Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2407

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

4 hadiths in this chapter

11763

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11763

Sahih

۔ (۱۱۷۶۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالْخُزَاعِیُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَکْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ، قَالَ الْخُزَاعِیُّ: عَنْ أُمِّ بَکْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَہُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِینَ أَلْفَ دِینَارٍ، فَقَسَمَہُ فِی فُقَرَائِ بَنِی زُہْرَۃَ وَفِی الْمُہَاجِرِینَ وَأُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَأَتَیْتُ عَائِشَۃَ بِنَصِیبِہَا، فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَ بِہٰذَا؟ فَقُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ:، وَقَالَ الْخُزَاعِیُّ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدِی إِلَّا الصَّابِرُونَ۔)) سَقَی اللّٰہُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیلِ الْجَنَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ام بکر بنت مسور سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ایک زمین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو چالیس ہزار دینار میں فروخت کی۔اور انہوں نے یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء ، مہاجرین صحابہ اور امہات المومنین میں تقسیم کر دی۔ مسور کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا حصہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ میں نے عرض کیا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی بیویوں کے حق میں فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد صبر کی صفت سے متصف لوگ ہی تم پر شفقت و مہربانی کریں۔ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرمائے۔

11764

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11764

Sahih

۔ (۱۱۷۶۴)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ لِأَزْوَاجِہِ: ((إِنَّ الَّذِی یَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدِی لَہُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ۔)) اللَّہُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیلِ الْجَنَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ازواج سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے بعد جو کوئی تمہارے اوپر شفقت کرے گا وہ انتہائی سچا اور صالح ہوگا۔ یا اللہ! تو عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنت کے سلسبیل نامی چشمے سے سیراب کرنا۔

11765

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11765

Zaeef

۔ (۱۱۷۶۵)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَیْنَمَا عَائِشَۃُ فِی بَیْتِہَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِی الْمَدِینَۃِ، فَقَالَتْ: مَا ہٰذَا؟ قَالُوْا: عِیرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنَ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ، قَالَ: فَکَانَتْ سَبْعَ مِائَۃِ بَعِیرٍ، قَالَ: فَارْتَجَّتْ الْمَدِینَۃُ مِنَ الصَّوْتِ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((قَدْ رَأَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ حَبْوًا۔)) فَبَلَغَ ذٰلِکَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّہَا قَائِمًا، فَجَعَلَہَا بِأَقْتَابِہَا وَأَحْمَالِہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے گھر تشریف فرما تھیں کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں زور زور کی آوازیں سنیں،انھوں نے پوچھا: یہ کیسی آواز ہے؟ بتانے والوں نے بتلایا کہ شام سے عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک تجارتی قافلہ آیا ہے، جو ہر قسم کا سامان اٹھائے ہوئے ہے۔ و ہ سات سو اونٹ تھے، قافلے کی آوازوں سے مدینہ گونج اٹھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں گئے۔ جب یہ بات سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: اگر کوشش کروں تو سیدھا کھڑا ہو کر بھی جنت میں جا سکتا ہوں، چنانچہ انہوں نے وہ سارا قافلہ اس کے پالانوں اور اٹھائے ہوئے سامان سمیت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا۔

11766

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11766

Sahih

۔ (۱۱۷۶۶)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، عَنْ عُرْوَۃَ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ: أَقْطَعَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا، فَذَہَبَ الزُّبَیْرُ إِلٰی آلِ عُمَرَ فَاشْتَرٰی نَصِیبَہُ مِنْہُمْ فَأَتٰی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا؟ وَإِنِّی اشْتَرَیْتُ نَصِیبَ آلِ عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ جَائِزُ الشَّہَادَۃِ لَہُ وَعَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کر دیں، سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آل عمرکے ہاں جا کر ان سے ان کا حصہ خرید لیا اور سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں جا کر کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کی تھیں، اب میں نے آل عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا حصہ تو خرید لیا۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عبدالرحمن بن عوف کی گواہی ہر حال میں مقبول ہے،وہ ان کے حق میں ہو یا ان کی مخالفت میں۔