Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 169 · Chapter 2055

گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان

قصہ گوہ لوگوں کا بیان

7 hadiths in this chapter

10422

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10422

Sahih

۔ (۱۰۴۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَاِذَا کَعْبٌ یَقُصُّ فَقَالَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: کَعْبٌ یَقُصُّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَقُصُّ اِلَّا اَمِیْرٌ، اَوْ مَاْمُوْرٌ، اَوْ مُخْتَالٌ۔)) قَالَ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ کَعْبًا فَمَا رُؤِیَیَقُصُّ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد الجبار خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ سیدنا کعب وعظ کر رہے تھے، اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وعظ کر رہے ہیں، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قصے بیان نہیں کرتا مگر امیر،یا مامور،یا متکبر۔ جب یہ بات سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معلوم ہوئی تو اس کے بعد ان کو وعظ کرتے ہوئے نہیں پایا گیا۔

10423

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10423

Sahih

۔ (۱۰۴۲۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُصُّ عَلَی النَّاسِ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُرَائٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو قصے بیان نہیں کرتا، مگر امیر،یا ما مور، یا ریاکار۔

10424

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10424

Sahih

۔ (۱۰۴۲۴)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِّیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَقُصُّ عَلَی النَّاسِ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُخْتَالٌ (وَ فِیْ لَفْظٍ) لَایَقُصُّ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُتَکَلِّفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں سے قصہ گوئی نہیں کرتا، مگر امیریا مامور یا متکبر، ایک روایت میں ہے: وعظ نہیں کرتا مگر امیریا مامور یا تکلف کرنے والا۔ اس جگہ قصہ گوئی سے مراد وعظ و نصیحت کرنا ہے۔ اسی لیے وعظ و نصیحت کرنے والے کو قاصٌ کہتے ہیں۔

10425

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10425

Zaeef

۔ (۱۰۴۲۵)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: اِنَّہُ لَمْ یَکُنْیُقَصُّ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ لَا اَبِیْ بَکْرٍ، وَ کَانَ اَوَّلُ مَنْ قَصَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ، اِسْتَاْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنْ یَقُصَّ عَلَی النَّاسِ قَائِمًا فَاَذِنَ لَہُ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانوں میں قصے بیان نہیں کیے جاتے تھے، سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا، انھوں نے پہلے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لوگوں پر کھڑے ہو کر قصے بیان کرنے کے لیے اجازت طلب کی، پس انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔

10426

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10426

Zaeef

۔ (۱۰۴۲۶)۔ حَدَّثَنَا ھَاشِمٌ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ کُرْدُوْسَ بْنَ قَیْسٍ، وَ کَانَ قَاصَّ الْعَامَّۃِ بِالْکُوْفَۃِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ بَدْرٍ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاَنْ اَقْعُدَ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا الْمَجْلِسِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ: اَیُّ مَجْلِسٍ تَعْنِیْ؟ قَالَ: کَانَ قَاصًّا۔ (مسند احمد: ۱۵۹۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ کردوس بن قیس، جو کہ کوفہ میں عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اصحاب ِ بدر میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس قسم کی مجلس میں بیٹھنا مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد کون سی مجلس ہے؟ اس نے کہا: وعظ و نصیحت والی مجلس۔

10427

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10427

Sahih

۔ (۱۰۴۲۷)۔ قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ، سَمِعْتُ مُصْعَبَ نِ الزُّبَیْرِیَّ قَالَ: جَائَ اَبُوْطَلْحَۃَ الْقَاصُّ عَلٰی مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! اِنَّ قَوْمًا قَدْ نَھَوْنِیْ اَنْ اَقُصُّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ صَلَی اللّٰہُ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ وَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہِ وَ عَلَی اَزْوَاجِہِ فَقَالَ مَالِکٌ: حَدِّثْ بِہٖوَقُصَّبِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۶۷۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مصعب زبیری کہتے ہیں: قصہ گو ابو طلحہ نے امام مالک بن انس ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌سے پوچھا: اے ابو عبد اللہ! بعض لوگوں نے مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے منع کیا ہے: اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت بھیجے، بیشک تو تعریف کیا ہوا اور برزگی والا ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت پر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں پر؟ امام مالک نے کہا: تو اس حدیث کو بیان کر۔

10428

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10428

Zaeef

۔ (۱۰۴۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی قَاصٍّ یَقُصُّ فَاَمْسَکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُصَّ فَلاَنْ اَقْعُدَ غُدْوَۃً اِلٰی اَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ، وَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے، وہ قصہ گوئی کر رہا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر رک گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قصہ گوئی کرو، اگر میں نماز فجر سے طلوع آفتا ب تک ایسی مجلس میں بیٹھوں تو یہ مجھے چار گردنیں آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو گا، اگر میں عصر سے غروب ِ آفتاب تک بیٹھوں تو یہ عمل بھی مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہو گا۔