Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11451
۔ (۱۱۴۵۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَہُ ذَاتَ یَوْمٍ فَقُلْنَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ أَیَّتُنَا أَسْرَعُ بِکَ لُحُوقًا، فَقَالَ: ((أَطْوَلُکُنَّ یَدًا۔)) فَأَخَذْنَا قَصَبًا فَذَرَعْنَاہَا فَکَانَتْ سَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ أَطْوَلَنَا ذِرَاعًا، فَقَالَتْ: تُوُفِّیَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَکَانَتْ سَوْدَۃُ أَسْرَعَنَا بِہِ لُحُوقًا، فَعَرَفْنَا بَعْدُ إِنَّمَا کَانَ طُولُ یَدِہَا مِنَ الصَّدَقَۃِ، وَکَانَتِ امْرَأَۃً تُحِبُّ الصَّدَقَۃَ رضی اللہ عنہا ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۱۱)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ایک دن آپ کے پاس جمع تھیں، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! ہم میں سے سب سے پہلے کون سی بیوی آپ کو جاملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں، وہ سب سے پہلے مجھے آکر ملے گی۔ ہم نے ایک سرکنڈا لے کر ہاتھوں کی پیمائش کی، تو ہم میں سے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے طویل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہم میں سے سب سے پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملیں،یعنی ازواج مطہرات میں سب سے پہلے ان کا انتقال ہوا، توہمیں بعد میں اس حقیقت کا پتہ چلا کہ ان کا ہاتھ صدقہ کرنے میں لمبا تھا، وہ صدقہ کرنے کو بہت زیادہ پسند کرتی تھیں۔