Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10746
۔ (۱۰۷۴۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃَ حَارَبُوا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَجْلٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ، وَمَنَّ عَلَیْہِمْ حَتّٰی حَارَبَتْ قُرَیْظَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَقَتَلَ رِجَالَہُمْ وَقَسَمَ نِسَائَ ہُمْ وَأَوْلَادَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَّا بَعْضَہُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَمَّنَہُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَہُودَ الْمَدِینَۃِ کُلَّہُمْ، بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ، وَیَہُودَ بَنِی حَارِثَۃَ، وَکُلَّ یَہُودِیٍّ کَانَ بِالْمَدِینَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۳۶۷)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا اور بنو قریظہ کو وہیں رہنے کی اجازت دے دی اور ان پر احسان فرمایا، لیکن جب بنو قریظہ نے لڑائی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کرو ادیا اوران کی عورتوں ، بچوں اور مالوں کومسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا، البتہ ان میں سے بعض آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امان دے دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے سارے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، بنو قینقاع کو بھی،یہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو اور باقی تمام یہودی جو جو مدینہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو جلا وطن کر دیا۔