Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2109

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا

3 hadiths in this chapter

10596

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10596

Sahih

۔ (۱۰۵۹۶)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ أَنّہُ سَمِعَ رَبِیْعَۃَ بْنَ عِبَادٍ الدِّیْلِیَّیَقُوْلُ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَطُوْفُ عَلَی النَّاسِ بِمِنًی فِیْ مَنَازِلِھِمْ قَبْلَ أَنْ یُھَاجِرَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَقُوْلُ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَعْبُدُوْہُ وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا)) قَالَ: وَوَرَائُ ہٗرَجُلٌیَقُوْلُ: ھٰذَا یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَدَعُوْا دِیْنَ أَبَائِکُمْ، فَسَأَلْتُ مَنْ ھٰذَا الرَّجُلُ؟ فَقِیْلَ: ھٰذَا أَبُوْ لَھَبٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے موسم میں مِنٰی میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ایک آدمی ہوتا، وہ کہتا: یہ شخص تم کو حکم دے رہا ہے کہ تم اپنے آباء کا دین چھوڑ دو، میں نے پوچھا کہ پیچھے والا آدمی کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ یہ ابو لہب ہے۔

10597

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10597

Sahih

۔ (۱۰۵۹۷)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنَ عَبَّادٍ اَیْضًا قَالَ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَأَذْکُرُہُ (یَعْنِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) یَطُوْفُ عَلَی الْمَنَازِلِ بِمِنًی، وَأَنَا مَعَ أَبِیْ غَلَامٌ شَابٌّ، وَوَرَائَ ہٗرَجُلٌحَسَنُالْوَجْہِأَحْوَلُذُوْغَدِیْرَتَیْنِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ قَالَ: ((أَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَعْبدُوْہُ، وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا۔)) وَیَقُوْلُ الَّذِیْ خَلْفَہُ: اِنَّ ھٰذَا یَدْعُوْکُمْ اِلٰی أَنْ تُفَارِقُوْا دِیْنَ آبَائِکُمْ وَأَنْ تَسْلُخُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی وَحُلَفَائَکُمْ مِنْ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ اُقَیْشٍ اِلَی مَا جَائَ بِہٖمِنَالْبِدْعَۃِ وَالضَّلَالِ قَالَ: فَقُلْتُ لِاَبِیْ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: عَمُّہُ أَبُوْلَھَبٍ عَبْدُ الْعُزَّی بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچھی طرح یاد ہیں کہ آپ مِنٰی میں لوگوں کے پاس جاتے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا اور اپنے باپ کے ساتھ ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ خوبصورت چہرے والا، بھینگی آنکھ والا اور دو چٹیوں والا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: میں اللہ کا رسول ہوں، وہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور پیچھے والا آدمی کہتا: یہ تمہیں اس چیز کی دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے آباء کے دین سے باز آ جاؤ، لات و عزی کو اور بنو مالک بن اُقیش میں سے اپنے حلیفوں کو چھوڑ دو اور اس کی لائی ہوئی بدعت و ضلالت کو اختیار کر لو۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب عبد العزی بن عبد المطلب ہے ۔

10598

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10598

Sahih

۔ (۱۰۵۹۸)۔ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ شَیْخٌ مِنْ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ کِنَانَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسُوْقِ ذِی الْمَجَازِ یَتَخَلَّلُھَایَقُوْلُ: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ! قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا)) قَالَ: وَأَبُوْجَھْلٍیَحْثِیْ عَلَیْہِ التُّرَابَ وَیَقُوْلُ: یَا أَیُّھَا النَّاسُ! لَا یَغُرَّنَّکُمْ ھٰذَا عَنْ دِیْنِکُمْ، فَاِنَّمَا یُرِیْدُ لِتَتْرُکُوْا اٰلِھَتَکُمْ وَتَتْرُکُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، قَالَ: وَمَا یَلْتَفِتُ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْنَا: انْعَتْ لَنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: بَیْنَ بُرْدَیْنِ اَحْمَرَیْنِ مَرْبُوْعٌ کَثِیْرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْہِ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ اَبْیَضُ شَدِیْدُ الْبَیَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ اشعث کہتے ہیں: بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ نے مجھے بیان کیا کہ اس نے ذو مجاز بازار میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں گھستے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ اُدھر ابوجہل اپنے آپ پر مٹی ڈالتے ہوئے کہہ رہا تھا، لوگو! یہ تم کو تمہارے دین کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں اور لات و عزی کو چھوڑ دو، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے، ہم نے اس بزرگ سے کہا: تم ہمارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرو، اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرخ رنگ کی دو چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قد معتدل تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گوشت تھے، خوبصورت چہرے والے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال سخت سیاہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ بہت سفید تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال بھرپور تھے۔