Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2383

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

1 hadith in this chapter

11698

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11698

Sahih

۔ (۱۱۶۹۸)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ کَانَ اسْمُہُ زَاہِرًا، کَانَ یُہْدِی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْہَدِیَّۃَ مِنَ الْبَادِیَۃِ، فَیُجَہِّزُہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ زَاہِرًا بَادِیَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوہُ۔)) وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّہُ، وَکَانَ رَجُلًا دَمِیمًا، فَأَتَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَہُوَ یَبِیعُ مَتَاعَہُ، فَاحْتَضَنَہُ مِنْ خَلْفِہِ وَہُوَ لَا یُبْصِرُہُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرْسِلْنِی مَنْ ہٰذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ لَا یَأْلُوْ مَا أَلْصَقَ ظَہْرَہُ بِصَدْرِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ عَرَفَہُ، وَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ یَشْتَرِی الْعَبْدَ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِذًا وَاللّٰہِ تَجِدُنِی کَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لٰکِنْ عِنْدَ اللّٰہِ لَسْتَ بِکَاسِدٍ۔)) أَوْ قَالَ: ((لٰکِنْ عِنْدَ اللّٰہِ أَنْتَ غَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی، جس کا نام زاہرتھا، وہ دیہات سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تحائف لایا کرتا تھا، اس کی واپسی پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اسے بدلے میں کوئی چیز عطا فرمایا کرتے تھے، ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زاہر ہمارا دیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے بہت محبت تھی، وہ حسین نہیں تھے، وہ ایک دن اپنا سامان بیچ رہا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس پہنچ گئے، وہ نہ دیکھ سکا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے پیچھے سے اسے پکڑ کر اپنے بازووں کے حصار میں لے لیا، وہ کہنے لگا: مجھے چھوڑ، کون ہے؟ اس نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچان لیا، اب وہ کوشش کرکے اپنی پشت کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ اچھی طرح لگانے لگا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: اس غلام کو کون خریدے گا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن تم اللہ کے ہاں تو کم قیمت نہیں ہو، بلکہ اللہ کے ہاں تمہاری بہت زیادہ قیمت ہے۔