Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2356

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

6 hadiths in this chapter

11616

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11616

Sahih

۔ (۱۱۶۱۶)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أُبَیُّ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَیْکَ سُورَۃَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَقَدْ ذُکِرْتُ ہُنَاکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَفَرِحْتَ بِذٰلِکَ؟ قَالَ: وَمَا یَمْنَعُنِی؟ وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُولُ: {قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} قَالَ مُؤَمَّلٌ: قُلْتُ لِسُفْیَانَ: ہٰذِہِ الْقِرَائَۃُ فِی الْحَدِیثِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابی! اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے سامنے فلاں سورت کی تلاوت کروں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے ہاں میرا نام لیا گیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ عبداللہ بن ابزیٰ نے سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو منذر! کیایہ بات سن کر آپ کو خوشی ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: خوشی کیوں نہ ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:{قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} … اے نبی! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ تم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش رہو، یہ لوگ جو دنیوی مال و اسباب جمع کرتے ہیں،یہ اس سے بہتر ہے۔ (چونکہ قرآن کریم کی قرأت متواترہ فَلْیَفْرَحُوْا ہے)، امام احمد کے شیخ مؤمل سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ سفیان سے دریافت کیا، کیایہ قرأت فَلْتَفْرَحُوْا حدیث میں ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔

11617

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11617

Sahih

۔ (۱۱۶۱۷)۔ حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اِسْحٰقَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ کَعْبِ بْنِ عُجَرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرِسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَرَاَیْتَ ھٰذِہِ الْاَمْرَاضَ الَّتِیْ تُصِیْبُنَا مَالَنَا بِھَا؟ قَالَ: ((کَفَّارَاتٌ۔)) قَالَ اَبِیْ: وَاِنْ قَلَّتْ؟ قَالَ: ((وَاِنْ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَھَا۔)) قَالَ: فَدَعَا اَبِیْ عَلٰی نَفْسِہِ اَنْ لَّا یُفَارِقَہُ الْوَعْکُ حَتّٰی یَمُوْتَ فِیْ اَنْ لَّا یَشْغَلَہُ عَنْ حَجٍّ، وَلا عُمْرَۃٍ، وَلا جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّّٰہِ، وَلا صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَمَا مَسَّہُ اِنْسَانٌ اِلَّا وَجَدَ حَرَّہُ حَتّٰی مَاتَ۔(مسند احمد: ۱۱۲۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔

11618

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11618

Sahih

۔ (۱۱۶۱۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: ((اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَاَ عَلَیْکَ: {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا}۔)) قَالَ :وَ سَمَّانِیْ لَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَبَکٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورۂ بینہ کی تلاوت کروں۔ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیاہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ سن کر سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رو پڑے۔

11619

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11619

Sahih

۔ (۱۱۶۱۹)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُبَیًّا قَالَ لِعُمَرَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! إِنِّی تَلَقَّیْتُ الْقُرْآنَ مِمَّنْ تَلَقَّاہُ (وَقَالَ عَفَّانُ مِمَّنْ یَتَلَقَّاہُ) مِنْ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام وَہُوَ رَطْبٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! میں نے قرآن کریم براہ راست اس ہستی سے سنا اور سیکھا ہے جنہوں نے جبریل علیہ السلام سے حاصل کیا، جبکہ وہ تروتازہ تھا۔

11620

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11620

Sahih

۔ (۱۱۶۲۰)۔ عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِی سَبْرَۃَ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِالنَّاسِ فَتَرَکَ آیَۃً فَقَالَ: ((أَیُّکُمْ أَخَذَ عَلَیَّ شَیْئًا مِنْ قِرَائَتِی؟)) فَقَالَ أُبَیٌّ: أَنَا، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تَرَکْتَ آیَۃَ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قَدْ عَلِمْتُ إِنْ کَانَ أَحَدٌ أَخَذَہَا عَلَیَّ فَإِنَّکَ أَنْتَ ہُوَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور بھول کر ایک آیت ترک کر گئے، بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کو قرأت میں میری غلطی کا احساس ہوا ہے؟ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ چل گیا تھا، آپ فلاں آیت چھوڑ گئے ہیں۔ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے پتہ تھا کہ اگر کسی کا اس کا ادراک ہو گا تو وہ تم ہی ہو گے۔

11621

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11621

Sahih

۔ (۱۱۶۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أُبَیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَہُ: ((أَیُّ آیَۃٍ فِی کِتَابِ اللّٰہِ أَعْظَمُ؟)) قَالَ: اَللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، فَرَدَّدَہَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ أُبَیٌّ: آیَۃُ الْکُرْسِیِّ، قَالَ: ((لِیَہْنِکَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ لَہَا لِسَانًا وَشَفَتَیْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِکَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سب سے زیادہ عظمت کی حامل ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بار بار یہی سوال کیا، تو سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ آیت الکرسی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو المنذر! تمہیں یہ علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اللہ کے عرش کے پائے کے قریب اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور پاکی بیان کرتی ہے۔