Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2089

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا

6 hadiths in this chapter

10526

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10526

Zaeef

۔ (۱۰۵۲۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدٍ قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْھِمْ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ (فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ) ثُمَّّ قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُکُمَا عَنْہُ یَعْنِیْ عَمَّارًا، أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِذًا بِیَدِیْ نَتَمَشّٰی فِی الْبَطْحَائِ حَتّٰی أَتٰی عَلٰی أَبِیْہِ وَأُمِّہِ وَعَلَیْہِیُعَذَّبُوْنَ، فَقَالَ أَبُوْ عَمَّارٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلدَّھْرُ ھٰکَذَا؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اصْبِرْ۔)) ثُمَّّ قَالَ: ((اِغْفِرْ لِآلِ یَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ۔)) (مسند احمد: ۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض صحابہ کو بلایا، ان میں سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، … …، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم کو عمار کے بارے میں بتلاؤں، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں چلتے ہوئے آ رہا تھا، جبکہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ (سیدنایاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) اور ماں (سیدہ سمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمانہ اس طرح بھی ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: صبر کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آلِ یاسر کو بخش دے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔

10527

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10527

Sahih

۔ (۱۰۵۲۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا تَعْجَبُوْنَ کَیْفَیُصْرَفُ عَنْہُ شَتْمُ قُرَیْشٍ، کَیْفَیَلْعَنُوْنَ مُذَمَّمًا وَیَشْتُمُوْنَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ قریش کے گالی گلوچ کو مجھ سے کیسے دفع کر دیا جاتا ہے، وہ مُذَمّم پر لعنت کرتے ہیں، وہ تو مُذَمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں، میں تو محمد ہوں۔

10528

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10528

Sahih

۔ (۱۰۵۲۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَائَ جِبْرِیْلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَھُوَ جَالِسٌ حَزِیْنًا قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَائِ ضَرَبَہُ بَعْضُ أَھْلِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَقَالَ لَہْ: مَا لَکَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَہْ: ((فَعَلَ بِیْ ھٰؤُلَائِ وَفَعَلُوْا)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ جِبْرِیْلُ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِیَکَ آیَۃً؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَنَظَرَ اِلٰی شَجَرَۃٍ مِنْ وَرَائِ الْوَادِیْ فَقَالَ: ادْعُ بِتِلْکَ الشَّجَرَۃِ، فَدَعَاھَا فَجَائَ تْ تَمْشِیْ حَتّٰی قَامَتْ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: مُرْھَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَھَا فَرَجَعَتْ اِلٰی مَکَانِھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَسْبِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمزدہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر خون لگا ہوا تھا، کیونکہ بعض اہل مکہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مارا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ کاراوئی کی ہے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے وادی سے پرے ایک درخت کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اس درخت کو بلاؤ، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوبلایا اور وہ چلتا ہوا آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: اب اس کو حکم دیں کہ یہ لوٹ جائے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ لوٹ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔

10529

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10529

Sahih

۔ (۱۰۵۲۹)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ زِیَادٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحٰرِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیَّ حَدَّثَہُ: أَنَّہُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَہُ بِأَیْمَنَ وَفِئِۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ قَدْ حَلُّوْا أُزُرَھُمْ فَجَعَلُوْھَا مَخَارِیْقَیَجْتَلِدُوْنَ بِھَا وَھُمْ عُرَاۃٌ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَلَمَّا مَرَرْنَا بِھِمْ قَالُوْا اِنَّ ھٰؤُلَائِ قِسِّیْسُوْنَ فَدَعُوْھُمْ ، ثُمَّّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْھِمْ فَلَمَّا أَبْصَرُوْہُ تَبَدَّدُوْا فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضِبًا حَتّٰی دَخَلَ، وَکُنْتُ أَنَا وَرَائَ الْحُجْرَۃِ، فَسَمِعْتُہُ فَیَقُوْلُ: ((سَبْحَانَ اللّٰہِ، لَا مِنَ اللّٰہِ اسْتَحْیَوْا وَلَا مِن رَسُوْلِہِ اسْتَتَرُوْا۔)) وَأُمُّ أَیْمَنَ عِنْدَہُ تَقُوْلُ: اسْتَغْفِرْ لَھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَبِلَاْیٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا ایک دوست سیدنا ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہاں قریشیوںکے چند لوگوں نے اپنے ازار اتارے ہوئے تھے اور ان کو بٹ کر وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے، جبکہ وہ ننگے تھے، جب ہم لوگ اُن کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ہمارے بارے میں کہا: یہ پادری لوگ ہیں، چھوڑو ان کو، پھر اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لے آئے، جب انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو وہ تتر بتر ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں واپس آ گئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا، جبکہ میں حجرے کے پیچھے سے سن رہا تھا: سبحان اللہ! نہ ان لوگوں کو اللہ سے شرم آئی اور نہ ان لوگوں نے اس کے رسول سے پردہ کیا۔ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے لیے بخشش طلب کرو، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشقت اور تاخیر کے بعد ان کے لیے مغفرت طلب کی۔

10530

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10530

Sahih

۔ (۱۰۵۳۰)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ: قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ: کُنْتُ قَیْنًا بِمَکَّۃَ فَکُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، فَاجْتَمَعَتْ لِیْ عَلَیْہِ دَرَاھِمُ، فَجِئْتُ اَتَقَاضَاہُ، فَقَالَ: لَا أَقْضِیَنَّکَ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَکْفُرُ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَمُوْتَ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: فَاِذَا بُعِثْتُ کَانَ لِیْ مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنِّی اِذَا مِتُّ ثُمَّّ بُعِثْتُ وَ لِیَ ثَمَّ مَالٌ وَ وَلَدٌ فَأُعْطِیْکَ) قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی {أَفَرَأَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَأُوْتَیَنَّ مَالًا وَ وَلَدًا} حَتّٰی بَلَغَ {فَرْدًا} [مریم: ۷۷۔ ۸۰] (مسند احمد: ۲۱۳۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کفر نہیںکروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایکروایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔(سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰)

10531

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10531

Sahih

۔ (۱۰۵۳۱)۔ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ أَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَۃً لَہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَنَا وَاسْتَنْصِرْہُ، قَالَ: فَاحْمَرَّ لَوْنُہُ أَوْتَغَیَّرَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ کَانَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ حُفْرَۃٌ وَیُجَائُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُشَقُّ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْعَصَبٍ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ھٰذَا الْأَمْرَ حَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ مَا بَیْنَ صُنْعَائَ اِلٰی حَضَرَمَوْتَ لَایَخْشٰی اِلَّا اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ وَلٰکِنَّکُمْ تَعْجَلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ بات سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ سرخ ہوگیایا بدل گیا (راوی کو الفاظ کے متعلق شک ہے) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ تم سے پہلے تھے، ان کو گڑھے میں دبایا جاتا، پھر آری لا کر ان کے سر کو چیر دیا جاتا تھا،لیکن یہ تکلیف بھی ان کو اللہ تعالیٰ کے دین سے دور نہ کر سکی اور اسی طرح لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں سے گوشت اور پٹھوں کو نوچ لیا جاتا تھا،لیکن یہ آزمائش بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، سنو، اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک چلے گا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور اپنی بکریوں کے بارے میں بھیڑئیے سے ڈرے گا ، لیکن تم جلدی کرتے ہو۔