Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2203

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے

5 hadiths in this chapter

10911

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10911

Sahih

۔ (۱۰۹۱۱)۔ عَنْ اَبِی نَجِیْحٍ السُّلَمِیِّ قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِصْنَ الْطَائِفِ اَوْ قَصْرَ الطَّائِفِ، فَقَالَ: ((مَنْ بَلَغَ بِسَہْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَلَہٗدَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَبَلَغْتُ یَوْمَئِذٍ سِتَّۃَعَشَرَ سَہْمًا، ((وَمَنْ رَمٰی بِسَہْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَہُوَ لَہٗعِدْلُمُحَرَّرٍ،وَمَنْاَصَابَہٗشَیْبٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَہُوَ لَہٗنُوْرٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابونجیح سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں طائف کے قلعہ یا محل کا محاصرہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر چلایا، اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا۔ چنانچہ میں نے اس دن سولہ تیر چلائے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اور جس نے اللہ کی راہ میں دشمن کو تیر مارا، اسے ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا اور جو آدمی اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو بڑھاپے کییہ سفیدی قیامت کے دن اس کے لیے نور کا سبب ہو گی۔

10912

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10912

Sahih

۔ (۱۰۹۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ طَرِیْفٍ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ حَاصَرَ الطَّائِفَ، وَکَانَ یُصَلِّی بِنَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ حَتّٰی لَوْ اَنَّ رَجُلًا رَمٰی لَرَاٰی مَوْقِعَ نَبْلِہٖ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو طریف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں عصرکی نماز ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی اس نماز سے فارغ ہو کر تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھنا چاہتا تو ( باآسانی ) دیکھ سکتا تھا۔

10913

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10913

Sahih

۔ (۱۰۹۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَاصَرَ رَسُْوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَھْلَ الطَّائِفِ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ عَبْدَانِ فَاَعْتَقَہُمَا، اَحَدُھُمَا اَبُوْ بَکْرَۃَ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْتِقُ الْعَبِیْدَ إِذَا خَرَجُوْا إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہلِ طائف کا محاصرہ کیا تو ان میں سے دو غلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آملے، ان میں سے ایک کا نام ابو بکرہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں کو آزاد کر دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عادت ِ مبارکہ یہی تھی کہ جب دشمن کی طرف سے کوئی غلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آ ملتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو آزاد فرما دیتے تھے۔

10914

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10914

Sahih

۔ (۱۰۹۱۴)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الطَّائِفِ: ((مَنْ خَرَجَ إِلَیْنَا مِنَ الْعَبِیدِ فَہُوَ حُرٌّ۔)) فَخَرَجَ عَبِیدٌ مِنَ الْعَبِیدِ فِیہِمْ أَبُو بَکْرَۃَ، فَأَعْتَقَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طائف والے دن فرمایا: جو غلام ہمارے پاس آ جائیں گے، وہ آزاد ہوں گے۔ پھر سیدنا ابو بکرہ سمیت کچھ غلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔

10915

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10915

Sahih

۔ (۱۰۹۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا اَحْصَرَ اَھْلَ الطَّائِفِ وَلَمْ یُقَدِّرْ مِنْہُمْ عَلٰی شَیْئٍ، قَالَ: ((إِنَّا قَافِلُوْنَ غَدًا إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) فَکَاَنَّ الْمُسْلِمِیْنَ کَرِھُوْا ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((اغْدُوْا۔)) فَغَدَوْا عَلَی الْقِتَالِ، فَاَصَابَہُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((إِنَّا قَافِلُوْنَ غَدًا اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) فَسُرَّ الْمُسْلِمُوْنَ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۵۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب اہلِ طائف کا محاصرہ کیا اور کامیابی نہیں ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یوں محسوس ہوا کہ گویا مسلمانوں نے اس فیصلہ کو پسند نہیں کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے صبح لڑائی کرنا۔ جب صبح ہوئی تو مسلمانوں نے لڑائی کی، جس کے نتیجہ میں کافی مسلمان زخمی ہوئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کییہ کیفیت دیکھ کر ہنس دئیے۔