح بن عبید اور راشد بن سعد وغیرہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سرغ کے مقام تک پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ سر زمین شام میں شدید قسم کی وباء پھوٹ پڑی ہے،انہوں نے لوگوں سے کہا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ شام میں شدید وبا پھیل گئی ہے، میں نے سوچا ہے کہ اگر مجھے موت نے آلیا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ زندہ رہ گئے تو میں ان کو اپناخلیفہ نامزد کر کے جاؤں گا، اگر اللہ نے مجھ سے پوچھا کہ تو نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت پر ان کو خلیفہ نام زد کیوں کیا تو میں جواب دوں گا کہ میں نے تیرے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ ہر نبی کا ایک قابل اعتماد آدمی ہوتا ہے اور میرا قابل اعتماد آدمی ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے۔ لوگوں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس بات کا انکار کرتے ہوئے کہا: قریش کے اشراف کا کیا بنے گا، ان کی مراد بنو فہر کے لوگ تھے، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر مجھے ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد موت آئی تو میں سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ نامزد کروں گا، اگر میرے رب عزوجل نے مجھ سے دریافت کیا کہ تو نے ان کو خلیفہ نامزد کیوں کیا تو میں کہوں گاکہ میں نے تیرے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ معاذ قیامت کے دن اہل علم کے آگے آگے جائیں گے۔

11943

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11943

Sahih

۔ (۱۱۹۴۳)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیُّ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَحَبَّ اِلَیْہِ قَالَتْ: أَبُوْ بَکْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَتْ: ثُمَّ عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَتْ: أَبُوْ عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: فَسَکَتَتْ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کس صحابی سے سب سے زیادہ محبت تھی؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعدکون محبوب تھا؟ انہوں نے کہا: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔ میں نے کہا: ان کے بعد؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، میں نے دریافت کیا کہ ان کے بعد کون؟ لیکن اس بار وہ خاموش رہیں۔

11944

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11944

Zaeef

۔ (۱۱۹۴۴)۔ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ: ابْسُطْ یَدَکَ حَتّٰی أُبَایِعَکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَنْتَ أَمِینُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) فَقَالَ أَبُوعُبَیْدَۃَ: مَا کُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَیْنَ یَدَیْ رَجُلٍ أَمَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَؤُمَّنَا، فَأَمَّنَا حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو بختری سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین یعنی انتہائی قابل اعتماد آدمی ہیں۔ تو سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس آدمی سے آگے کیسے بڑھ سکتا ہوں جسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ ہماری امامت کرائیں، پھر انھوں نے اپنی وفات تک ہماری امامت کرائی۔

11945

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11945

Sahih

۔ (۱۱۹۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ عَلَی الشَّامِ وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ، قَالَ: فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ: بُعِثَ عَلَیْکُمْ أَمِینُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَمِینُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ أَبُو عُبَیْدۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ۔)) قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خَالِدٌ سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَنِعْمَ فَتَی الْعَشِیرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معزول کرکے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شام کا عامل مقرر کیا تو سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس امت کے امین اور انتہائی قابل اعتماد آدمی کو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور اپنے خاندان کا بہترین فرد ہے۔

11946

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11946

Sahih

۔ (۱۱۹۴۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَائَ الْعَاقِبُ وَالسَّیِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ، قَالَ: وَأَرَادَا أَنْ یُلَاعِنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ: لَا تُلَاعِنْہُ فَوَاللّٰہِ! لَئِنْ کَانَ نَبِیًّا فَلَعَنَّا، قَالَ خَلَفٌ: فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا، قَالَ: فَأَتَیَاہُ فَقَالَا: لَا نُلَاعِنُکَ وَلٰکِنَّا نُعْطِیکَ مَا سَأَلْتَ، فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِینًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا أَمِینًا حَقَّ أَمِینٍ حَقَّ أَمِینٍ۔)) قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَہَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَقَالَ: ((قُمْ یَا أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَفٰی، قَال: ((ھٰذَا أَمِیْنُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۹۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نجران کے حاکم کے دونمائندے عاقب اور سید آئے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ملاعنت یعنی مباہلہ کرنا چاہتے تھے، لیکن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:اس محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے مباہلہ نہ کرو۔ اللہ کی قسم! اگر یہ سچا نبی ہوا اور ہم نے ان سے مباہلہ کر لیا تو نہ ہم فلاح پائیں گے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسل فلاح پاسکے گی۔ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے،البتہ ہم آپ کا مطالبہ پورا کر دیتے ہیں، آپ کسی امین آدمی کو ہمارے ساتھ روانہ کریں تاکہ ہم صلح نامہ کے مطابق طے شدہ مال اسے ادا کر دیں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جو صحیح معنوں میں امین اور دیانت دار ہے۔ یہ سن کر سب صحابہ نے نظریں اٹھا اٹھا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیطرف دیکھا (کہ یہ منصب کس خوش نصیب کو ملتا ہے) پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو عبیدہ! اٹھو۔ جب سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ساتھ روانہ ہوگئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت کا امین اور قابل اعتماد آدمی ہے۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔

11947

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11947

Sahih

۔ (۱۱۹۴۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔

11948

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11948

Sahih

۔ (۱۱۹۴۸)۔ وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَھْلَ الْیَمَنِ لَمَّا قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوا: ابعَثْ مَعَنَا رَجُلًا یُعَلِّمُنَا السُّنَّۃَ وَالْاِسْلَامَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِیَدِ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَقَالَ: ((ھٰذَا أَمِیْنُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب اہل یمن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے درخواست کی:آپ ہمارے ساتھ کوئی آدمی بھیجیں جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ اس امت کا امین اوردیانت دار آدمی ہے۔