Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11695
۔ (۱۱۶۹۵)۔ قَالَ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِی جَدَّتِی، یَعْنِی امْرَأَۃَ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ، قَالَ عَفَّانُ: عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِیہِ امْرَأَۃِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ، أَنَّ رَافِعًا رَمٰی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمَ أُحُدٍ اَوْ یَوْمَ خَیْبَرَ، قَالَ: أَنَا أَشُکُّ بِسَہْمٍ فِی ثَنْدُوَتِہِ، فَأَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ انْزِعِ السَّہْمَ، قَالَ: ((یَا رَافِعُ إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّہْمَ وَالْقُطْبَۃَ جَمِیعًا، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّہْمَ وَتَرَکْتُ الْقُطْبَۃَ، وَشَہِدْتُ لَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَّکَ شَہِیدٌ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ بَلْ انْزِعِ السَّہْمَ وَاتْرُکِ الْقُطْبَۃَ، وَاشْہَدْ لِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنِّی شَہِیدٌ، قَالَ: فَنَزَعَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّہْمَ وَتَرَکَ الْقُطْبَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۶۹)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے بیان کیا کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احدیا خیبر کے دن ایک تیر ان کے سینے میں آ کر لگا تھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس تیر کو باہر کھینچ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رافع! اگر تم چاہو تو میں تیر اور اس کے پھل دونوں کو کھینچ دوں، لیکن اگر چاہو تو تیر کو باہر کھینچ لوں اور اس کے پھل کو اندر ہی رہنے دوں اور میں قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دوں کہ تم اللہ کی راہ میں شہید ہو۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ تیر کھینچ لیں اور اس کے پھل کو اندر رہنے دیں اور آپ قیامت کے دن میرے حق میں گواہی دیں کہ میں اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیر کو باہر کھینچ لیا اور اس کا پھل رہنے دیا۔