Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2098

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی

9 hadiths in this chapter

10553

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10553

Sahih

۔ (۱۰۵۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ زُرْعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَاھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: اَتٰی جِبْرِیْلُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذِہِ خَدِیْجَۃُ قَدْ أَتَتْکَ بِاِنَائٍ مَعَھَا فِیْہِ اِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَاِذَا أَتَتْکَ فَاقْرَأْ عَلَیْھَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّھَا وَمِنِّی، وَبَشِّرْھَا بِبَیْتٍ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ۔ (مسند احمد: ۷۱۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ایک برتن میں سالن یا کھانا یا مشروب لے کر آ رہی ہیں، جب وہ آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو ان کے ربّ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہنا اور ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے ایسے گھر کی خوشخبری سنانا کہ اس میں شور و غل ہو گا نہ تعب و تکان۔

10554

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10554

Sahih

۔ (۱۰۵۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ اُبَشِّرَ خَدِیْجَۃَ بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی خوشخبری سناؤں جو یاقوت والے موتیوں سے بنا ہوا ہے اور اس میں شور وغل ہے نہ تعب و تکان۔

10555

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10555

Sahih

۔ (۱۰۵۵۵)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَیَعْنِیْ اِبْنَ أَبِیْ خَالِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشَّرَ خَدِیْجَۃَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَشَّرَھَا بِبَیْتٍ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ، قَالَ یَعْلٰی: وَقَالَ مَرَّۃً: لَاصَخَبَ أَوْ لَالَغْوَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صحابی ٔ رسول سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو خوشخبری دی تھی؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جنت میںیاقوت کے موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی خوشخبری دی تھی، اس گھر میں شور ہو گا نہ تھکاوٹ، ایک روایت میں ہے: اس میں شور یا لغو بات نہیں ہو گی اور نہ تھکاوٹ۔

10556

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10556

Sahih

۔ (۱۰۵۵۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَی اِمْرَأَۃٍ مَا غِرْتُ عَلٰی خَدِیْجَۃَ، وَلَقَدْ ھَلَکَتْ قَبْلَ أَنْ یَتَزَوَّجَنِیْ بِثَلَاثِ سِنِیْنَ، لِمَا کُنْتُ أَسْمَعُہُ یَذْکُرُھَا وَلَقَدْ أَمَرَہُ رَبُّہُ أَنْ یُبَشِّرَھَا بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِی الْجَنَّۃِ، وَاِنْ کَانَ لَیَذْبَحُ الشَّاۃَ، ثُمَّّ یُھْدِیْ فِیْ خُلَّتِھَا مِنْھَا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں کی، جتنی مجھے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر غیرت آئی، حالانکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میرے ساتھ شادی کرنے سے تین سال پہلے وفات پا گئی تھیں، اس غیرت کی وجہ یہ تھی کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور ربّ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے گھر کی خوشخبری دیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بکری ذبح کرتے تھے تو اس میں کچھ حصہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی سہیلیوں کو ارسال کرتے تھے۔

10557

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10557

Sahih

۔ (۱۰۵۵۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْأَرْضِ أَرْبَعَۃَ خُطُوْطٍ، قَالَ: تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْضَلُ نِسَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَفَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَآسِیَۃُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَF۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔

10558

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10558

Sahih

۔ (۱۰۵۵۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔

10559

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10559

Sahih

۔ (۱۰۵۵۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((خَیْرُ نِسَائِھَا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرانَ وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔

10560

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10560

Sahih

۔ (۱۰۵۶۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا ذَکَرَ خَدِیْجَۃَ اَثْنٰی عَلَیْھَا فَاَحْسَنَ الثَّنَائَ، قَالَتْ: فَغِرْتُ یَوْمًا فَقُلْتُ: مَا اَکْثَرَ مَا تَذْکُرُھَا حَمْرَائَ الشِّدْقِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا، قَالَ: ((مَا أَبْدَلَنِیَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ خَیْرًا مِنْھَا، قَدْ آمَنَتْ بِیْ اِذْ کَفَرَ بِیَ النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِیْ اِذْ کَذَّبَنِی النَّاسُ، وَوَاسَتْنِیْ بِمَالِھَا اِذْ حَرَمَنِیَ النَّاسُ، وَرَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَھَا اِذْ حَرَمَنِیْ أَوْلَادَ النِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے اور بہت اچھی تعریف کرتے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے کہا: آپ اس سرخ باچھ والی بڑھیا کا اس قدر زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا بہترین متبادل عطا کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر متبادل نہیں دیا، خدیجہ تو وہ تھی جو اس وقت ایمان لائی، جو لوگ میرے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس نے اس وقت میری تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اس نے اپنے مال کے ساتھ اس وقت میری ہمدردی کی، جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اس وقت اولاد عطا کی، جب وہ مجھے عورتوں کی اولاد سے محروم کر رہا تھا۔

10561

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10561

Sahih

۔ (۱۰۵۶۱)۔ (عَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمًا خَدَیْجَۃَ فَأَطْنَبَ فِی الثَّنَائِ عَلَیْھَا، فَأَدْرَکَنِیْ مَا یُدْرِکُ النِّسَائَ مِنَ الْغَیْرَۃِ، فَقُلْتُ: لَقَدْ أَعْقَبَکَ اللّٰہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مِنْ عَجُوْزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَیْشٍ حمرائَ الشَّدْقَیْنِ، قَالَتْ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَغَیُّرًا لَمْ أَرَہُ تَغَیَّرَ عِنْدَ شَیْئٍ قَطُّ اِلَّا عِنْدَ نَزُوْلِ الْوَحْیِ وَعِنْدَ الْمَخِیْلَۃِ حَتّٰییَعْلَمَ رَحْمَۃٌ أَوْ عَذَابٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ کیا اور کافی دیر تک ان کی تعریف کی، مجھ پر وہی غیرت غالب آ گئی، جو عورتوں پر غالب آ جاتی ہے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریش کی اس سرخ باچھوں والی بڑھیا کا متبادل تو دے دیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ اس قدر بدلا کہ میں نے کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس انداز میں نہیں دیکھا تھا، ما سوائے نزولِ وحی کے وقت یا بادل کے نمودار ہوتے وقت، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چل جاتا کہ وہ رحمت ہے یا عذاب۔