Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 17 · Chapter 146

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان

4 hadiths in this chapter

783

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #783

Sahih

۔ (۷۸۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ ہِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَنَّ بُسْرَۃَ بِنْتَ صَفْوَانَؓ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَن مَسَّ ذَکَرَہُ فَلَا یُصَلِّ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ بسرہ بن صفوانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے، جب تک وضو نہ کر لے۔

784

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #784

Sahih

۔ (۷۸۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَجَدتُّ فِی کِتَابِ أَبِیْ بَخَطِّ یَدِہِ، ثَنَا أَبُوالْیَمَانِ قَالَ: أَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِیُّ أَ نَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ:ذَکَرَ مَرْوَانُ فِی اِمَارَتِہِ عَلٰی الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ یُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اِذَا أَفْضَی الرَّجُلُ بِیَدِہِ، فَأَنْکَرْتُ ذَالِکَ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: لَا وُضُوئَ عَلٰی مَنْ مَسَّہُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِیْ بُسْرَۃُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ مَا یُتَوَضَّأُ مِنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَیُتَوَضَّأُ مِن مَسِّ الذَّکَرِ۔)) قَالَ عُرْوَۃُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِیْ مَرْوَانَ حَتّٰی دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِہِ فَأَرْسَلَہُ اِلٰی بُسْرَۃَ یَسْأَلُہَا عَمَّا حَدَّثَتْ مِنْ ذَالِکَ، فَأَرْسَلَتْ اِلَیْہِ بُسْرَۃُ بِمِثْلِ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ عَنْہَا مَرْوَانُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۳۸م)

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر کہتے ہے: جب مروان مدینہ منورہ پر حکمران تھا، اس دوران اس نے ذکر کیا کہ جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ شرمگاہ کو لگا دے گا تو وہ وضو کرے گا، لیکن میں نے اس کی اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ شرمگاہ کوچھونے والے پر کوئی وضو نہیں ہے۔ مروان نے کہا: سیدہ بسرہ ؓ نے مجھے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نواقضِ وضو ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بھی فرمایا تھا: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ لیکن مروان سے میرا مجادلَہُ جاری رہا، یہاں تک کہ اس نے اپنے محافظوں میں سے ایک آدمی کو بلا کر اسے سیدہ بسرہؓ کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں پوچھ کر آئیں، جو اس نے اس (مروان) کو بیان کی تھی، سیدہ بسرہ ؓ نے جواباً وہی حدیث ذکر کی،جو مروان نے مجھے ان کے واسطے سے بیان کی تھی۔

785

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #785

Sahih

۔ (۷۸۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ بِمِثْلِہِ وَفِیْہِ: فَذَکَرَ الرَّسُوْلُ أَ نَّہَا تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَن مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اس میں ہے: قاصد نے بتلایا کہ سیدہ بسرہؓ یہ بیان کر رہی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔

786

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #786

Sahih

۔ (۷۸۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِـعٍ)۔ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَ نَّہُ سَمِعَہُ مِنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَہُوَ مَعَ أَبِیْہِ یُحَدِّثُ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَہُ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) قَالَ: فَأَرْسَلَ اِلَیْہَا رَسُوْلًا وَأَ نَا حَاضِرٌ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَجَائَ مِنْ عِنْدِہَا بِذَاکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چوتھی سند)عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ تھے، کہ مروان نے اس کو سیدہ بسرہ بنت صفوان ؓکی وساطت سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔ پھر مروان نے اس کی طرف قاصد بھیجا، جبکہ میں موجود تھا، سیدہ ؓ نے جواباً کہا: جی ہاں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے ہی فرمایا تھا)، پس قاصد ان کے پاس سے وہی بات لے کر آیا۔