Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2197

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں

5 hadiths in this chapter

10891

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10891

Zaeef

۔ (۱۰۸۹۱)۔ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ، جَعَلَ أَہْلُ مَکَّۃَیَأْتُونَہُ بِصِبْیَانِہِمْ، فَیَمْسَحُ عَلٰی رُؤُوْسِہِمْ، وَیَدْعُو لَہُمْ فَجِیئَ بِی إِلَیْہِ، وَإِنِّی مُطَیَّبٌ بِالْخَلُوقِ، وَلَمْ یَمْسَحْ عَلٰی رَأْسِی، وَلَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ ذٰلِکَ إِلَّا أَنَّ أُمِّی خَلَّقَتْنِی بِالْخَلُوقِ، فَلَمْ یَمَسَّنِی مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ولید بن عقبہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ فتح کیا تو اہلِ مکہ اپنے بچوں کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے لگے تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے سروں پر بابرکت ہاتھ پھیر دیں اور ان کے حق میں دعا کر دیں۔ مجھے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا، چونکہ مجھے خلوق خوشبو لگی ہوئی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر پر ہاتھ نہیں ! بخاری اور مسلم میں اس جگہ یہ الفاظ ہیں وَلَا فَارًّا بِجِزْیَۃٍ اور نہ ہی فساد کرکے بھاگنے والے کو (حرم پناہ دیتا ہے)۔ (عبداللہ رفیق) پھیرا، میری والدہ نے مجھے یہ خوشبو لگا دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی وجہ سے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا تھا۔

10892

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10892

Sahih

۔ (۱۰۸۹۲)۔ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ أَبَاہُ الْأَسْوَدَ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَایِعُ النَّاسَ یَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ: جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَۃَ، فَبَایَعَ النَّاسَ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالشَّہَادَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الشَّہَادَۃُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ: أَنَّہُ بَایَعَہُمْ عَلَی الْإِیمَانِ بِاللّٰہِ وَشَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکُنْتُ اَقُوْلُ کَمَا یَقُلْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے مروی ہے کہ ان کو محمد بن اسود بن خلف نے بیان کیا کہ ان کے والد اور اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فتح مکہ کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں سے بیعت لیتے دیکھا۔ آپ قرن مسقلہ نامی جگہ پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے اسلام اور شہادت کی بیعت لی، عبداللہ بن عثمان کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عبدیت اور رسالت کی گواہی کی بیعت لی۔ پس میں بھی اسی طرح کہتا تھا جیسے وہ کہتی تھیں۔

10893

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10893

Sahih

۔ (۱۰۸۹۳)۔ عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا مُجَالِدُ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُبَابِعُکَ عَلَی الْھِجْرَۃِ، فَقَالَ: ((لَاھِجْرَۃَ بَعْدَ فَتْحِ مَکَّۃَ وَلٰکِنْ اُبَایِعُہٗ عَلَی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مجاشع بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ مجالد بن مسعود آپ سے ہجرت کی بیعت کرنا چاہتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، البتہ میں اس سے اسلام کی بیعت لے لیتا ہوں۔

10894

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10894

Sahih

۔ (۱۰۸۹۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: جَاء َتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ تُبَایِعُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ عَلَیْہَا {أَنْ لَا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِینَ} الْآیَۃَ، قَالَتْ: فَوَضَعَتْ یَدَہَا عَلٰی رَأْسِہَا حَیَائً فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا رَأٰی مِنْہَا فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: أَقِرِّی أَیَّتُہَا الْمَرْأَۃُ! فَوَاللّٰہِ، مَا بَایَعَنَا إِلَّا عَلٰی ہٰذَا، قَالَتْ: فَنَعَمْ إِذًا فَبَایَعَہَا بِالْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے (سورۂ ممتحنہ والی آیت) {أَنْ لَا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِینَ} کے مطابق بیعت لی، تو انہوں نے شرم وحیاء کی بنا پر اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی یہ کیفیت خوب پسند کی، اُدھر سے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ارے عورت! تم ان باتوں کا کھل کر اقرار کرو، اللہ کی قسم! ہم نے بھی انہی باتوں کی بیعت کی ہے، وہ بولیں اچھا ٹھیک ہے ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی روشنی میں اس سے بیعت کی۔

10895

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10895

Sahih

۔ (۱۰۸۹۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ قُدَامَۃَ قَالَتْ: کُنْتُ أَنَا مَعَ أُمِّی رَائِطَۃَ بِنْتِ سُفْیَانَ الْخُزَاعِیَّۃِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَایِعُ النِّسْوَۃَ، وَیَقُولُ: ((أُبَایِعُکُنَّ عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِینَ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَکُنَّ، وَلَا تَأْتِینَ بِبُہْتَانٍ تَفْتَرِینَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُنَّ وَأَرْجُلِکُنَّ، وَلَا تَعْصِینَ فِی مَعْرُوفٍ۔)) قَالَتْ: فَأَطْرَقْنَ، فَقَالَ لَہُنَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُلْنَ: نَعَمْ، فِیمَا اسْتَطَعْتُنَّ۔)) فَکُنَّیَقُلْنَ وَأَقُولُ مَعَہُنَّ، وَأُمِّی تُلَقِّنُنِی: قُولِی أَیْ بُنَیَّۃُ! فِیمَا اسْتَطَعْتُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ بنت قدامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی والدہ سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خواتین سے بیعت لے رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یوں فرما رہے تھے: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، بہتان تراشی نہیں کرو گی اور نیکی میں نافرمانی نہیں کرو گی۔ عورتوں نے یہ باتیں سن کر سر جھکا لیے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کہہ دو کہ ٹھیک ہے، تمہارییہ بیعت صرف اس حد تک ہے کہ جس کی تم کو استطاعت ہو۔ پس انھوں نے جی ہاں کہنا شروع کر دیا اور میں بھی ان کے ساتھ کہہ رہی تھی، پھر میری والدہ نے مجھے تلقین کی اور کہا: میری پیاری بیٹی! یہ بھی کہو کہ جتنی میری طاقت ہے۔