Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2178

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

غزوۂ خیبر کی غنیمتوں کی تقسیم اور اس امر کا بیان کہ یہ غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں

2 hadiths in this chapter

10826

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10826

Zaeef

۔ (۱۰۸۲۶)۔ عَنْ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِیَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، وَکَانَ أَحَدَ الْقُرَّائِ الَّذِینَ قَرَئُ وْا الْقُرْآنَ، قَالَ: شَہِدْنَا الْحُدَیْبِیَۃَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْہَا إِذَا النَّاسُ یُنْفِرُونَ الْأَبَاعِرَ، فَقَالَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ؟ قَالُوْا: أُوحِیَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ حَتَّی وَجَدْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی رَاحِلَتِہِ عِنْدَ کُرَاعِ الْغَمِیمِ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَیْہِ، فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا} فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیْ رَسُولَ اللّٰہِ! وَفَتْحٌ ہُوَ؟ قَالَ: ((أَیْ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إِنَّہُ لَفَتْحٌ۔)) فَقُسِمَتْ خَیْبَرُ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ، لَمْ یُدْخِلْ مَعَہُمْ فِیہَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَہِدَ الْحُدَیْبِیَۃَ، فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا، وَکَانَ الْجَیْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَۃٍ، فِیہِمْ ثَلَاثُ مِائَۃِ فَارِسٍ، فَأَعْطَی الْفَارِسَ سَہْمَیْنِ وَأَعْطَی الرَّاجِلَ سَہْمًا۔ (مسند احمد: ۱۵۵۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو ان قراء میں سے تھے، جنھوں نے قرآن پڑھا ہوا تھا،سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حدیبیہ میں حاضر ہوئے، جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو لوگ اچانک اپنے اپنے اونٹوں کو تیز تیز چلانے لگے، لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: کیا بات ہوئی؟ تو دوسروں نے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہوا ہے، ہم بھی اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے دوسرے لوگوں کے ساتھ چل دئیے، ہم نے کراع غمیم مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سواری پر موجود پایا، لوگ آپ کے اردگرد جمع تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سامنے {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنَا۔} یعنی سورۂ فتح کی تلاوت کی۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ! کیایہ ہمارے حق میں واقعی فتح ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہیقینا فتح ہے۔ اس کے بعد غزوۂ خیبر کی غنیمتیں صرف ان لوگوں میں تقسیم کی گئیں، جو حدیبیہ میں حاضر تھے، ان کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کیا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان غنیمتوں کو اٹھارہ حصوں میں بانٹ دیا، لشکر میں پندرہ سو آدمی تھے، ان میں سے تین سو گھڑ سوار بھی تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھڑ سواروں کو دو دو حصے اور پیدل لوگوں کو ایک ایک حصہ دیا۔

10827

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10827

Zaeef

۔ (۱۰۸۲۷)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: مَا شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِی إِلَّا خَیْبَرَ، فَإِنَّہَا کَانَتْ لِأَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ خَاصَّۃً، وَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَأَبُو مُوسَی جَائَ ا بَیْنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَخَیْبَرَ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عمار بن ابی عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوۂ خیبر کے علاوہ جس غزوہ میں بھی حاضر ہوا، آپ نے مجھے مالِ غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا، غزوۂ خیبر کی غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیانی عرصہ میں آئے تھے۔