Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2416

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

13 hadiths in this chapter

11789

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11789

Sahih

۔ (۱۱۷۸۹)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِیْ بَیْتِ مَیْمُوْنَۃَ، فَوَضَعْتُ لَہٗ وَضُوْئً مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ: فَقَالَتْ مَیْمُوْنَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَضَعَ لَکَ ھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ فَقِّہْہٗ فِی الدِّیْنِ وَعَلِّمْہُ الْتَأْوِیْلَ۔)) (مسند احمد: ۳۰۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ام المومنین سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر تھے،میں نے آپ کے لیے رات کو وضو کرنے کے لیے پانی رکھا۔ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کے لیےیہ پانی عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ! اسے دین میں گہری سمجھ اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما۔

11790

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11790

Sahih

۔ (۱۱۷۹۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقً ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَضَعَ یَدَہ عَلٰی کَتِفِیْ أَوْ عَلٰی مَنْکِبِیْ شَکَّ سَعِیْدٌ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ فَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ وَعلِّمْہُ التَّأْوِیْلَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کی: یا اللہ! اسے دین میں فقاہت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔

11791

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11791

Sahih

۔ (۱۱۷۹۱)۔ وَعَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسِ الْحِکْمَۃَ وَعَلِّمْہُ التَّاْوِیْلَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ ابن عباس کو حکمت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔

11792

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11792

Sahih

۔ (۱۱۷۹۲)۔ وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَسَحَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسِیْ وَدَعَا لِیْ بِالْحِکْمَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں حکمت کی دعا فرمائی۔

11793

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11793

Sahih

۔ (۱۱۷۹۳)۔ وَعَنْہٗ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ضَمَّنِیْ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ عَلِّمْہُ الْکِتَابَ۔)) (مسند احمد: ۳۳۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور یہ دعا کی: یا اللہ! اسے قرآن مجید کا علم عطا فرما۔

11794

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11794

Sahih

۔ (۱۱۷۹۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّ کُرَیْبًا أخْبَرَہُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ، فَأَخَذَ بِیَدِی فَجَرَّنِی فَجَعَلَنِی حِذَائَہُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی صَلَاتِہِ خَنَسْتُ فَصَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِی: ((مَا شَأْنِی أَجْعَلُکَ حِذَائِی فَتَخْنِسُ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَیَنْبَغِی لِأَحَدٍ أَنْ یُصَلِّیَ حِذَائَ کَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ الَّذِی أَعْطَاکَ اللّٰہُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبْتُہُ فَدَعَا اللّٰہَ لِی أَنْ یَزِیدَنِی عِلْمًا وَفَہْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سَمِعْتُہُ یَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاہُ بِلَالٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ الصَّلَاۃَ، فَقَامَ فَصَلّٰی مَا أَعَادَ وُضُوئً ۔ (مسند احمد: ۳۰۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کے آخری حصہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کی،لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کی طرف کھینچ کر اپنے پہلو میں اپنے برابر کھڑا کر لیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں کھسک کر کچھ پیچھے کو ہو گیا، جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کی تو مجھ سے فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا، میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا اور تم کھسک گئے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو عظیم منصب و مرتبہ سے نوازا ہے۔ کیا (مجھ جیسے) کسی فرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے؟ میری یہ بات آپ کو بہت پسندآئی، آپ نے اللہ سے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ فرمائے۔ میں نے اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر گہری نیند سو گئے کہ خراٹے لینے لگے۔ اس کے بعد سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آواز دی: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو گیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر نماز ادا کی اور دوبارہ وضونہیں کیا (کیونکہ نیند میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل بیدار ہی رہتا تھا)۔

11795

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11795

Sahih

۔ (۱۱۷۹۵)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّبِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا اَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْہُ خَلْفَ بَابٍ فَدَعَانِیْ فَحَطَأَنِیْ حَطْأَۃً ثُمَّ بَعَثَ بِیْ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا میرے پاس سے گز ر ہوا تو میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلوا کر ہلکا سا جھنجھوڑا دیا اور مجھے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔

11796

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11796

Sahih

۔ (۱۱۷۹۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنْتُ مَعَ أَبِی عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ رَجُلٌ یُنَاجِیہِ، فَکَانَ کَالْمُعْرِضِ، عَنْ أَبِی فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ، فَقَالَ لِی أَبِی: أَیْ بُنَیَّ أَلَمْ تَرَ إِلَی ابْنِ عَمِّکَ کَالْمُعْرِضِ عَنِّی، فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ إِنَّہُ کَانَ عِنْدَہُ رَجُلٌ یُنَاجِیہِ، قَالَ: فَرَجَعْنَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ أَبِی: یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ کَذَا وَکَذَا، فَأَخْبَرَنِی أَنَّہُ کَانَ عِنْدَکَ رَجُلٌ یُنَاجِیکَ، فَہَلْ کَانَ عِنْدَکَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَہَلْ رَأَیْتَہُ، یَا عَبْدَ اللّٰہِ!، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّ ذَاکَ جِبْرِیلُ وَہُوَ الَّذِی شَغَلَنِی عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ کے پاس ایک اور آدمی بھی بیٹھا تھا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا،یوں لگتا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے والد کی طرف توجہ نہیں فرما رہے، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے اٹھ آئے،میرے والدنے مجھ سے کہا: بیٹا! دیکھا کہ تمہارے چچا زاد (یعنی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ میں نے عرض کیا: ابا جان، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ محو کلام تھے۔ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں واپس آگئے، اب کی بار میرے والد نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میں نے عبداللہ سے اس طرح بات کی اوراس نے بتلایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی بیٹھا آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہم کلام تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے،میں ان کیوجہ سے آپ لوگوں کی طرف تو جہ نہ کر سکا۔

11797

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11797

Zaeef

۔ (۱۱۷۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَلَہُ، وَحَمَلَ أَخَاہُ ھٰذَا قُدَّامَہُ، وَھٰذَا خَلْفَہُ۔ (مسند احمد: ۳۲۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اور ان کے بھائی کو اپنی سواری پر اٹھا لیا، ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔

11798

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11798

Sahih

۔ (۱۱۷۹۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً۔ (مسند احمد: ۳۵۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی۔

11799

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11799

Sahih

۔ (۱۱۷۹۹)۔ وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَمَعْتُ الْمُحْکَمَ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَنَا ابْنُ عَشَرَ حِجَجٍ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: وَمَا الْمُحْکَمُ؟ قَالَ: الْمُفَصَّلُ۔ (مسند احمد: ۳۱۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں محکم سورتیں یاد کر لی تھیں، جبکہ میری عمر دس برس تھی۔ میں (سعید بن جبیر) نے ان سے کہا: محکم سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: مفصل سورتیں۔

11800

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11800

Sahih

۔ (۱۱۸۰۰)۔ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ الَّذِیْ تَدْعُوْنَہُ الْمُفَصَّلُ ھُوَ الْمُحْکَمُ، تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا ابْنُ عَشَرَ سِنِیْنَ، وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْکَمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم جن سورتوں کو مفصل کہتے ہو، ان کو محکم بھی کہتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے وقت میری عمر دس سال تھی، لیکن میں یہ محکم سورتیں یاد کر چکا تھا۔

11801

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11801

Sahih

۔ (۱۱۸۰۱)۔ وَعَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رِبَاحٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا خَتِیْنٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی اس وقت میرا ختنہ ہو چکا تھا۔