Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2092

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے

2 hadiths in this chapter

10537

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10537

Zaeef

۔ (۱۰۵۳۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَیْنَا الْکَعْبَۃَ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْلِسْ)) وَصَعِدَ عَلٰی مَنْکِبَیَّ فَذَھَبْتُ لِأَنْھَضَ بِہٖفَرَأٰی مِنِّی ضَعْفًا فَنَزَلَ وَجَلَسَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((اِصْعَدْ عَلٰی مَنْکِبَیَّ)) قَالَ: فَصَعِدْتُّ عَلٰی مَنْکِبِہٖ،قَال: فَنَھَضَبِیْ، قَالَ: فَاِنَّہُ یُخَیَّلُ اِلَیَّ أَنِّی لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَائِ حَتّٰی صَعِدْتُ عَلَی الْبَیْتِ وَعَلَیْہِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْنُحَاسٍ، فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُہُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ حَتّٰی اِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْذِفْ بِہٖ۔)) فَقَذَفْتُبِہٖ،فَتَکَسَّرَکَمَاتَتَکَسَّرُالْقَوَارِیْرُ، ثُمَّّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَسْتَبِقُ حَتّٰی تَوَارَیْنَا بِالْبُیُوْتِ خَشْیَۃَ أَنْ یَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے، یہاں تک کہ ہم کعبہ کے پاس پہنچے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے کندھے پر چڑھے، پھر میں نے اٹھنا چاہا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ میں کمزور ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے کندھے سے نیچے اتر گئے اور خود بیٹھ کر فرمانے لگے: علی! میرے کندھے پر چڑھ جا۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے پر چڑھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، مجھے یوں لگا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کے افق کو چھو لیتا، پس میں بیت اللہ کی عمارت پر چڑھ گیا، اس پر پیتلیا تانبے کا بنا ہوا مجسمہ تھا، میں نے اس کے دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے سے کوشش کی،یہاں تک کہ میں نے اس کو گرانے کی قدرت پا لی، اُدھر سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھینک دے اس کو۔ پس میں نے اس کو پھینکا اور وہ اس طرح ٹوٹا جیسے شیشے ٹوٹتے ہیں، پھر میں وہاں سے اترا اور میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز تیز چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم گھروں کے ساتھ چپ گئے، ہمیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی بندے سے ملاقات ہو جائے (اور ہمارا یہ راز فاش ہو جائے)۔

10538

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10538

Zaeef

۔ (۱۰۵۳۸)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: کَانَ عَلَی الْکَعْبَۃِ أَصْنَامٌ فَذَھَبْتُ لِأَحْمِلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ اَسْتَطِعْ، فَحَمَلَنِیْ فَجَعَلْتُ أَقْطَعُھَا وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَائَ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعبہ پر بت تھے، پہلے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اٹھانا چاہا تو مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اٹھایا اور میں نے ان کو توڑ دیا، اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔