Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2294

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کی معیشت کا بیان اس موضوع سے متعلقہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی احادیث

13 hadiths in this chapter

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۲۴/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَت: مَا شَبِعَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ، حَتَّی مَضَی لِسَبِیلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین دن لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ وفات پا گئے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۲۵/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ یَأْتِی عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الشَّہْرُ، مَا یُوقِدُونَ فِیہِ نَارًا، لَیْسَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَائُ، إِلَّا أَنْ نُؤْتٰی بِاللَّحْمِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایسے بھی ہوتا کہ حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آل کا ایک ایک مہینہ گزر جاتا، لیکن وہ آگ تک نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا، البتہ بعض اوقات گوشت آ جاتا تھا۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۲۶/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ یَمُرُّ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہِلَالٌ وَہِلَالٌ وَہِلَالٌ مَا یُوقَدُ فِی بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِہِ نَارٌ ، قُلْت: یَا خَالَۃُ، عَلَی أَیِّ شَیْئٍ کُنْتُمْ تَعِیشُونَ؟ قَالَتْ: عَلَی الْأَسْوَدَیْنِ: التَّمْرِ، وَالْمَائِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک چاند، دوسرا چاند اور تیسرا چاندگزر جاتا (یعنی دو تین تین ماہ گزر جاتے تھے) کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھروں میں سے کسی گھر میں آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔ عروہ بن زبیر نے کہا: اے خالہ جان! تو پھر تم لوگ کس چیز پر گزارا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: دو سیاہ رنگ کی چیزیںیعنی کھجور اور پانی۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Zaeef

۔ (۲۷/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ: وَالَّذِی بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، مَا رَأَی مُنْخُلًا، وَلَا أَکَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا، مُنْذُ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی أَنْ قُبِضَ ، قُلْت: کَیْفَ تَأْکُلُونَ الشَّعِیرَ؟قَالَتْ: کُنَّا نَقُولُ أُفٍّ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ چھاننی دیکھی اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھانے ہوئے آٹے کی روٹی کھائی، بعثت سے لے کر وفات تک یہی کیفیت رہی۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے کہا: تو پھر آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے (یعنی چھاننے کے بغیر جو کی روٹی کیسے کھاتے تھے)؟ انھوں نے کہا: بس آٹے پر پھونک مار کر چھلکا اڑا دیتی تھیں۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Zaeef

۔ (۲۸/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، قَال: قَالَتْ عَائِشَۃ: أَرْسَلَ إِلَیْنَا آلُ أَبِی بَکْرٍ بِقَائِمَۃِ شَاۃٍ لَیْلًا، فَأَمْسَکْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَتْ: أَمْسَکَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ، قَالَتْ: تَقُولُ لِلَّذِی تُحَدِّثُہُ ہَذَا عَلَی غَیْرِ مِصْبَاحٍ: قَال: قَالَتْ عَائِشَۃ: إِنَّہُ لَیَأْتِی عَلَی آلِ مُحَمَّدٍ الشَّہْرُ، مَا یَخْتَبِزُونَ خُبْزًا، وَلَا یَطْبُخُونَ قِدْرًا ، قَالَ حُمَیْدٌ: فَذَکَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، فَقَال: لَا، بَلْ کُلُّ شَہْرَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات کو آلِ ابو بکر نے بکری کی ٹانگ ہماری طرف بھیجی، میں نے اس کو پکڑا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کاٹا، یا معاملے ایسے تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پکڑا اور میں نے کاٹا، ہمارے پاس وہ تیل نہیں ہوتا تھا، جس سے چراغ جلایا جاتا تھا، (اگر وہ ہوتا تو ہم سالن تیار کرتے)، آل محمد پر ایسا مہینہ بھی گزرتا تھا کہ وہ نہ اس میں کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ ہنڈیا تیار کرتے تھے۔ حمید راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث صفوان بن محرز کو بیان کی تو انھوں نے کہا: نہیں، ایک ایک ماہ نہیں، بلکہ دو دو ماہ تک ایسا معاملہ ہو جاتاتھا۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۲۹/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ: تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ شَبِـعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَیْنِ، الْمَاء ِ وَالتَّمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے دو سیاہ چیزوں پانی اور کھجور سے سیر ہونا شروع کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتقال فرما گئے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۳۰/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ: یَا ابْنَ أُخْتِی، کَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوْقَ الْوَفْرَۃِ، وَدُونَ الْجُمَّۃِ، وَایْمُ اللّٰہِ یَا ابْنَ أُخْتِی، إِنْ کَانَ لَیَمُرُّ عَلَی آلِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الشَّہْرُ، مَا یُوقَدُ فِی بَیْتِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَارٍ، إِلَّا أَنْیَکُونَ اللُّحَیْمُ، وَمَا ہُوَ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ: الْمَائُ وَالتَّمْرُ، إِلَّا أَنَّ حَوْلَنَا أَہْلَ دُورٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَزَّاَہُمُ اللّٰہُ خَیْرًا فِی الْحَدِیثِ وَالْقَدِیمِ، فَکُلُّ یَوْمٍیَبْعَثُونَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِغَزِیرَۃِ شَاتِہِمْ، یَعْنِی: فَیَنَالُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِکَ اللَّبَنِ، وَلَقَدْ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا فِی رَفِّی مِنْ طَعَامٍ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ إِلَّا قَرِیبٌ مِنْ شَطْرِ شَعِیرٍ، فَأَکَلْتُ مِنْہُ حَتَّی طَالَ عَلَیَّ لَا یَفْنَی، فَکِلْتُہُ فَفَنِیَ ، فَلَیْتَنِی لَمْ أَکُنْ کِلْتُہُ، وَایْمُ اللّٰہِ لَأَنْ کَانَ ضِجَاعُہُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُہُ لِیفٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے میرے بھانجے! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال وفرہ سے زیادہ اور جُمّہ سے کم تھے، اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم ہے، آل محمد کا پورا مہینہ اس طرح گزر جاتا ہے کہ گھر میں آگ جلانے تک کی نوبت نہیں آتی تھا، بس کبھی کبھار تھوڑا بہت گوشت (بطورِ ہدیہ) آ جاتا تھا، نہیں تو پانی اور کھجور سے ہی گزارا کرنا پڑتا تھا، البتہ ہمارے ارد گرد انصاری لوگوں کے گھر تھے، اللہ تعالی ان کو دنیا و آخرت میں جزائے خیر دے، وہ روزانہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف زیادہ دودھ والی بکری بھیج دیتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا دودھ پی لیتے تھے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوئے تو میری الماری میں نصف (وسق) جو کے تھے، میں ان سے کھاتی رہا، جب کافی عرصہ ہو گیا اور وہ ختم نہیں ہو رہے تھے تو میں نے ان کو ماپ لیا، پس وہ ختم ہو گئے، کاش میں ان کو نہ ماپتی، اللہ کی قسم ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بچھونا چمڑے کا ہوتا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی تھی۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Zaeef

۔ (۳۱/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُہُ مِنَ الدُّنْیَا ثَلَاثَۃٌ: الطَّعَامُ، وَالنِّسَائُ، وَالطِّیبُ، فَأَصَابَ ثِنْتَیْنِ وَلَمْ یُصِبْ وَاحِدَۃً، أَصَابَ النِّسَائَ وَالطِّیبَ، وَلَمْ یُصِبِ الطَّعَامَ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ دنیا کی تین چیزیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند تھیں: کھانا، عورتیں اور خوشبو، دو چیزیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مل گئیں،یعنی عورتیں اور خوشبو، البتہ تیسری چیز کھانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہ مل سکی۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۳۲/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ فَاطِمَۃَ نَاوَلَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کِسْرَۃً مِنْ خُبْزِ شَعِیرٍ، فَقَال: ((ہَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَکَلَہُ أَبُوکِ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پکڑایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دن ہو گئے ہیں، اب یہ پہلی چیز ہے، جو تیرے باپ کو کھانے کے ملی ہے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۳۳/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَال: قَالَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَال: ((لَقَدْ أُخِفْتُ فِی اللّٰہِ وَمَا یَخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِیتُ فِی اللّٰہِ وَمَا یُؤْذَی أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَیَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَیْنِیَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، وَمَا لِی وَلَا لِبِلَالٍ طَعَامٌ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ إِلَّا شَیْئٌیُوَارِیہِ إِبِطُ بِلَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالی کی راہ میں بہت ڈرایا گیا، اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھے اللہ تعالی کے راستے میں اتنی تکلیف دی گئی کہ اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی، ایسے ایسے تیس تیس شب و روز بھی گزرے ہیں کہ میرے لیے اور بلال کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو کوئی جاندار کھا سکے، ما سوائے اس چیز کے، جس کو بلال کی بغل چھپا لیتی تھی۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۳۴/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَال: لَقَدْ دُعِیَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی خُبْزِ شَعِیرٍ، وَإِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ، قَال: وَلَقَدْ سَمِعْتُہُ ذَاتَ یَوْمِ الْمِرَارِ وَہُوَ یَقُول: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ، وَلَا صَاعُ تَمْرٍ۔)) وَإِنَّ لَہُ یَوْمَئِذٍ لَتِسْعَ نِسْوَۃٍ، وَلَقَدْ رَہَنَ دِرْعًا لَہُ عِنْدَ یَہُودِیٍّ بِالْمَدِینَۃِ، أَخَذَ مِنْہُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ لَہَا مَا یَفْتَکُّہَا بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک دن جو کی روٹی اور ایسے سالن کے لیے دعوت دی گئی، جس سے زیادہ دیر تک پڑا رہنے کی وجہ سے بد بو آ رہی تھی اور میں نے خود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک دن میں کئی بار فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے، آل محمد کے پاس اناج اور کھجور کا ایک صاع بھی نہیں ہے۔ جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ میں ایکیہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اناج ادھار لیا تھا، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (قرض واپس کرنے کے لیے) اتنا مال نہیں تھا کہ وہ زرہ چھڑا سکیں۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۳۵/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَال: کُنَّا نَأْتِی أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَخَبَّازُہُ قَائِمٌ قَال: فَقَالَ یَوْمًا: کُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی رَغِیفًا مُرَقَّقًا، وَلَا شَاۃً سَمِیطًا قَطُّ، قَالَ عَفَّان فِی حَدِیثِہِ: حَتَّی لَحِقَ بِرَبِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

جناب ِ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آتے، جبکہ ان کا روٹی بنانے والا باورچی ان کے پاس کھڑا ہوتا، ایک دن انھوں نے کہا: کھاؤ، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پتلی بڑی چپاتی اور بال اتار کر بھونی ہوئی بکری دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے پروردگار سے جا ملے۔

11322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11322

Sahih

۔ (۳۶/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَجْتَمِعْ لَہُ غَدَائٌ، وَلَا عَشَائٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، إِلَّا عَلَی ضَفَفٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ تنگی اور قلت کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس روٹی اور گوشت والا دوپہر کا کھانا اور شام کا کھانا جمع نہیں ہوا۔