Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2364

فضائل و مناقب کی کتاب

مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ

5 hadiths in this chapter

11646

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11646

Sahih

۔ (۱۱۶۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا بِلَالُ حَدِّثْنِی بِأَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہُ فِی الْإِسْلَامِ عِنْدَکَ مَنْفَعَۃً، فَإِنِّی سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ خَشْفَ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِی الْإِسْلَامِ أَرْجٰی عِنْدِی مَنْفَعَۃً إِلَّا أَنِّی لَمْ أَتَطَہَّرْ طُہُورًا تَامًّا فِی سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ إِلَّا صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّہُورِ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِی أَنْ أُصَلِّیَ۔ (مسند احمد: ۹۶۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ تمہیں اسلام میں اس کے بہت زیادہ نفع یعنی ثو اب کی امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ سیدنا بلا ل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: میں نے اسلام میں اور تو کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جس پر مجھے یہ ثواب ملا ہو،البتہ میرا معمول ہے کہ میں دن رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے جس قدر توفیق دیتا ہے، میں نماز ادا کر لیتا ہوں۔

11647

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11647

Sahih

۔ (۱۱۶۴۷)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہٗ وَفِیْہِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ؟)) فَقَالَ: مَا أُحْدِثُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے،البتہ اس میں یہ وضاحت ہے: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بدولت جنت میں مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ انہوں نے عرض کیا: میں کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا البتہ جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور پھر دور رکعت نماز ادا کرتا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس اسی عمل کی وجہ سے ہے۔

11648

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11648

Zaeef

۔ (۱۱۶۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَیْلَۃً أُسْرِیَ بِنَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدَخَلَ الْجَنَّۃَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِھَا وَجْسًا قَالَ: ((یَاجِبْرِیْلُ! مَاھٰذَا؟)) قَالَ: ھٰذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ جَائَ اِلَی النَّاسِ: ((قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ، رَأَیْتُ لَہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔

11649

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11649

Zaeef

۔ (۱۱۶۴۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، إِنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا حَبَسَکَ؟)) فَقَالَ: مَرَرْتُ بِفَاطِمَۃَ وَھِیْ تَطْحَنُ وَالصَّبِیُّ یَبْکِیْ، فَقُلْتُ لَہَا: اِنْ شِئْتِ کَفَیْتُکِ الرَّحَا وَکَفَیْتِنِیَ الصَّبِیَّ، وَاِنْ شِئْتِ کَفَیْتُکِ الصَّبِیَّ وَکَفَیْتِنِیَ الرَّحَا، فَقَالَتْ: أَنَا أَرْفَقُ بِاِبْنِیْ مِنْکَ فَذَاکَ حَبَسَنِیْ قَالَ: ((فَرَحِمْتَہَا رَحِمَکَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نمازِ فجر سے پیچھے رہ گئے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کہاں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس سے گزرا، وہ چکی چلا رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ چاہیں تو میں چکی چلا دوں اور آپ بچے کو سنبھالیں یا میں بچے کو سنبھال لوں اور آپ چکی چلائیں، انھوں نے کہا: تمہاری نسبت بچے پر میں زیادہ شفیق اور مہربان ہوں، تو اس کام نے مجھے نماز سے دیر کرا دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر شفقت کی، اللہ تم پر رحم فرمائے۔

11650

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11650

Zaeef

۔ (۱۱۶۵۰)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ شَاعِرًا قَالَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَبِلَالُ عَبْدِ اللّٰہِ خَیْرُ بِلَالٖ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرُ: کَذَبْتَ ذَاکَ بِلَالُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۶۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے ان کے بیٹے بلال کی وفات پر ایک قصیدہ پڑھتے ہوئے کہا: عبد اللہ کا بلال، بہترین بلال تھا۔یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو، یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بلال تھا۔