Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2302

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نفلی روزوں کا بیان

3 hadiths in this chapter

11364

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11364

Sahih

۔ (۱۱۳۶۴)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ الْأَیَّامَیَسْرُدُ حَتّٰییُقَالَ: لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ الْأَیَّامَ حَتّٰی لَا یَکَادُ أَنْ یَّصُوْمَ، إِلاَّ یَوْمَیْنِ مِنَ الْجُمُعَۃِ، إِنْ کَانَا فِیْ صِیَامِہِ وَإِلَّا صَامَہُمَا، وَلَمْ یَکُنْیَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا یَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تَصُوْمُ لَا تَکَادُ أَنْ تُفْطِرَ، وَ تُفْطِرُ حَتّٰی لاَ تَکَادُ أَنْ تَصُوْمَ، إِلَّا یَوْمَیْنِ إِنْ دَخَلَا فِی صِیَامِکَ وَإِلَّا صُمْتَہُمَا، قَالَ: ((أَیُّیَوْمَیْنِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَوْمُ الْاِثْنَیْنِ وَ یَوْمُ الْخَمِیْسِ، قَالَ: ((ذَانِکَ یَوْمَانِ تُعْرَضُ فِیْہِمَا الْأَعْمَالُ عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَأَحَبُّ أَنْ یُعْرَضَ عَمَلِی وَأَنَا صَائِمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَلَمْ أَرَکَ تَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ((ذَاکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ بَیْنَ رَجَبٍ وَ رَمَضَانَ، وَھُوَ شَہْرٌ یُرْفَعُ فِیْہِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَأُحِبُّ أَنْ یُرْفَعَ عَمَلِی وَأَنَا صَائِمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کئی کئی دن تک مسلسل روزے رکھتے یہاں تک کہ کہاجاتا کہ لگتا ہے کہ اب آپ ناغہ نہیں کریں گے، لیکن کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طویل عرصہ تک ہفتہ کے دو دنوں کے سوا کوئی روزہ نہ رکھتے اور آپ جس قدر نفلی روزے ماہ شعبان میں رکھتے اتنے روزے دوسرے کسی مہینہ میں نہیں رکھتے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ روزے رکھنے لگتے ہیں تو چھوڑتے ہی نہیں اور اگر ترک کرنے لگتے ہیں تو ہفتہ میں دو دنوں کے سوا روزے رکھتے ہی نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کون سے دو دن ؟ میں نے عرض کیا: سوموار اور جمعرات کا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو دنوں میںانسانوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے جب پیش کیے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ جتنے نفلی روزے ماہ شعبان میں رکھتے ہیںاتنے روزے دوسرے کسی اور مہینے میں نہیں رکھتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رجب اور رمضان کے درمیان والا یعنی شعبان ایسا مہینہ ہے کہ لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، جبکہ اس مہینے میں اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے حضور اس حال میں پیش کیے جائیں تو میں روزے سے ہوں۔

11365

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11365

Sahih

۔ (۱۱۳۶۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: مَا عَلِمْتُہُ صَامَ شَہْرًا حَتّٰییُفْطِرَمِنْہُ، وَلَا أَفْطَرَہُ حَتّٰییَصُوْمَ مِنْہُ حَتّٰی مَضٰی لِسَبِیْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزوں کی بابت دریافت کیا،انہوں نے کہا: میرے علم کے مطابق رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس مہینے بھی (نفلی) روزے رکھے اس میں سے کچھ دن ناغہ بھی کیا اور جس مہینے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزوں کا ناغہ کیا، اس میں کچھ نہ کچھ روزے بھی ضرور رکھے ہیں، وفات تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہی معمول رہا۔

11366

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11366

Sahih

۔ (۱۱۳۶۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ مَا یُرِیْدُ اَنْ یُفْطِرَ، وَیُفْطِرُحَتّٰی نَقُوْلَ مَا یُرِیْدُ اَنْ یَصُوْمَ، وَکَانَ یَقْرَئُ کُلَّ لَیْلَۃٍ بَنِی إِسْرَائِیْلَ وَالزُّمَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔