Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2456

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

5 hadiths in this chapter

11936

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11936

Sahih

۔ (۱۱۹۳۶)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ کَانَ یَرْمِی بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ، وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ یَتَتَرَّسُ بِہِ وَکَانَ رَامِیًا، وَکَانَ إِذَا رَمٰی رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَخْصَہُ یَنْظُرُ أَیْنَ یَقَعُ سَہْمُہُ، وَیَرْفَعُ أَبُو طَلْحَۃَ صَدْرَہُ وَیَقُولُ: ہٰکَذَا بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، لَا یُصِیبُکَ سَہْمٌ نَحْرِی دُونَ نَحْرِکَ، وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَ یَسُوقُ نَفْسَہُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَقُولُ: إِنِّی جَلْدٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَوَجِّہْنِی فِی حَوَائِجِکَ وَمُرْنِی بِمَا شِئْتَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ احد کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے کفار پر تیربرسا رہے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پیچھے کھڑے ان کو ڈھال بنائے ہوئے تھے، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بڑے اچھے تیر انداز تھے، جب وہ تیر چھوڑتے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرتا ہے اور ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی خوشی سے سینہ تان کر کہتے: اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! ایسے ہوتی ہے تیر اندازی، اللہ کی قسم! کوئی تیر آپ تک نہیں پہنچے گا، میری گردن آپ کے آگے ہے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے لے جاتے اور کہتے: اے اللہ کی رسول! میں مضبوط ہوں، آپ اپنے کاموں کے لیے مجھے بھیجا کریں اور جوچاہیں مجھے حکم دیا کریں۔

11937

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11937

Sahih

۔ (۱۱۹۳۷)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَوْتُ أَبِی طَلْحَۃَ فِی الْجَیْشِ خَیْرٌ مِنْ فِئَۃٍ۔)) قَالَ: وَکَانَ یَجْثُو بَیْنَ یَدَیْہِ فِی الْحَرْبِ، ثُمَّ یَنْثُرُ کِنَانَتَہُ وَیَقُولُ: وَجْہِی لِوَجْہِکَ الْوِقَائُ، وَنَفْسِی لِنَفْسِکَ الْفِدَائُ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لشکر میں ابوطلحہ اکیلے کی آواز پوری جماعت کی آواز سے بہتر ہے۔ جنگ کے دوران سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے اور اپنے تر کش کے تیروں کو بکھیر دیتے اور کہتے: اے اللہ کے رسول! میرا چہرہ آپ کے چہرے کو بچانے والا ہے اور میری جان آپ کے لیے فدا ہے۔

11938

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11938

Sahih

۔ (۱۱۹۳۸)۔ قَالَ: کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ یَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتُرْسٍ وَاحِدٍ، وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَ حَسَنَ الرَّمْیِ، فَکَانَ إِذَا رَمٰی أَشْرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْظُرُ إِلٰی مَوَاقِعِ نَبْلِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک ہی ڈھال کی اوٹ میں ہو جاتے اور سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گردن اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرتا ہے۔

11939

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11939

Zaeef

۔ (۱۱۹۳۹)۔ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِی طَلْحَۃَ: ((أَقْرِئْ قَوْمَکَ السَّلَامَ، فَإِنَّہُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّۃٌ صُبُرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، میرے علم کے مطابق یہ لوگ پاکدامن اور صابر ہیں۔

11940

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11940

Sahih

۔ (۱۱۹۴۰)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: کَانَ أَبُوْطَلْحَۃَ یُکْثِرُ الصَّوْمَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا مَاتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یُفْطِرُ إِلَّا فِیْ سَفَرٍ أَوْ مَرْضٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بھی کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہو گئی تو پھر تو وہ صرف سفر یا بیماری کی وجہ سے ہی روزے کا ناغہ کرتے تھے۔