Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11646
۔ (۱۱۶۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((یَا بِلَالُ حَدِّثْنِی بِأَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہُ فِی الْإِسْلَامِ عِنْدَکَ مَنْفَعَۃً، فَإِنِّی سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ خَشْفَ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِی الْإِسْلَامِ أَرْجٰی عِنْدِی مَنْفَعَۃً إِلَّا أَنِّی لَمْ أَتَطَہَّرْ طُہُورًا تَامًّا فِی سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ إِلَّا صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّہُورِ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِی أَنْ أُصَلِّیَ۔ (مسند احمد: ۹۶۷۰)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ تمہیں اسلام میں اس کے بہت زیادہ نفع یعنی ثو اب کی امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ سیدنا بلا ل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسلام میں اور تو کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جس پر مجھے یہ ثواب ملا ہو،البتہ میرا معمول ہے کہ میں دن رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے جس قدر توفیق دیتا ہے، میں نماز ادا کر لیتا ہوں۔