Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2358

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ

5 hadiths in this chapter

11628

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11628

Sahih

۔ (۱۱۶۲۸)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ، وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ، تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً فِی حَاجَۃٍ لَہُمَا حَتّٰی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌ وَلَیْلَۃٌ شَدِیدَۃُ الظُّلْمَۃِ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْقَلِبَانِ وَبِیَدِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عُصَیَّۃٌ، فَأَضَاء َتْ عَصَا أَحَدِہِمَا لَہُمَا حَتّٰی مَشَیَا فِی ضَوْئِہَا حَتّٰی إِذَا افْتَرَقَ بِہِمَا الطَّرِیقُ أَضَائَ تْ لِلْآخَرِ عَصَاہُ، فَمَشٰی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فِی ضَوْء ِ عَصَاہُ حَتّٰی بَلَغَ إِلٰی أَہْلِہِ۔(مسند احمد: ۱۲۴۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک انصاری شخص (عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) رات کو دیر تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے،یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا، جبکہ رات بھی سخت اندھیری تھی۔ پھرجب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے اٹھ کر واپس چلے تو دونوں کے پاس ایک ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور اس طرح وہ دونوں اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں اپنے گھر پہنچ گئے۔

11629

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11629

Sahih

۔ (۱۱۶۲۹)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): أَنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ کَانَا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی لَیْلَۃٍ ظَلْمَائَ حِنْدِسٍ، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِہِ فَأَضَائَ تْ عَصَا أَحَدِہِمَا، فَجَعَلَا یَمْشِیَانِ فِی ضَوْئِہَا، فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَائَ تْ عَصَا الْآخَرِ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا: فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَائَ تْ عَصَا ذَا وَعَصَا ذَا۔ (مسند احمد: ۱۳۹۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سخت اندھیری رات میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے رہے، وہ آپ کے ہاں سے اٹھ کر گئے تو ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔ حماد راوی نے یوں کہا ہے کہ جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو اس کی لاٹھی روشن تھی اور دوسرے کی بھی روشن ہوگئی۔

11630

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11630

Sahih

۔ (۱۱۶۳۰)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَرَاَ رَجُلٌ الْکَہْفَ وَفِیْ الدَّارِ دَابَّۃٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَاِذَا ضَبَابَۃٌ اَوْ سَحَابَۃٌ قَدْ غَشِیَتْہُ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اقْرَاْ فَلَانُ! فَاِنَّہَا السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ اَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔

11631

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11631

Zaeef

۔ (۱۱۶۳۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ: کَانَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ مِنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ، وَکَانَ یَقُولُ: لَوْ أَنِّی أَکُونُ کَمَا أَکُونُ عَلَی أَحْوَالٍ ثَلَاثٍ مِنْ أَحْوَالِی لَکُنْتُ، حِینَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَحِینَ أَسْمَعُہُ یُقْرَأُ، وَإِذَا سَمِعْتُ خُطْبَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِذَا شَہِدْتُ جِنَازَۃً وَمَا شَہِدْتُ جِنَازَۃً قَطُّ فَحَدَّثْتُ نَفْسِی بِسِوَی مَا ہُوَ مَفْعُولٌ بِہَا وَمَا ہِیَ صَائِرَۃٌ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہا کرتی تھیں کہ سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا افضل ترین لوگوں میں سے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ تین مواقع پر میری جو کیفیت ہوتی ہے، اگر میں اسی حالت پر برقرار رہوں تو یقینا جنتی ہوں گا: (۱)جب میں قرآن کی تلاوت خود کر رہا ہوں یا کسی سے سن رہا ہوں، (۲)جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ سنتا ہوں اور (۳)جب میں کسی جنازہ میں شریک ہوتا ہوں تو میری تمام تر توجہ اس طرف ہوتی ہے کہ اس شخص کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔

11632

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11632

Sahih

۔ (۱۱۶۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ فَتُلُقِّینَا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ، وَکَانَ غِلْمَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَہْلِیہِمْ فَلَقُوا أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ فَنَعَوْا لَہُ امْرَأَتَہُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ یَبْکِی، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہُ: غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَکَ مِنْ السَّابِقَۃِ وَالْقِدَمِ، مَا لَکَ تَبْکِی عَلَی امْرَأَۃٍ، فَکَشَفَ عَنْ رَأْسِہِ وَقَالَ: صَدَقْتِ لَعَمْرِی حَقِّی أَنْ لَا أَبْکِی عَلٰی أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَدْ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا قَالَ، قَالَتْ: قُلْتُ لَہُ: مَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقَدِ اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاۃِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔)) قَالَتْ: وَہُوَ یَسِیرُ بَیْنِی وَبَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب ہم حج یا عمرہ سے واپس آئے تو اہل مدینہ نے ذوالحلیفہ میں آکر ہمارا استقبال کیا، انصار کے لڑکے بھی اپنے گھر والوں کو ملنے آئے، جب ان کی سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی تو ان کو ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی، انہوں نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لیا اور رونے لگ گئے۔ ام المومنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے آپ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کو بہت سی فضیلتیں حاصل ہیں۔ آپ بیوی کی وفات پر اس قدر کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹا کر کہا: آپ نے درست کہا ہے، واقعی حق تو یہ ہے کہ میں سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد کسی پر نہ روؤں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں بہت کچھ فرمایا ہے۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاکہ اللہ کا عرش سعد بن معاذ کی وفات پر جھوم گیا۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: یہ بات بیان کرتے وقت سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔