Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2395

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ

5 hadiths in this chapter

11737

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11737

Sahih

۔ (۱۱۷۳۷)۔ قَالَ حَدَّثَنِی مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ قَالَ، خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِینَۃِ ذَاہِبًا نَحْوَ الْغَابَۃِ حَتّٰی إِذَا کُنْتُ بِثَنِیَّۃِ الْغَابَۃِ، لَقِیَنِی غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قُلْتُ: وَیْحَکَ! مَا لَکَ؟ قَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَخَذَہَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ وفَزَارَۃُ، قَالَ: فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ أَسْمَعْتُ مَنْ بَیْنَ لَابَتَیْہَا، یَا صَبَاحَاہْ! یَا صَبَاحَاہْ! ثُمَّ انْدَفَعْتُ حَتّٰی أَلْقَاہُمْ وَقَدْ أَخَذُوہَا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ، قَالَ: فَاسْتَنْقَذْتُہَا مِنْہُمْ قَبْلَ أَنْ یَشْرَبُوا، فَأَقْبَلْتُ بِہَا أَسُوقُہَا فَلَقِیَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ وَإِنِّی أَعْجَلْتُہُمْ قَبْلَ أَنْ یَشْرَبُوا فَاذْہَبْ فِی أَثَرِہِمْ، فَقَالَ: ((یَا ابْنَ الْأَکْوَعِ! مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ یُقْرَوْنَ فِی قَوْمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بتلایا کہ میں غابہ کی طرف جانے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوا، جب میں غابہ کی گھاٹی یا راستہ میں تھا تو مجھ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لڑکے کی ملاقات ہوئی، میں نے کہا تیرا بھلا ہو، تجھے کیاہوا ہے؟ وہ بولا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنیوں کو لوٹ لیا گیا ہے، میں نے پوچھا: کس نے لوٹی ہیں؟ اس نے بتایا کہ غطفان اور فزارہ کے لوگوں نے، سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے بلند آواز سے تین بار یَا صَبَاحَاہ کی آواز دی،یہ آواز اس قدر اونچی اور تیزتھی کہ میں نے مدینہ کے دو حرّوں کے مابین لوگوں تک پہنچادی، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑا، تاآنکہ میں نے ان کو جا لیا، وہ ان اونٹنیوں کو اپنے قبضے میں لے چکے تھے۔ میں ان پر تیر برسانے لگا اور میں یہ رجز پڑھتا جا تا تھا: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّعِ (میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے)۔ سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:قبل اس کے کہ وہ کہیں جا کر پانی پیتے میں نے اونٹنیوں کو ان سے چھڑوا لیا۔ میں اونٹنیوں کو لے کر واپس ہوا اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ ابھی تک پیاسے ہیں اور میں ان کے پانی پینے سے پہلے پہلے ان تک پہنچ گیا، آپ ان کے پیچھے تشریف لے چلیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن اکوع! تو نے ان پر غلبہ پالیا اب نرمی کر، قوم میں ان کی ضیافت کی جا رہی ہے۔

11738

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11738

Sahih

۔ (۱۱۷۳۸)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ عُبَیْدٍ قَالَ: رَأََیْتُ أَثَرَ ضَرْبَۃٍ فِیْ سَاقِ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ فَقُلْتُ: یَا أَبَا مُسْلِمٍ! مَا ھٰذِہِ الضَّرْبَۃُ؟ قَالَ: ھٰذِہِ ضَرْبَۃٌ أُصِبْتُہَا یَوْمَ خَبْیَرَ، قَالَ: یَوْمَ أُصِبْتُہَا، قَالَ النَّاسُ: أُصِیْبَ سَلَمَۃُ، فَأُتِیَ بِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَفَثَ فِیْہِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَکَیْتُہَا حَتَّی السَّاعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن عبید سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پنڈلی پر زخم کا ایک نشان دیکھا، میں نے پوچھا: ابو مسلم! یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: خیبر کے دن مجھے زخم لگا تھا، یہ اس کا نشان ہے، جس دن مجھے یہ زخم آیا تھا، لوگوں نے کہا: سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شدید قسم کا زخم آیا ہے، مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ نے اس زخم پر تھوک کے ساتھ تین پھونکیں ماریں، اس کے بعد اب تک مجھے اس میں کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔

11739

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11739

Sahih

۔ (۱۱۷۳۹)۔ وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَنِیْ عَمِّیْ عَامِرٌ فَقَالَ: اَعْطِنِیْ سَلَاحَکَ! قَالَ: فَأَعْطَیْتُہٗ قَالَ: فَجِئْتُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَبْغِنِیْ سَلَاحَکَ؟ قَالَ: ((اَیْنَ سَلاحُکَ؟)) قَالَ: أَعْطَیْتُہٗ عَمِّیْ عَامِرًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ((مَا أَجِدُ شِبْہَکَ اِلَّا الَّذِیْ قَالَ ھَبْ لِیْ أَخًا أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ۔)) قَالَ: فَأَعْطَانِیْ قَوْسَہٗ وَمَجَانَہٗ وَثَلَاثَۃَ أَسْہُمٍ مِنْ کِنَانَتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے اور کہا: اپنا اسلحہ مجھے دے دو۔ میں نے اپنے ہتھیار ان کو دے دیئے۔ پھر میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے ہتھیار مجھے عنایت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ہتھیار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ تو میں نے اپنے چچا سیدنا عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو تمہارے بارے میں وہی مثال پاتا ہوں کہ کسی نے دعا کی تھی کہ یا اللہ مجھے ایسا بھائی عطا کر جو مجھے میری اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی کمان،ڈھالیں اور اپنے ترکش میں سے تین تیر مجھے عطا فرمائے۔

11740

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11740

Sahih

۔ (۱۱۷۴۰)۔ عَنْ یَزِیْدَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ فذَکَرَ الْحُدَیْبِیَۃَ وَیَوْمَ حُنَیْنٍ وَیَوْمَ الْقَرْدِ وَیَوْمَ خَیْبَرَ قَالَ یَزِیْدُ: وَنَسِیْتُ بَقِیَّتَہُنَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سات غزوات میں شرکت کی، پھر انہوں نے حدیبیہ، حنین، قرد اور خیبر کے نام لیے۔ یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ باقی تین غزووں کے نام مجھے بھول گئے ہیں۔

11741

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11741

Sahih

۔ (۱۱۷۴۱)۔ وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اَنْتُمْ أَھْلُ بَدْوِنَا وَنَحْنُ أَھْلِ حَضَرِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمہ بن اکو ع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہمارے دیہاتی ہو اور ہم تمہارے شہری ہیں۔