Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2354

فضائل و مناقب کی کتاب

بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت

9 hadiths in this chapter

11597

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11597

Sahih

۔ (۱۱۵۹۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِطَّلَعَ عَلٰی أَھْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۹۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرتے رہو، میں نے تم کو بخش دیا ہے۔

11598

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11598

Sahih

۔ (۱۱۵۹۸)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی آدمی جہنم میں ہر گز نہیں جائے گا۔

11599

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11599

Sahih

۔ (۱۱۵۹۹)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: اِنَّ جِبْرِیْلَ أَوْ مَلِکًا جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَ مَنْ شَہِدَ بَدْرًا فِیْکُمْ قَالُوْا: ((خِیَارَنَا۔)) قَالَ: کَذٰلِکَ ھُمْ عِنْدَنَا خِیَارُنَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام یاکوئی اور فرشتہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: تم لوگوں کے ہاں اہل بدر کا کیا مقام ہے؟ صحابۂ کرام نے کہا: وہ ہم میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ اس فرشتے نے کہا:ہمارے ہاں بھی معاملہ اسی طرح ہے کہ بدر میں شریک ہونے والے فرشتے باقی فرشتوں کی بہ نسبت بہتر اور افضل ہیں۔

11600

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11600

Sahih

۔ (۱۱۶۰۰)۔ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ لَّا یَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ أَحَدٌ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: اَلَیْسَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا قَالَتْ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} [مریم: ۷۲]۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی فرد ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح نہیں ہے کہ {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} … اور تم میں سے کوئی نہیں ہے، مگر وہ جہنم میں وارد ہونے والا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے آگے یوں تلاوت کرتے ہوئے سنا: {ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} … پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور کافروں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا رہنے دیں گے۔

11601

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11601

Sahih

۔ (۱۱۶۰۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْحُدَیْبِیَۃِ، قَالَ: ((لَا تُوقِدُوْا نَارًا بِلَیْلٍ۔)) قَالَ: فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَاکَ، قَالَ: ((أَوْقِدُوْا وَاصْطَنِعُوا، فَإِنَّہُ لَا یُدْرِکُ قَوْمٌ بَعْدَکُمْ صَاعَکُمْ وَلَا مُدَّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ رات کو آگ نہ جلائیں (تاکہ دشمن کو ہمارا اندازہ نہ ہو)۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب حالات پر امن ہوئے تو آپ نے عام اجازت دے دی تھی کہ جب چاہو آگ جلا اور کھانا تیار کر سکتے ہو، پس بیشک شان یہ ہے کہ تمہارے بعد والی کوئی قوم تمہارے صاع اورمُدّ کو نہیں پہنچ سکتی۔

11602

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11602

Sahih

۔ (۱۱۶۰۲)۔ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ قَالَتْ: جَائَ غُلَامُ حَاطِبٍ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَا یَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَذَبْتَ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام مبشر زوجہ زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام نے آکر کہا: اللہ کی قسم! حاطب جنت میں نہیں جائے گا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم غلط کہہ رہے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔

11603

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11603

Sahih

۔ (۱۱۶۰۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنََّہٗ قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَابَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔

11604

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11604

Sahih

۔ (۱۱۶۰۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ عِدَّۃَ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یَوْمَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ اَصْحَابِ طَالُوْتَ یَوْمَ جَالُوْتَ، ثَلَاثُ مَائِۃٍ وَ بِضْعَۃَ عَشَرَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوا مَعَہُ النَّھْرَ، قَالَ: وَ لَمْ یُجَاوِزْ مَعَہُ النَّھْرَ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔

11605

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11605

Sahih

۔ (۱۱۶۰۵)۔ عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِیِّ قَالَ: قَالَ حُذَیْفَۃُ: مَا أَخْبِیَۃٌ بَعْدَ أَخْبِیَۃٍ کَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَدْرٍ، مَا یُدْفَعُ عَنْہُمْ مَا یُدْفَعُ عَنْ أَہْلِ ہٰذِہِ الْأَخْبِیَۃِ، وَلَا یُرِیدُ بِہِمْ قَوْمٌ سُوئً إِلَّا أَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُمْ عَنْہ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

بلال عبسی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:بدر کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جو خیمے تھے، ویسے اب خیمے کہاں ہیں؟ جو شرف اور مقام اہل بدر کا ہے وہ کسی دوسرے خیمے والوں کا کیسے ہو سکتا ہے؟ جس نے بھی اہل بدر کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ کی طرف سے اس کی ایسی گرفت ہوئی کہ وہ اسی میں پھنسے رہ گئے۔