Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2360

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ

9 hadiths in this chapter

11634

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11634

Sahih

۔ (۱۱۶۳۴)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی أُمِّ سُلَیْمٍ فَأَتَتْہُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَکَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: ((أَعِیدُوْا تَمْرَکُمْ فِی وِعَائِہِ وَسَمْنَکُمْ فِی سِقَائِہِ۔)) ثُمَّ قَامَ إِلٰی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَیْمٍ وَلِأَہْلِہَا بِخَیْرٍ، فَقَالَتْ: أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی خُوَیْصَّۃً، قَالَ: ((وَمَا ہِیَ۔)) قَالَتْ: خَادِمُکَ أَنَسٌ، قَالَ: فَمَا تَرَکَ خَیْرَ آخِرَۃٍ وَلَا دُنْیَا إِلَّا دَعَا لِی بِہِ، وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ارْزُقْہُ مَالًا وَوَلَدًا، وَبَارِکْ لَہُ فِیہِ۔)) قَالَ: فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَکْثَرُ مِنِّی مَالًا، وَذَکَرَ أَنَّہُ لَا یَمْلِکُ ذَہَبًا وَلَا فِضَّۃً غَیْرَ خَاتَمِہِ، قَالَ: وَذَکَرَ أَنَّ ابْنَتَہُ الْکُبْرٰی أُمَیْنَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِہِ إِلٰی مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَیِّفًا عَلٰی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خادم سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک سو پچیس چھبیس افراد کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔

11635

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11635

Sahih

۔ (۱۱۶۳۵)۔ عَنْ أُمِّ سُلَیْمٍ أَنَّہَا قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنَسٌ خَادِمُکَ، اُدْعُ اللّٰہَ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَللّٰہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہُ وَوَلَدَہُ، وَبَارِکْ لَہُ فِیمَا أَعْطَیْتَہُ۔)) قَالَ حَجَّاجٌ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: أَخْبَرَنِی بَعْضُ وَلَدِی أَنَّہُ قَدْ دُفِنَ مِنْ وَلَدِی وَوَلَدِ وَلَدِی أَکْثَرُ مِنْ مِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ انس آپ کا خادم ہے، آپ اس کے حق میں اللہ سے دعا کر دیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر اور تو اسے جو کچھ عطا کرے، اس میں برکت فرما۔ راویٔ حدیث حجاج نے اپنی حدیث میں ذکر کیا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ میری اولاد میں سے بعض نے مجھے بتلایا کہ میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو سے زائد لوگ دفن کیے جا چکے ہیں۔

11636

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11636

Sahih

۔ (۱۱۶۳۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنٍ قَالَ: کَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَحْسَنَ النَّاسِ صَلَاۃً فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن سیرین کا بیان کا ہے کہ سفر و حضرمیں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ خوبصورت نماز ادا کرنے والے تھے۔

11637

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11637

Sahih

۔ (۱۱۶۳۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْمَدِینَۃِ أَخَذَ أَبُوْ طَلْحَۃَ بِیَدِی فَانْطَلَقَ بِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ کَیِّسٌ فَلْیَخْدُمْکَ، قَالَ: فَخَدَمْتُہُ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَاللّٰہِ! مَا قَالَ لِی لِشَیْئٍ صَنَعْتُہُ: لِمَ صَنَعْتَ ہٰذَا ہٰکَذَا؟ وَلَا لِشَیْئٍ لَمْ أَصْنَعْہُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا ہٰکَذَا؟ (مسند احمد: ۱۲۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (ہجرت کے بعد) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرا ہاتھ پکڑکر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سمجھداراور ہوشیار بچہ ہے، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔ چنانچہ میں (انس) نے سفر و حفر میں دس سال تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت سر انجام دی ۔ اللہ کی قسم! میں نے کوئی کام کر لیا تو آپ نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟یا اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔

11638

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11638

Sahih

۔ (۱۱۶۳۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: أَخَذَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ بِیَدِی مَقْدَمَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، فَأَتَتْ بِی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا ابْنِی وَہُوَ غُلَامٌ کَاتِبٌ، قَالَ: فَخَدَمْتُہُ تِسْعَ سِنِینَ فَمَا قَالَ لِی لِشَیْئٍ قَطُّ صَنَعْتُہُ، أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو میری والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرا ہاتھ پکڑے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ (اسے اپنی خدمت کے لیے قبول فرمائیں) چنانچہ میں نے آپ کی نو برس تک خدمت کی، میں نے کوئی کام کیا ہو تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یوں نہ فرمایا کہ تونے برا کام کیا ہے، یا تو نے غلط کام کیا ہے۔

11639

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11639

Sahih

۔ (۱۱۶۳۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ سَقَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَدَحِی ہٰذَا الشَّرَابَ کُلَّہُ الْعَسَلَ وَالْمَائَ وَاللَّبَنَ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو شہد، پانی اور دودھ، بلکہ ہر قسم کا مشروب پلایا ہے۔

11640

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11640

Sahih

۔ (۱۱۶۴۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَوَجِّہًا إِلَی أَہْلِی، فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ یَلْعَبُونَ فَأَعْجَبَنِی لَعِبُہُمْ، فَقُمْتُ عَلَی الْغِلْمَانِ فَانْتَہٰی إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا قَائِمٌ عَلَی الْغِلْمَانِ، فَسَلَّمَ عَلَی الْغِلْمَانِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ لَہُ فَرَجَعْتُ، فَخَرَجْتُ إِلٰی أَہْلِی بَعْدَ السَّاعَۃِ الَّتِی کُنْتُ أَرْجِعُ إِلَیْہِمْ فِیہَا، فَقَالَتْ لِی أُمِّی: مَا حَبَسَکَ الْیَوْمَ یَا بُنَیَّ؟ فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ لَہُ، فَقَالَتْ: أَیُّ حَاجَۃٍ یَا بُنَیَّ؟ فَقُلْتُ: یَا أُمَّاہُ إِنَّہَا سِرٌّ، فَقَالَتْ: یَا بُنَیَّ احْفَظْ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِرَّہُ، قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ أَتَحْفَظُ تِلْکَ الْحَاجَۃَ الْیَوْمَ أَوْ تَذْکُرُہَا، قَالَ: إِی وَاللّٰہِ! وَإِنِّی لَا أَذْکُرُہَا، وَلَوْ کُنْتُ مُحَدِّثًا بِہَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَحَدَّثْتُکَ بِہَا یَا ثَابِتُ! (مسند احمد: ۱۳۴۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے روانہ ہو کر اپنے اہل کی طرف چلا اورراستے میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے گزرا، مجھے ان کا کھیل اچھا لگاتو میں وہاں رک کر انہیں دیکھنے لگا، میں ابھی وہیں کھڑاتھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لے آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آکر بچوں کو سلام کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے روانہ فرمایا، میں کام کرکے واپس آیا تو اپنے سابقہ معمول سے ہٹ کر ذرا لیٹ گھر پہنچا، تو میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا: بیٹے! کہاں دیر ہوگئی تھی؟ میں نے عرض کیا: امی جان! یہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: بیٹے! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ ثابت کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: ابو حمزہ! کیا آج بھی آپ کو وہ کام یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم یاد رہے، لیکن میں بتاؤں گا نہیں۔ ثابت! اگر لوگوں میں سے کسی کو میں نے وہ بتانا ہوتا تو تمہیں ضرور بتلا دیتا۔

11641

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11641

Sahih

۔ (۱۱۶۴۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا ابْنُ عَشَرٍ وَمَاتَ وَأنَا ابْنُ عِشْرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت میری عمر دس سال تھی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت میری عمر بیس برس تھی۔

11642

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11642

Sahih

۔ (۱۱۶۴۲)۔ عَنْ حُمِیْدٍ عَنْ أَنَسٍ عُمِّرَ مِائَۃَ سَنَۃٍ غَیْرَ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عمر ننانوے سال تھی۔