Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2096

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان

7 hadiths in this chapter

10544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10544

Zaeef

۔ (۱۰۵۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرِضَ أَبُوْ طَالِبٍ فَأَتَتْہُ قُرَیْشٌ وَأَتَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُوْدُہُ وَعِنْدَ رَأْسِہِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُوْ جَھْلٍ فَقَعَدَ فِیْہِ فَقَالُوْا: اِنَّ ابْنَ أَخِیْکَیَقَعُ فِیْ آلِھَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِکَ یَشْکُوْنَکَ! قَالَ: ((یَاعَمِّ! أُرِیْدُھُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ، تَدِیْنُ لَھُمْ بِھَا الْعَرْبُ وَتُؤَدِّی الْعَجَمُ اِلَیْھِمُ الْجِزْیَۃَ۔)) قَالَ: مَاھِیَ؟ قَالَ: ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) فَقَامُوْا فَقَالُوْا: أَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰھًا وَاحِدًا، قَالَ وَنَزَلَ {صَ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ} فَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ {اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ أَبِیْ: وَحَدَّثَنَا أَبُوْ أُسَامَۃَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ثَنَا عِبَادٌ فَذَکَرَ نَحْوَہُ، وَقَالَ أَبِیْ: قَالَ الْأَشْجَعِیُّ: یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابو طالب بیمار ہو گیا اور قریشی اس کے پاس آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس کی تیمار داری کرنے کے لیے پہنچ گئے، اس کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، اتنے میں ابو جہل کھڑا ہو اور اس جگہ پر بیٹھ گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا شکوہ کرتے ہوئے کہا: ابو طالب! تیرایہ بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے، ابو طالب نے کہا: آپ کی قوم آپ کی شکایت کر رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے چچا جان! میں ان سے ایسا کلمہ پڑھوانا چاہتا ہوں کہ جس کے ذریعے عرب ان کے ماتحت ہو جائیں گے اور عجم ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ اس نے کہا: وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ یہ سن کر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: کیا اس نے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے؟ پھر یہ قرآن نازل ہوا: ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم! بلکہ کفار غرور و مخالفت میںپڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انھوں نے ہر چند چیخ و پکار کی، لیکن وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا، اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادو گر بہت جھوٹا ہے، کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا ہے، واقعییہ بہت ہی عجیب بات ہے۔(سورۂ ص: ۱ تا ۵)

10545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10545

Sahih

۔ (۱۰۵۴۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَمِّہِ: ((قُلْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ أَشْھَدُکَ بِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَیِّرَنِیْ قُرَیْشٌیَقُوْلُوْنَ: اِنَّمَا حَمَلَہُ عَلٰی ذٰلِکَ الْجَزْعُ، لَأَقْرَرْتُ بِھَا عَیْنَکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ} الْآیَۃ۔ (مسند احمد: ۹۶۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچے سے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، میں قیامت کے روز اس کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ انھوں نے کہا: اگر قریشی مجھے عار دلاتے ہوئے یہ نہ کہتے کہ بے صبری نے ابو طالب کو یہ کلمہ پڑھنے پر آمادہ کیا ہے تو میں یہ کلمہ ادا کر کے تیری آنکھ کو ٹھنڈا کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی اتاری: بیشک تو اس کو ہدایت نہیں دیتا، جس کو تو پسند کرتا ہے۔

10546

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10546

Sahih

۔ (۱۰۵۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ طَالِبٍ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنَّ عَمَّکَ الشَّیْخَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: ((اِذْھَبْ فَوَارِہِ، ثُمَّّ لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَأْتِیَنِیْ۔)) قَالَ: فَوَارَیْتُہُ ثُمَّّ اَتَیْتُہُ، قَالَ: ((اذْھَبْ فَاغْتَسِلْ، ثُمَّّ لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَأْتِیَنِیْ۔)) قَال: فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّّ آتَیْتُہُ، قَالَ: فَدَعَا لِیْ بِدَعْوَاتٍ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ لِیْ بِھَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُوْدَھَا، قَالَ: وَکَانَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِذَا اِغْتَسَلَ مَیِّتًا اِغْتَسَلَ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: جب ابو طالب فوت ہوا تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جا کر اس کو دفنا دے اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس آجانا۔ پس میں نے اس کو دفن کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جا اور غسل کر اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس پہنچ جا۔ پس میں غسل کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے حق میں ایسی ایسی دعائیں کیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ ان کی بجائے مجھے سرخ اور سیاہ اونٹ مل جائیں، اس کے بعد جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میت کو غسل دیتے تو اس سے خود غسل کرتے تھے۔

10547

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10547

Sahih

۔ (۱۰۵۴۷)۔ (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَلَیٍّ اَنَّہُ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْھَبْ فَوَارِہِ۔)) فَقَالَ: اِنَّہُ مَاتَ مُشْرِکًا، فَقَالَ: ((اذْھَبْ فَوَارِہِ۔)) فَلَمَّا وَارَیْتُہُ رَجَعْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((اغْتَسِلْ۔)) (مسند احمد: ۷۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: ابو طالب مر گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اس کو دفن کرو۔ انھوں نے کہا: وہ تو شرک کی حالت میں مرا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اس کو دفن کرو۔ پس میں نے اس کو دفن کیا، پھر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غسل کر لو۔

10548

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10548

Sahih

۔ (۱۰۵۴۸)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذُکِرَ عِنْدَہُ عَمُّہُ أَبُوْطَالِبٍ فَقَالَ: ((لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیُجْعَلُ فِیْ ضَحْضَاحِ مِنْ نَارٍ یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ یَغْلِیْ مِنْہُ دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ابو طالب کا ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ بروز قیامت ابو طالب کو میری سفارش سے فائدہ ہو اور اس کو جہنم کی ٹخنوں تک آنے والی آگ میں ڈالا جائے، جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔

10549

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10549

Sahih

۔ (۱۰۵۴۹)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَمُّکَ أَبُوْطَالِبٍ کَانَ یَحُوْطُکَ وَیَنْفَعُکَ؟ قَالَ: ((إِنَّہُ فِیْ ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ لَوْلَا أَنَا کَانَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا چچا ابو طالب آپ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ کو فائدہ پہنچاتا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے وہ ٹخنوں تک پہنچنے والی آگ میں ہو گا، اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میںہوتا۔

10550

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10550

Sahih

۔ (۱۰۵۵۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُوْطَالِبٍ وَھُوَ مُتَنَعَّلٌ نَعْلَیْنِ مِنْ نَارٍ یَغْلِیْ مِنْھُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمی لوگوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا، اس کو آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔