Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2298

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ

8 hadiths in this chapter

11326

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11326

Sahih

۔ (۱۱۳۲۶)۔ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَنَامُ عَیْنِی وَلَا یَنَامُ قَلْبِی۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری آنکھ سوجاتی ہے اور میرا دل نہیں سوتا۔

11327

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11327

Sahih

۔ (۱۱۳۲۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا نَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ الْعِشَائِ وَلَا سَمَرَ بَعْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء سے قبل سوتے نہیں تھے اورعشاء کے بعد بات چیت نہیں کرتے تھے۔

11328

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11328

Sahih

۔ (۱۱۳۲۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا کُنْتُ أَلْقَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ السَّحَرِ، وَفِی رِوَایَۃٍ: مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ إِلَّا وَھُوَ عِنْدِی نَائِمًا۔ (مسند احمد: ۲۵۵۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سحری کے وقت یا رات کے آخری حصہ میں اپنے ہاں سویا ہوا پاتی۔

11329

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11329

Sahih

۔ (۱۱۳۲۹)۔ عَنْ حَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہِ الْأَیْمَنِ، وَکَانَتْ یَمِیْنُہُ لِطَعَامِہِ وَطُہُوْرِہِ وَصَلَاتِہِ وَثِیَابِہِ، وَکَانَتْ شِمَالُہُ لِمَا سِوٰی ذٰلِکَ، وَکَانَ یَصُوْمُ الْإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بستر پر دراز ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دایاں ہاتھ(اور دائیں جانب) کھانا کھانے، وضوء کرنے، نماز پڑھنے اور کپڑے پہننے کے لیے مخصوص تھا اور بایاں ہاتھ (اور بائیں جانب) باقی کاموں کے لیے مخصوص تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

11330

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11330

Sahih

۔ (۱۱۳۳۰)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا آوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہِ، وَقَالَ: ((رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے اور تین بار یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے میرے رب! تو جس دن اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔

11331

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11331

Sahih

۔ (۱۱۳۳۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: کَانَ ضِجَاعُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِی یَنَامُ عَلَیْہِ بِاللَّیْلِ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِیْفًا۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس پر رات کو سویا کرتے تھے، چمڑے کا تھا، اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔

11332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11332

Sahih

۔ (۱۱۳۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ عَلٰی حَصِیْرٍ قَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِہِ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ ھٰذَا، فَقَالَ: ((مَالِی وَلِلدُّنْیَا؟ مَا مَثَلِی وَمَثَلُ الدُّنْیَا إِلَّا کَرَاکِبٍ سَارَ فِییَوْمٍ صَائِفٍ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسم پر اثر کیا ہوا تھا، اسی حالت میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، یہ منظر دیکھ کر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے ذرا نرم بستر بنوالیں تو بہتر ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی سی ہے، جو سخت گرمی میں سفر کرے اور دن کے کسی وقت کسی درخت کے سائے میں آرام کرے ۔پھر اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔

11333

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11333

Sahih

۔ (۱۱۳۳۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ مُضْطَجِعٌ عَلٰی سَرِیْرٍ مُرْمَلٌ بِشَرِیْطٍ، وَتَحْتَ رَأْسِہِ وِسَادَۃٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہِ وَدَخَلَ عُمَرُ، فَانْحَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انْحِرَافَۃً، فَلَمْ یَرَعُمَرُ بَیْنَ جَنْبِہِ وَبَیْنَ الشَّرِیْطِ ثَوْبًا، وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِیْطُ بِجَنْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَبَکٰی عُمَرُ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یُبْکِیْکَیَا عُمَرُ؟)) قَالَ: وَاللّٰہِ! إِلَّا أَنْ أَکُوْنَ أَعْلَمَ، أَنَّکَ أَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ کِسْرٰی وَقَیْصَرَ وَھُمَا یَعْبَثَانِ فِی الدُّنْیَا فِیْمَایَعْبَثَانِ فِیْہِ، وَأَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَکَانِ الَّذِی أَرٰی، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ لَھُمُ الدُّنْیَا وَلَنَا الْآخِرَۃُ؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((فَإِنَّہُ کَذَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناسیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجور کے تنوں سے بنی ہوئی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ چند صحابہ اسی عالم میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں آئے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریفلائے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلو بدلا تو عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو اور چار پائی کے بان کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا۔ اور بان کے نشانات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو پر ثبت تھے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: عمر! تجھے کس چیز نے رلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے ہاں کسریٰ اور قیصر کے مقابلے میں بہت زیادہ معزز ہیں۔ وہ دنیا میں خوب عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور اللہ کے رسول! آپ کی وہ حالت ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔