Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2080

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان

6 hadiths in this chapter

10474

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10474

Zaeef

۔ (۱۰۴۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ خَدِیْجَۃَ وَکَانَ أَبُوْھَا یَرْغَبُ عَنْ أَنْ یُّزَوِّجَہُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاھَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَیْشٍ فَطَعِمُوْا وَشَرِبُوْا حَتّٰی ثَمَلُوْا، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ لِأَبِیْھَا: اِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَخْطُبُنِیْ فَزَوِّجْنِیْ إِیَّاہُ، فَزَوَّجَھَا إِیَّاہُ، فَخَلَّقَتْہُ وَأَلْبَسَتْہُ حُلَّۃً وَکَذٰلِکَ کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ بِالْآبَائِ، فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ سُکْرُہُ نَظَرَ فَإِذَا ھُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ، فَقَالَ: مَا شَأْنِیْ! مَا ھٰذَا؟ قَالَتْ: زَوَّجْتَنِیْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: أُزَوِّجُ یَتِیْمَ أَبِیْ طَالِبٍ! لَا، لَعَمْرِیْ! فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَمَا تَسْتَحِْیْ؟ تُرِیْدُ أْنْ تُسَفِّہَ نَفْسَکَ عِنْدَ قُرَیْشٍ! تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّکَ کُنْتَ سَکْرَانَ؟ فَلَمْ تَزَلْ بِہٖحَتّٰی رَضِیَ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کیا، ان کا باپ ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کرنے کی رغبت نہیں کرتا تھا، پس سیدہ نے کھانا پینا تیار کیا اور اپنے باپ اور قریشیوںکے ایک گروہ کو دعوت دی، پس انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا،یہاںتک کہ ان کو نشہ آ گیا، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے باپ سے کہا: بیشک محمد بن عبداللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا ہے، لہٰذا آپ ان سے میری شادی کر دیں، پس اس نے نشے کی حالت میں شادی کر دی، سیدہ نے اپنے باپ کو خلوق خوشبو لگائی اور اس کو ایک پوشاک بھی پہنا دی، وہ لوگ جاہلیت میں دلہن کے باپ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے، جب اس کانشہ ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی ہے اور ایک پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی ہے، اس نے کہا: میری کیا صورتحال ہے، یہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: آپ نے محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شادی کر دی ہے، اس نے کہا: میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں، نہیں، میری عمر کی قسم! نہیں، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ اب قریشیوں کے ہاں اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کرنا چاہتے ہو، تم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے ہو کہ تم نشے کی حالت میں تھے؟ پس وہ اس کے ساتھ چمٹی رہیں،یہاں تک کہ وہ راضی ہوگیا۔

10475

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10475

Sahih

۔ (۱۰۴۷۵)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ وَذَکَرَ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَالَ: فَھَدَمَتْھَا قُرَیْشٌ وَجَعَلُوْا یَبْنُوْنَھَا بِحِجَارَۃِ الْوَادِی تَحْمِلُھَا قُرَیْشٌ عَلٰی رِقَابِھَا فَرَفَعُوْھَا فِی السَّمَائِ عِشْرِیْنَ ذِرَاعًا، فَبَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ حِجَارَۃً مِنْ أَجْیَادٍ وَعَلَیْہِ نَمِرَۃٌ فََضَاقَتْ عَلَیْہِ النَّمِرَۃُ فَذَھَبَ یَضَعُ النَّمِرَۃَ عَلٰی عَاتِقِہِ فَیُرٰی عَوْرَتُہُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَۃِ ، فَنُوْدِیَیَا مُحَمَّدُ! خَمِّرْ عَوْرَتَکَ، (وَفِیْ رِاوَیَۃٍ: فَنُوْدِیَ لَاتَکْشِفْ عَوْرَتَکَ فَأَلْقَی الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَہُ) فَلَمْ یُرَ عُرْیَانًا بَعْدَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ جاہلیت میں کعبہ کی تعمیر کا ذکر کر رہے تھے، انھوں نے کہا: قریش نے کعبہ کو گرایا اور پھر اس کو وادی کے پتھروں سے بنانا شروع کیا، وہ اپنی گردنوں پر پتھر اٹھا کر لاتے، انھوں نے عمارت کو بیس ہاتھ بلند کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دھاری دار چادر باندھی ہوئی تھی، وہ چادر تنگ تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہا تو اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پردے کے مقامات نظر آنے لگے، کسی نے آواز دی: اے محمد! اپنی شرمگاہ پر پردہ کرو، ایک روایت میں ہے: پس آپ کو آواز دی گئی: اپنی شرمگاہ کو ننگا نہ کرو، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پتھر پھینک دیا اور چادر باندھ لی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔

10476

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10476

Sahih

۔ (۱۰۴۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْقِلُ مَعَھُمْ حِجَارَۃً الْکَعْبَۃِ وَعَلَیْہِ إِزَارٌ، فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ عَمُّہُ: یَا ابْنَ أَخِیْ لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَکَ فَجَعَلْتَہُ عَلٰی مَنْکِبَیْکَ دُوْنَ الحِجَارَۃِ، قَالَ: فَحَلَّہُ فَجَعَلَہُ عَلَی مَنْکِبَیْہِ فَسَقَطَ مَغْشِیًّا عَلَیْہِ فَمَا رُؤِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ عُرْیَانًا۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے ساتھ کعبہ کے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تہبند باندھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بھتیجے! اگر تم اپنا ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو تو اچھا ہو گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جونہی ازار کھول کراپنے کندھے پر رکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔

10477

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10477

Sahih

۔ (۱۰۴۷۷)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ مُوْلَاہُ یَعْنِی السَّائِبَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ حَدَّثُہُ أَنَّہُ کَانَ فِیْمَنْیَبْنِی الْکَعْبَۃَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، قَالَ: وَ لِی حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّہُ بِیَدَیَّ أَعْبُدُہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، فَاَجِیْئُ بِاللَّبَنِ الْخَائِرِ الَّذِیْ اَنْفِسُہُ عَلَی نَفْسِیْ فَأَصُبُّہُ عَلَیْہِ فَیَجِیْئُ الْکَلْبُ فَیَلْحَسُہُ ثُمَّّ یَشْغَرُ فَیَبُوْلُ، فَبَنَیْنَا حَتّٰی بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ وَمَا یَرَی الْحَجَرَ أَحَدٌ، فَاِذَا ھُوَ وَسْطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ یَکَادُیَتَرَائٰی مِنْہُ وَجْہُ الرَّجُلِ فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَیْشٍ: نَحْنُ نَضَعُہُ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: نَحْنُ نَضَعُہُ، فَقَالُوْا: اجْعَلُوْا بَیْنَکُمْ حَکَمًا، فَقَالُوْا: اَوَّلُ رَجُلٍ یَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: أَتَاکُمُ الْأَمِیْنُ، فَقَالُوْا لَہُ: فَوَضَعَہُ فِیْ ثَوْبٍ ثُمَّّ دَعَا بُطُوْنَھُمْ فَأَخَذُوْا بِنَوْاحِیْہِ مَعَہُ فَوَضَعَہُ ھُوَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سائب بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی دورِ جاہلیت میں کعبہ کو تعمیر کرنے والوں میں تھے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک پتھر تھا، میں اپنے ہاتھوں سے اس کو تراشتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا، میں اپنے نفس پر جس جمے ہوئے دودھ کا بخل کرتا تھا، وہ لا کر اس بت پر بہا دیتا تھا، پھر کتا آ کر اس کو چاٹتا اور پھر ایک ٹانگ اٹھا کر اس پر پیشاب کر دیتا۔ پس جب ہم بیت اللہ کی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے اور کوئی آدمی حجرِ اسود کو نہیں دیکھ رہا تھا، جبکہ وہ پتھروں کے درمیان میںآدمی کے سر کی طرح پڑا ہوا تھا اور (اتنا چمکدار تھا کہ) اس میں آدمی کا چہرہ نظر آ جاتا تھا، قریش کے ایک بطن (چھوٹے قبیلے) نے کہا: ہم اس پتھر کو اپنی جگہ پر نصب کریں گے، دوسرے لوگوں نے کہا: ہم رکھیں گے، پھر انھوں نے کہا: تم آپس میں ایک آدمی کو بطورِ فیصل منتخب کر لو، پھر انھوں نے کہا: جو پہلا اس کھلے راستے کی طرف سے آئے گا، وہ فیصلہ کرے گا، اتنے میں وہاں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمودار ہوئے، سب نے کہا: امین آ گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پتھر کو ایک کپڑے میں رکھا اور پھر ان کے قبیلوں کو بلایا، انھوں نے اس کپڑے کے کونے پکڑ کر اس کو اٹھایا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔

10478

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10478

Sahih

۔ (۱۰۴۷۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنَائَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: حَدَّثَتْنِیْ خَالَتِیْ عَائِشَۃُ (أُمُّ الْمُؤُمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیْثُ عَھْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاھِلِیَّۃٍ لَھَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ فَأَلْزَقْتُھَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَھَا بَابَیْنِ، بَابًا شَرْقِیًّا وَبَابًا غَرْبِیًّا، وَزِدْتُ فِیْھَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرَیْشًا اِقْتَصَرَتْھَا حِیْنَ بَنَتِ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا شرک یا جاہلیت کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیتا، دروازے کو زمین سے ملا دیتا اور دو دروازے بناتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ اس میں اضافہ کر دیتا، کیونکہ قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا۔

10479

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10479

Sahih

۔ (۱۰۴۷۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا حَدَاثَۃُ عَھْدِ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ ثُمَّّ جَعَلْتُھَا عَلٰی اُسِّ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَإِنَّ قُرَیْشًایَوْمَ بَنَتْھَا اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَھَا خَلْفًا، وَقَالَ اَبُوْ اُسَامَۃَ: خِلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا اور میں اس کا پیچھے سے بھی ایک دروازہ رکھ دیتا۔