Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2269

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی

7 hadiths in this chapter

11215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11215

Zaeef

۔ (۱۱۲۱۵)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَرَضَ عَلَیَّ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ لِیَجْعَلَ لِی بَطْحَائَ مَکَّۃَ ذَھَبًا، فَقُلْتُ: لا یَارَبِّ، اَشْبَعُ یَوْمًا وَاَجُوْعُ یَوْمًا اَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ، فَاِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ اِلَیْکَ وَذَکَرْتُکَ، وَاِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُکَ وَشَکَرْتُکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو ۔۔۔۔۔۔۔

11216

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11216

Sahih

۔ (۱۱۲۱۶)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو ابْنَ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ: لَقَدْ اَصْبَحْتُمْ وَاَمْسَیْتُمْ تَرْغَبُوْنَ فِیْمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزْھَدُ فِیْہِ، اَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُوْنَ فِی الدُّنْیَا، وَکاَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزْھَدُ فِیْھَا، وَاللّٰہِ! مَا اَتَتْْ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃٌ مِنْ دَھْرِہِ اِلاَّ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ اَکْثَرَ مِمَّا لَہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ بَعْضُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : قَدْ رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَسْلِفُ۔ وَقاَلَ: غَیْرُیَحْيٰ: وَاللّٰہِ! مَا مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃٌ مِنَ الدَّھْرِ اِلاَّ وَالَّذِیْ عَلَیْہِ اَکْثْرُ مِنَ الَّذِیْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحیی کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لینا ہوتاتھا۔

11216

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11216

Sahih

۔ (۱۱۲۱۶م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ۔) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسیٰ قَالَ: سَمِعْتُ اَبِییَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ یَخْطُبُ النَّاسَ بِمْصَرَ یَقُوْلُ: مَا اَبْعَدَ ھَدْیَکُمْ مِنْ ھَدْیِ نَبِیِّکُمْ! اَمَّا ھُوَ فَکَانَ اَزْھَدَ النَّاسِ فِی الدِّنْیَا وَاَمَّا اَنْتُمْ فَاَرْغَبُ النَّاسِ فِیْھَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔

11217

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11217

Sahih

۔ (۱۱۲۱۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْتَفَتَ إِلٰی أُحُدٍ فَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا یَسُرُّنِی أَنَّ أُحُدًا یُحَوَّلُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَہَبًا أُنْفِقُہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، أَمُوتُ یَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْہُ دِینَارَیْنِ إِلَّا دِینَارَیْنِ أُعِدُّہُمَا لِدَیْنٍ۔)) إِنْ کَانَ فَمَاتَ وَمَا تَرَکَ دِینَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِیدَۃً، وَتَرَکَ دِرْعَہُ مَرْہُونَۃً عِنْدَ یَہُودِیٍّ عَلٰی ثَلَاثِینَ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَخَذَھَا رِزْقًا لِعَیَالِہِ)۔ (مسند احمد: ۲۱۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ احد پہاڑ کو آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے سونا بنا دیا جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو میں دو دینار بھی چھوڑ کر مروں،الایہ کہ ادائے قرض کے لیے دو دینار چھوڑ جاؤں تو الگ بات ہے۔ پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دینار، درہم، غلام یا لونڈی وغیرہ چھوڑ کر نہ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف ایک زرہ چھوڑ کر دینا سے رخصت ہوئے، وہ بھی تیس صاع جو کے عوض ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی۔ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ جو اہل خانہ کی خوراک کے لیے حاصل کیے تھے۔

11218

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11218

Zaeef

۔ (۱۱۲۱۸)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الزَّیَادِیِّیُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ذَرٍّ، أَنَّہُ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَأَذِنَ لَہُ وَبِیَدِہِ عَصَاہُ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا کَعْبُ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ تُوُفِّیَ وَتَرَکَ مَالًا فَمَا تَرٰی فِیہِ؟ فَقَالَ: إِنْ کَانَ یَصِلُ فِیہِ حَقَّ اللّٰہِ فَلَا بَأْسَ عَلَیْہِ، فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاہُ فَضَرَبَ کَعْبًا وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِی ہٰذَا الْجَبَلَ ذَہَبًا أُنْفِقُہُ وَیُتَقَبَّلُ مِنِّی أَذَرُ خَلْفِی مِنْہُ سِتَّ أَوَاقٍ۔)) أَنْشُدُکَ اللّٰہَ یَا عُثْمَانُ! أَسَمِعْتَہُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: نَعَم۔ (مسند احمد: ۴۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

مالک بن عبداللہ زیادی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اور سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، انھوں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی، ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے کعب! عبدالرحمن کافی مال چھوڑ کر انتقال کر گئے ہیں۔ اس بارے میں آپ کا کیاخیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر وہ اس مال سے اللہ کے حقوق ادا کرتے تھے پھر تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ سن کر سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی لاٹھی اٹھا کر سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ماری اور کہا: میں نے سنا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںتویہ بھی پسند نہیں کرتا کہ یہ احد کا پہاڑ سونے کا ہو اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور میرا وہ صدقہ اللہ کے ہاں مقبول ہو اور میں اپنے لیے اس میں سے صرف چھ اوقیہ سونا باقی چھوڑ جاؤں۔ اے عثمان! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے رسول سے یہ حدیث سنی ہے ؟ (یہ بات سیدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تین مرتبہ دہرائی)، بالآخر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے۔

11219

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11219

Zaeef

۔ (۱۱۲۱۹)۔ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِیَوْمًا عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: لَوْ رَأَیْتُمَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فِی مَرَضٍ مَرِضَہُ، قَالَتْ: وَکَانَ لَہُ عِنْدِی سِتَّۃُ دَنَانِیرَ، قَالَ مُوسٰی: أَوْ سَبْعَۃٌ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِی نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُفَرِّقَہَا، قَالَتْ: فَشَغَلَنِی وَجَعُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی عَافَاہُ اللّٰہُ قَالَتْ، ثُمَّ سَأَلَنِی عَنْہَا، فَقَالَ: ((مَا فَعَلَتِ السِّتَّۃُ؟)) قَالَ: أَوْ السَّبْعَۃُ، قُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ! لَقَدْ کَانَ شَغَلَنِی وَجَعُکَ، قَالَتْ: فَدَعَا بِہَا ثُمَّ صَفَّہَا فِی کَفِّہِ، فَقَالَ: ((مَا ظَنُّ نَبِیِّ اللّٰہِ لَوْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہٰذِہِ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو امامہ بن سہل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے کہا کہ میں اور عروہ بن زبیر ایک دن سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے کہا: کاش کہ تم اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مرض الموت کے دوران دیکھتے، میرے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چھ (یا سات) دینار تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں تقسیم کردوں، آپ کی بیماری نے مجھے مشغول رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو افاقہ دیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے ان کی بابت پوچھا اور فرمایا: ان چھ دینار وں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، میں آپ کی بیماری میں مصروف رہی اور تقسیم نہ کر سکی۔ آپ نے وہ دینار منگوا کر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمایا: اللہ کے نبی کا کیا حال ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں جا ملے کہ یہ دولت اس کی ملکیت ہو۔

11220

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11220

Sahih

۔ (۱۱۲۲۰)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَکْثَرُ مَا عَلِمْتُ أُتِیَ بِہِ نِبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمَالِ بِخَرِیْطَۃٍ فِیْہَا ثَمَانُمِئَۃِ دِرْھَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے،، وہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھیلے میں زیادہ سے زیادہ آٹھ سو درہم لائے گئے۔