Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2126

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان

11 hadiths in this chapter

10655

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10655

Sahih

۔ (۱۰۶۵۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِینَۃَ، آخَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَہُ وَبَیْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ، فَقَالَ: أُقَاسِمُکَ مَالِی نِصْفَیْنِ، وَلِی امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاہُمَا، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَتَزَوَّجْہَا، فَقَالَ: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِی أَہْلِکَ وَمَالِکَ، دُلُّونِی عَلَی السُّوقِ،فَدَلُّوہُ، فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَہُ شَیْئٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَہُ، فَرَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذٰلِکَ وَعَلَیْہِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَۃٍ، فَقَالَ: ((مَہْیَمْ؟)) قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ((مَا أَصْدَقْتَہَا؟)) قَالَ: نَوَاۃً مِنْ ذَہَبٍ، قَالَ حُمَیْدٌ: أَوْ وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ: ((أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین مواخات اور بھائی چارہ قائم کر دیا،سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اپنا سارا مال نصف نصف کرتا ہوں، میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس کی عدت پوری ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں، سیدنا عبدالرحمان بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل وعیال اور مال میں برکت فرمائے، لیکن مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، مجھے بازاراور منڈی کا راستہ بتلا دو۔ لوگوں نے ان کو منڈی کا راستہ بتلادیا، وہ اس میں چلے گئے اور جب واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور کچھ گھی تھا، جو وہ بطورِ منافع کما کر لائے تھے، اس کے بعد ایک موقعہ پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ لگاہواتھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا؟ جواب دیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے اسے مہر کے طور پر کیا ادا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نواۃ کے برابر سونا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ وہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔

10656

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10656

Sahih

۔ (۱۰۶۵۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: وَحَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِی الَّتِی بِالْمَدِینَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات اور بھائی چارہ میرے اس گھر میں کرایا تھا، جو مدینہ منورہ میں ہے۔

10657

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10657

Sahih

۔ (۱۰۶۵۷)۔ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَل قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاحِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ۔)) قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: بَلٰی بَلٰی، قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔ ؟یہ سن کر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔

10657

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10657

Sahih

۔ (۱۰۶۵۷)۔ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَل قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاحِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ۔)) قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: بَلٰی بَلٰی، قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔ ؟یہ سن کر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔

10658

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10658

Sahih

۔ (۱۰۶۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) عاصم احول سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں کرائی تھی۔

10659

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10659

Sahih

۔ (۱۰۶۵۹)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا حِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ، وَأَیُّمَا حِلْفٍ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ لَمْ یَزِدْہُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّۃً۔))۔ (مسند احمد: ۱۶۸۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں آپس کا عہدوپیمان نہیں ہے، البتہ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں جو عہد وپیمان ہو چکا ہے، اسلام اسے مزید مضبوط اور پختہ کرتا ہے۔

10660

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10660

Sahih

۔ (۱۰۶۶۰)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ اَنَّہُ سَألَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَلْفِ، فَقَالَ: ((مَا کَانَ مِنْ حَلْفٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَتَمَسَّکُوْا بِہِ وَلَا حِلْفَ فِی الْاِسْلَامِ۔))۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عاصم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عہدوپیمان کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عہد و پیمان دورِ جاہلیت میں کر چکے ہو، انہیں پورا کرو، البتہ اسلام میں از سرِ نو ایسے عہدو پیمان نہیں ہیں۔

10661

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10661

Sahih

۔ (۱۰۶۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شَہِدْتُ حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ مَعَ عُمُومَتِی وَأَنَا غُلَامٌ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّی أَنْکُثُہُ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَمْ یُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَہُ شِدَّۃً، وَلَا حِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ۔)) وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناعبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ابھی لڑکا ہی تھا کہ اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین کے معاہدہ میں شامل ہوا تھا، اب بھی مجھے بیشِ قیمت سرخ اونٹ بھی مل جائیں تو تب بھی میں اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہیں کروں گا۔ امام زہری کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام نے لوگوں کے کئے ہوئے جس معاہدہ کو پایا، اس نے اسے مزید پختہ کیا اور اب اسلام میں اس قسم کے عہدوپیمان اور معاہدوں کی گنجائش نہیں ہے۔ خود اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔

10662

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10662

Sahih

۔ (۱۰۶۶۲)۔ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ حِلْفٍ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، لَمْ یَزِدْہُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّۃً أَوْ حِدَّۃً۔))۔ (مسند احمد: ۲۹۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت میں جو معاہدے اور عہدوپیمان ہوئے، اسلام نے ان کو مزید پختہ اور مضبوط کیا ہے۔

10663

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10663

Sahih

۔ (۱۰۶۶۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَتِ الْمُہَاجِرُونَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ کَثِیرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ، قَدْ کَفَوْنَا الْمَئُونَۃَ وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَإِ، فَقَدْ خَشِینَا أَنْ یَذْہَبُوا بِالْأَجْرِ کُلِّہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((کَلَّا مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ بِہِ، وَدَعَوْتُمُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۱۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا: ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان سے زیادہ خرچ کرنے والا اور قلت کے باوجود ان سے بڑھ کر ہمدردی کرنے والا کسی کو نہیں پایا، انہوں نے ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا اور ہمیں اپنی ہر خوشی میں شریک رکھا، ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا ثواب یہ لوگ ہی لے جائیں گے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی بات نہیں ہے، جب تک تم ان کے حسنِ سلوک پر ان کی جو تعریف کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرتے ہو، (اللہ تمہیں بھی اس کا اجروثواب دے گا)۔

10664

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10664

Zaeef

۔ (۱۰۶۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أبَیِْہِ عَنْ جَدِّہِ، أنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ کِتَابًا بَیْنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ: ((اَنْ یَعْقِلُوْا مَعَاقِلَہُمْ وَاَنْ یَفْدُوْا عَانِیَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالاِصْلَاحِ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین یہ معاہدہ تحریر کیا تھا کہ یہ سب مل کر ایک دوسرے کے خون بہا ادا کریں گے،ایک دوسرے کے قیدیوں کو معروف طریقہ سے رہا کرائیں گے اور مسلمانوں کے مابین اصلاحِ احوال کریں گے۔