Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2372

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ

4 hadiths in this chapter

11673

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11673

Sahih

۔ (۱۱۶۷۳)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: قَالَتْ لِی أُمِّی: مَتٰی عَہْدُکَ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لِی بِہِ عَہْدٌ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَہَمَّتْ بِی، قُلْتُ: یَا أُمَّہْ دَعِینِی حَتّٰی أَذْہَبَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَا أَدَعُہُ حَتّٰی یَسْتَغْفِرَ لِی وَیَسْتَغْفِرَ لَکِ، قَالَ: فَجِئْتُہُ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَامَ یُصَلِّی فَلَمْ یَزَلْ یُصَلِّی حَتّٰی صَلَّی الْعِشَائَ، ثُمَّ خَرَجَ (وَزَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: مَا لَکَ؟ فَحَدَّثْتُہٗ بِالْأَمْرِ، فَقَالَ: غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ وَلِأُمِّکَ)۔ (مسند احمد: ۲۳۸۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہاری نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کب ہوئی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو اتنے عرصہ سے آپ سے ملاقات نہیں کر سکا، انہوں نے مجھے سخت سست کہا۔ میں نے عرض کیا: امی جان! آپ اجازت دیں تاکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جاؤں اور میں اس وقت ان کو چھوڑ کر الگ نہ ہوں گا، جب تک وہ میرے اور آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں دعائے مغفرت نہ کریں، چنانچہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں نماز مغرب ادا کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کھڑے ہو کر مزید نفل نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ آپ نے نماز عشاء ادا کی۔ اس کے بعد آپ باہر تشریف لے چلے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں:آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فرمائے۔

11674

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11674

Sahih

۔ (۱۱۶۷۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی حُسَیْلُ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا؟ قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوْا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِی بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ بدر میں ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اور میرا والد سیدنا حسیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جا رہے تھے کہ قریشی کفار نے ہمیں گرفتار کر لیا، انھوں نے کہا کہ تم لوگ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف جا رہے ہو۔ ہم نے کہا کہ ہم تو مدینہ کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہم سے اللہ کی قسم اور پختہ عہد لیا کہ ہم مدینہ کی طرف جائیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لیں۔ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، ہم ان سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ کی مدد کے خواستگار ہیں۔

11675

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11675

Sahih

۔ (۱۱۶۷۵)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰی مَسْحِ الْحِصٰی فَقَالَ: ((وَاحِدَۃً أَوْ دَعْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک ایک مسئلہ دریافت کیا،یہاں تک کہ میں نے یہ بھی پوچھا کہ (نماز کے دوران سجدہ والی جگہ سے) کنکریوں کو ہٹانا یا صاف کرنا کیسا ہے؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ہٹا سکتے ہو یا پھر یہ بھی رہنے دو (تو بہتر ہے)۔

11676

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11676

Sahih

۔ (۱۱۶۷۶)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ، أَنَّہُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا جَلَسْنَا إِلَیْہِ أَمْسِ سَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ؟ فَقَالُوْا: نَحْنُ سَمِعْنَاہُ، قَالَ: لَعَلَّکُمْ تَعْنُونَ فِتْنَۃَ الرَّجُلِ فِی أَہْلِہِ وَمَالِہِ؟، قَالُوْا: أَجَلْ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ تِلْکَ أَسْأَلُ، تِلْکَ یُکَفِّرُہَا الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ، وَلٰکِنْ أَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ الَّتِی تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ أَنَّہُ إِیَّایَ یُرِیدُ، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ لِی: أَنْتَ لِلَّہِ أَبُوکَ، قَالَ: قُلْتُ: تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوبِ عَرْضَ الْحَصِیرِ، فَأَیُّ قَلْبٍ أَنْکَرَہَا نُکِتَتْ فِیہِ نُکْتَۃٌ بَیْضَائُ، وَأَیُّ قَلْبٍ أُشْرِبَہَا نُکِتَتْ فِیہِ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ، حَتّٰی یَصِیرَ الْقَلْبُ عَلٰی قَلْبَیْنِ أَبْیَضَ مِثْلِ الصَّفَا لَا یَضُرُّہُ فِتْنَۃٌ مَا دَامَتْ السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرِ أَسْوَدَ مُرْبَدٍّ کَالْکُوزِ مُخْجِیًا وَأَمَالَ کَفَّہُ لَا یَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا یُنْکِرُ مُنْکَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ ہَوَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے واپس آئے تو بیان کیا کہ کل جب ہم ان کی خدمت میں بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابۂ کرام سے دریافت کیا کہ تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قیامت سے قبل بپا ہونے والے فتن کے بارے میں حدیث سنی ہو؟ تو سب نے کہا کہ اس بارے میں تو ہم سب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بہت کچھ سن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا:شاید تم لوگ میری بات سے انسان کے اس کے اہل اور مال کا فتنہ سمجھ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: میں اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، ان فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقات مٹا دیتے ہیں، میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان فتنوں کے بارے میں سنا ہو جو سمندر کی موجوں کی طرح تندی تیزی سے آئیں گے۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر سب لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھ گیا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: میں سن چکا ہوں۔ انھوں نے کہا: بہت خوب، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے بیان کیا کہ فتنے انسانوں کے دلوں پر اس طرح مسلسل چھا جائیں گے جیسے چٹائی کے تنکے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہوتے ہیں، جو دل ان فتنوں سے مانوس نہیں ہوں گے یعنی ان میں ملوث نہ ہوں گے ان پر سفید نقطے لگتے جائیں گے اور جو دل ان فتنوں سے مانوس ہو جائیں گے یعنی ان میں ملوث ہو جائیں گے ان پر سیاہ نقطے لگتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ لوگوں کے دل یعنی لوگ دو قسم کے ہو جائیں گے۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کے دل چکنے پتھر کی مانند صاف ہوں گے، جب تک آسمان اور زمین باقی ہیں یعنی قیامت تک کوئی فتنہ ان کو ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کے دل کا لے سیاہ اور ٹیڑھے ہوں گے (ساتھ ہی آپ نے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بھی دکھایا) ایسے اپنی خواہشات کے ہی تابع ہوں گے، وہ کسی بھی اچھائی کو اچھا یا برائی کو برانہیں سمجھیں گے۔