Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2367

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ

5 hadiths in this chapter

11661

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11661

Sahih

۔ (۱۱۶۶۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((اَشْبَہْتَ خَلْقِیْ وَخُلُقِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غلام سیدنا عبید اللہ بن اسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا کرتے تھے کہ تم جسمانی طور پر اور اخلاق کے لحاظ سے میرے مشابہ ہو۔

11662

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11662

Sahih

۔ (۱۱۶۶۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: مَا احْتَذَی النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ وَلَا رَکِبَ الْمَطَایَا وَلَا لَبِسَ الْکُورَ مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، یَعْنِی فِی الْجُودِ وَالْکَرَمِ۔ (مسند احمد: ۹۳۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کسی آدمی نے جوتا نہیں پہنا، نہ سواریوں پر سوار ہوا اور نہ عمامہ استعمال کیا جو سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بڑھ کر فضیلت والا ہو، ان کی مراد جود و سخاوت تھی۔

11663

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11663

Sahih

۔ (۱۱۶۶۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ، وَقَالَ: ((فَإِنْ قُتِلَ زَیْدٌ أَوِ اسْتُشْہِدَ فَأَمِیرُکُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْہِدَ فَأَمِیرُکُمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ)) فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَأَخَذَ الرَّایَۃَ زَیْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَفَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَأَتَی خَبَرُہُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ إِلَی النَّاسِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: ((إِنَّ إِخْوَانَکُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ وَإِنَّ زَیْدًا أَخَذَ الرَّایَۃَ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ أَوْ اسْتُشْہِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ بَعْدَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ أَوِ اسْتُشْہِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ أَوِ اسْتُشْہِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِ اللّٰہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَفَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ)) فَأَمْہَلَ ثُمَّ أَمْہَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ یَأْتِیَہُمْ ثُمَّ أَتَاہُمْ فَقَالَ: ((لَا تَبْکُوا عَلٰی أَخِی بَعْدَ الْیَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِی ابْنَیْ أَخِی)) قَالَ، فَجِیئَ بِنَا کَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: ((ادْعُوا إِلَیَّ الْحَلَّاقَ)) فَجِیئَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُئُ وْسَنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِیہُ عَمِّنَا أَبِی طَالِبٍ وَأَمَّا عَبْدُ اللّٰہِ فَشَبِیہُ خَلْقِی وَخُلُقِی)) ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِی فَأَشَالَہَا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِی أَہْلِہِ وَبَارِکْ لِعَبْدِ اللّٰہِ فِی صَفْقَۃِ یَمِینِہِ)) قَالَہَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَجَائَ تْ أُمُّنَا فَذَکَرَتْ لَہُ یُتْمَنَا وَجَعَلَتْ تُفْرِحُ لَہُ، فَقَالَ: ((الْعَیْلَۃَ تَخَافِینَ عَلَیْہِمْ وَأَنَا وَلِیُّہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ))۔ (مسند احمد: ۱۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر کیا۔ اور فرمایا اگر زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو جائیں تو جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن ابی طالب تمہارے امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارے امیر ہوں گے۔ مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ تو جھنڈا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُٹھایا۔ وہ دشمن سے لڑتے رہے بالآخر شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھالا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ ان کے بعد خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا۔ اور اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی۔ ان کی اطلاع نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی۔ آپ لوگوں کی طرف باہر تشریف لائے۔ اور اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ تمہارے بھائیوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ سب سے پہلے زید نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن ابی طالب نے جھنڈا اُٹھایا وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھالا لیا۔ وہ بھی لڑتے لڑتے شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے۔ ان کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور ان کے ہاتھوں اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ آل جعفر تین روز تک اس انتظار میں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لے جائیں تیسرے دن کے بعد آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا تم آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا، میرے بھتیجوں کوبلاؤ ہمیں لایا گیا تو ہم چوزوں کی طرح بالکل چھوٹے چھوٹے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نائی کو بلاؤ اسے بلایا گیا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دئیے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایایہ محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے۔ اور عبداللہ شکل وصورت اور مزاج میں میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کو اُٹھا کر فرمایایا اللہ جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اہل وعیال میں اس کا نائب بنا اور عبداللہ کی تجارت میں برکت فرما۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا تین مرتبہ کی۔ ہماری والدہ آپ کے پاس آئی اور اس نے اس پر غم کا اظہار کیا کہ یہ بچے اب بے آسرا ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کیا تم ان کے بارے میں فقروفاقہ کا اندیشہ کرتی ہو؟ دنیا اور آخرت میں میں ان کا سرپرست ہوں۔

11664

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11664

Sahih

۔ (۱۱۶۶۴)۔ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَارَّۃَ، أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ: أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ: لَوْ رَأَیْتَنِیْ وَقُثَمَ وَعُبَیْدَ اللّٰہِ ابْنَیْ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ صِبْیَانٌ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی دَابَّۃٍ، فَقَالَ: ((ارْفَعُوا ہَذَا إِلَیَّ۔)) قَالَ: فَحَمَلَنِی أَمَامَہُ، وَقَالَ لِقُثَمَ: ((ارْفَعُوا ہٰذَا إِلَیَّ۔)) فَجَعَلَہُ وَرَائَ ہُ وَکَانَ عُبَیْدُ اللّٰہِ أَحَبَّ إِلٰی عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ، فَمَا اسْتَحٰی مِنْ عَمِّہِ أَنْ حَمَلَ قُثَمًا وَتَرَکَہُ، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِی ثَلَاثًا، وَقَالَ کُلَّمَا مَسَحَ: ((اللَّہُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِی وَلَدِہِ۔)) قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ: مَا فَعَلَ قُثَمُ؟ قَالَ: اسْتُشْہِدَ، قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ أَعْلَمُ بِالْخَیْرِ وَرَسُولُہُ بِالْخَیْرِ، قَالَ: أَجَلْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

خالد بن سارہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر نے اسے بتلایا کہ کاش تم مجھے، سیدنا قثم بن عباس اور سیدنا عبید اللہ بن عباس کو دیکھتے، جب ہم بچے کھیل رہے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوار ہمارے قریب سے گزرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اٹھا کر مجھے پکڑا دو اور آپ نے مجھے اپنے آگے سواری پر سوار کر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قثم کے متعلق فرمایا کہ اسے بھی میری طرف اٹھاؤ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قثم سے زیادہ عبید اللہ سے محبت تھی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا سے اس بات کی جھجک محسوس نہیں کی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قثم کو اپنے ساتھ سوار کر لیا اور عبید اللہ کو سوار نہ کیا، پھر آپ نے تین بار میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ہر دفعہ یہ دعا کی: یا اللہ! جعفر کی اولاد میں تو ان کا خلیفہ بن جا۔ خالد بن سارہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر سے دریافت کیا کہ سیدنا قثم کی موت کیسے واقع ہوئی تھی ؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی خیر اور بھلائی کو بہتر جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، واقعی ۔

11665

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11665

Zaeef

۔ (۱۱۶۶۵)۔ وَعَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُصِیبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُہُ، دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِینَ مَنِیئَۃً وَعَجَنْتُ عَجِینِی وَغَسَّلْتُ بَنِیَّ وَدَہَنْتُہُمْ وَنَظَّفْتُہُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ائْتِینِی بِبَنِی جَعْفَرٍ۔)) قَالَتْ: فَأَتَیْتُہُ بِہِمْ فَشَمَّہُمْ وَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی مَا یُبْکِیکَ؟ أَبَلَغَکَ عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِہِ شَیْئٌ، قَالَ: ((نَعَمْ، أُصِیبُوا ہٰذَا الْیَوْمَ۔)) قَالَتْ: فَقُمْتُ أَصِیحُ وَاجْتَمَعَ إِلَیَّ النِّسَائُ وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَہْلِہِ، فَقَالَ: ((لَا تُغْفِلُوْا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَہُمْ طَعَامًا، فَإِنَّہُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے رفقاء جب شہادت پا چکے تھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے چالیس کھالیں صاف کرنے کے لیے ڈالی ہوئی تھیں، آٹا گوندھا ہوا تھا اور میں نے اپنے بچوں کو نہلا کر تیل لگا کر ان کو خوب صاف ستھرے کیاہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آکر فرمایا: جعفر کے بیٹوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لائی، آپ نے ان کو سونگھا اور ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق آپ کے پاس کوئی خبر آئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ لوگ آج شہید ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر میں اٹھی اور چیخی، عورتیں میرے پاس جمع ہوگئیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھرتشریف لے گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے سے غافل نہ ہونا، وہ اپنے سرپرست کی شہادت کے صدمے میں مبتلا ہیں۔