Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11755
۔ (۱۱۷۵۵)۔ عَنْ أَبِی الْہَیْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَہْرٍ الْأَسْلَمِیِّ، أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ فِی مَسِیرِہِ إِلٰی خَیْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَکْوَعِ، وَہُوَ عَمُّ سَلَمَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَکْوَعِ وَکَانَ اسْمُ الْأَکْوَعِ سِنَانًا: ((انْزِلْ یَا ابْنَ الْأَکْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ ہُنَیَّاتِکَ۔)) قَالَ: فَنَزَلَ یَرْتَجِزُ لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: وَاللّٰہِ لَوْلَا اللّٰہُ مَا اہْتَدَیْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا،إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَیْنَا، وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۴۱)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا دہر اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی طرف جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا،یہ سلمہ بن عمرو بن اکوع کے چچا تھے اور اکوع کا نام سنان تھا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اکوع کے بیٹے! ادھر آکر ہمیں اپنے کلام میں سے حدی سناؤ۔ چنانچہ انہوں نے نیچے اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش پر یہ رجز پڑھے: وَاللّٰہِ لَوْلَا اللّٰہُ مَا اہْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَیْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا فَـأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا اللہ کی قسم اگر اللہ کی رحمت اور توفیق نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ پا سکتے، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے، ہم وہ لوگ ہیں کہ جب لوگ ہم پر ظلم کریں یا ہم پر زیادتی کرنے کا ارادہ کریں تو ہم ان کے ایسے رویہ کو برداشت نہیں کرتے۔ یا اللہ! تو ہم پر سکینت اوراطمینان نازل فرما اور اگر دشمن سے ہماری مڈ بھیڑ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔