Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2296

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ ماکولات کا بیان

11 hadiths in this chapter

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۲/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَتْ تُعْجِبُہُ الْفَاغِیَۃُ وَکَانَ اَعْجَبُ الطَّعَامِ اِلَیِْہِ الدُّبَّائِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فاغیہ بہت پسند تھا اور کھانوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کدو کا سالن تھا۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۳/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قُدِّمَتْ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَصْعَۃٌ فِیہَا قَرْعٌ، قَالَ: وَکَانَ یُعْجِبُہُ الْقَرْعُ، قَالَ: فَجَعَلَ یَلْتَمِسُ الْقَرْعَ بِأُصْبُعِہِ أَوْ قَالَ بِأَصَابِعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک پیالہ نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب کیا گیا، اس میں کدو بھی تھے، جبکہ یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند بھی بڑی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی انگلی یا انگلیوں کی مدد سے کدو تلاش کرنے لگے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۴/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَال: دَعَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَہُ، قَال: فَجِیئَ بِمَرَقَۃٍ فِیہَا دُبَّائٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْکُلُ ذَلِکَ الدُّبَّائَ وَیُعْجِبُہُ، فَلَمَّا رَأَیْتُ ذَلِکَ جَعَلْتُ أُلْقِیہِ إِلَیْہِ وَلَا أَطْعَمُ مِنْہُ شَیْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّہُ قَالَ سُلَیْمَان: فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیَّ فَقَال: مَا أَتَیْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَطُّ فِی زَمَانِ الدُّبَّائِ إِلَّا وَجَدْنَاہُ فِی طَعَامِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے گئے اور میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گیا، پس کھانے میں شوربا لایا گیا، اس میں کدو تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے کدو کھانے لگے، دراصل کدو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند تھے، جب میں نے اس چیز کا مشاہدہ کیا تو میں کدو ڈال کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دینے لگا اور میں خود نہیں کھا رہا تھا (تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیر ہو کر کھا لیں)۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پس میں اس وجہ سے ہمیشہ کدو پسند کرتا رہا، سلیمان تیمی کہتے ہیں: کدو کے موسم میں ہم جب بھی سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آتے تھے تو ان کے کھانے میں کدو پاتے تھے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۵/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ قَتَادَۃَ، سَمِعَ أَنَسًا: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُعْجِبُہُ الدُّبَّائُ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَضَعُہُ بَیْنَیَدَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کدو پسند تھے، پس میں وہ کدو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھتا تھا۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۶/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسٍ قَال: بَعَثَتْ مَعِی أُمُّ سُلَیْمٍ بِمِکْتَلٍ فِیہِ رُطَبٌ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْہُ، وَخَرَجَ قَرِیبًا إِلَی مَوْلًی لَہُ، دَعَاہُ صَنَعَ لَہُ طَعَامًا۔ قَال: فَأَتَیْتُہُ، فَإِذَا ہُوَ یَأْکُلُ، فَدَعَانِی لِآکُلَ مَعَہُ قَالَ: وَصَنَعَ لَہُ ثَرِیدًا بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ قَال: وَإِذَا ہُوَ یُعْجِبُہُ الْقَرْعُ قَال: فَجَعَلْتُ أَجْمَعُہُ وَأُدْنِیہِ مِنْہُ۔ قَال: فَلَمَّا طَعِمَ رَجَعَ إِلَی مَنْزِلِہِ ، قَال: وَوَضَعْتُ لَہُ الْمِکْتَلَ بَیْنَیَدَیْہِ، قَال: فَجَعَلَ یَأْکُلُ، وَیَقْسِمُ حَتَّی فَرَغَ مِنْ آخِرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلیم نے مجھے ایک ٹوکرا دے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طر ف بھیجا، اس میں تازہ کھجوریں تھیں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھر پر نہیں پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قریب ہی اپنے ایک غلام کی طرف گئے ہوئے تھے، دراصل اس نے کھانا تیار کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی تھی، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھے کھانے کے لیے بلایا، اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے گوشت اور کدو کا ثرید بنایا تھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تو کدو بہت پسند تھے، پس میں کدو جمع کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب کرنے لگا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھانے سے فارغ ہو کر گھر تشریف لے آئے تو میں نے وہ ٹوکرا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کھجوریں کھانا اور ان کو تقسیم کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئیں۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۷/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِیہِ قَال: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَیْتِہِ، فَرَأَیْتُ عِنْدَہُ قَرْعًا فَقُلْت: یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا ہَذَا؟ قَال: ہَذَا قَرْعٌ نُکَثِّرُ بِہِ طَعَامَنَا۔ (مسند احمد: ۱۹۳۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں کدو دیکھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کدو ہیں، ہم زیادہ تر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کرتے ہیں۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۸/۱۱۳۲۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِیُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَال: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْجِبُہُ الثُّفْلُ قَالَ عَبَّادٌ یَعْنِی: ثُفْلَ الْمَرَقِ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو شوربے والا ثرید بہت پسند تھا۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۴۹/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَبِی رَافِعٍ، قَال: صُنِعَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَاۃٌ مَصْلِیَّۃٌ فَأُتِیَ بِہَا فَقَالَ لِی: ((یَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَنَاوَلْتُہُ فَقَال: ((یَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَنَاوَلْتُہُ ثُمَّ قَال: ((یَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ۔)) فَقُلْت: یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَہَلْ لِلشَّاۃِ إِلَّا ذِرَاعَانِ؟ فَقَال: ((لَوْ سَکَتَّ لَنَاوَلْتَنِی مِنْہَا مَا دَعَوْتُ بِہِ۔)) قَال: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْجِبُہُ الذِّرَاعُ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بکری بھونی گئی اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دستی پکڑا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ سو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تھما دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ ‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکری کی دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں مطالبہ کرتا رہتا، تو مجھے دستیاں پکڑاتا جاتا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دستی بڑی پسند تھی۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۵۰/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَال: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یُحِبُّ الذِّرَاعَ۔ (۸۳۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دستی پسند تھی۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Zaeef

۔ (۵۱/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّہَا ذَبَحَتْ فِی بَیْتِہَا شَاۃً، فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ أَطْعِمِینَا مِنْ شَاتِکُمْ۔ فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: وَاللّٰہِ مَا بَقِیَ عِنْدَنَا إِلَّا الرَّقَبَۃُ، وَإِنِّی أَسْتَحْیِی أَنْ أُرْسِلَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالرَّقَبَۃِ، فَرَجَعَ الرَّسُولُ، فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَال: ((ارْجِعْ إِلَیْہَا، فَقُلْ: أَرْسِلِی بِہَا، فَإِنَّہَا ہَادِیَۃٌ الشَّاۃِ، وَأَقْرَبُ الشَّاۃِ إِلَی الْخَیْرِ، وَأَبْعَدُہَا مِنَ الْأَذَی۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں ایک بکری ذبح کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمیں بھی اپنی بکری میں سے کچھ کھلا دو، انھوں نے قاصد کو جواباً کہا: اللہ کی قسم! صرف گردن بچی پڑی ہے اور مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرم آتی ہے کہ میں وہ گردن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجوں، پس قاصد لوٹ آیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صورتحال سے آگاہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان سے کہو کہ وہ یہی گردن ہی بھیج دیں، کیونکہیہ بکری کا ابتدائی حصہ ہے، لذت اور پکنے میں سب سے بہتر ہے اور پیشاب اور مینگنیوں وغیرہ سے بھی دور ہے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۵۲/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَّارَۃً فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَوَضَعْتُہَا بَیْنَیَدَیْہِ فَاطَّلَعَ فِیہَا فَقَالَ: ((حَسِبْتُہُ لَحْمًا۔)) فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِأَہْلِی فَذَبَحُوا لَہُ شَاۃً۔ (مسند احمد: ۱۴۶۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے سنگریزوں کا ایک برتن بنایا ہوا تھا، میں وہ برتن آپ کے پاس لایا اور اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں جھانکا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس میں گوشت ہے۔ میں نے اس چیز کا ذکر گھر والوں سے کیا (اور ہم سمجھ گئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہے) پس انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بکری ذبح کی۔